روس سیاسی حل کے راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے،شامی اپوزیشن

روس سیاسی حل کے راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے،شامی اپوزیشن

دمشق(این این آئی)شام کی سپریم کونسل برائے مذاکرات کے ترجمان ریاض نعسان آغا نے جامع فائر بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور اورروس پر معاملے کے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام کے مشرقی شہر حلب پر شدید گولا باری، فضائی حملوں اور شدید ترین محاصرے کی وجہ سے روس اور مغرب کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ روس، شامی حکومت کا سیاسی اور فوجی اتحادی ہے۔تازہ ترین اختلاف کی صورت روسی وزیر خارجہ سرگئی رلاروف کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے یو این ایلچی اسٹیفن دی میستورا پر الزام لگایا ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے سلسلے میں مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔شامی اپوزیشن لاروف کے نئے موقف کو مذاکرات معطل کرنے کا بہانہ قرار دے رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حلب میں جامع فائر بندی کا اعلان کیا جائے۔لڑائی میں شدت اور بمباری میں اضافے نے جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کو مجبور کیا ہے کہ وہ فضائی حملے روکنے کے لئے آواز بلند کریں تاکہ عبوری مرحلے کے معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ادھر کے صدر فرنسوا اولاند نے شامی حکومت کے حامیوں یعنی روسی کے ساتھ براہ راست اور دوٹوک مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میدان جنگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں حلب کے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے کی اپیلوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...