آتشزدگی کی آڑ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا

آتشزدگی کی آڑ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا

تل ابیب (این این آئی) اسرائیلی حکومت دوسرے ممالک کی مدد کے باوجود فلسطین کے شمالی اور وسطی شہروں میں لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو نہ پاسکی، صہیونی انتظامیہ نے آتشزدگی کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کو انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے آگ لگانے کے شبے میں سے 22فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے 1948ء کے دوران صہیونی ریاست کے قبضے میں چلے جانیوالے علاقوں میں اسرائیلی پولیس کے کریک ڈاؤن میں 22فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔اسرائیل میڈیا اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی فلسطینیوں کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے آگ لگنے کے واقعات کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ آگ لگانے میں ملوث افرادکوسخت سزائیں دی جائیں گی، ان لوگوں کو اس اقدام کی قیمت چکانا ہوگی،صہیونی میڈیا نے آتشزدگی کو دانستہ سازش قرار دیتے ہوئے فلسطینی شہریوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی مذموم مہم شروع کی ہے۔اسرائیلی پولیس کے انسپکٹر جنرل رونی الشیخ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آتشزدگی کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لئے گئے فلسطینیوں سے پوچھ گچھ جاری ہے ۔صہیونی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کا واقعہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں اسرائیل میں 220 مقامات پر آگ دانستہ طور پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لگائی گئی ہے۔نطف اور شمالی شہر الخلیل میں اب بھی کئی مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جبکہ شمالی شہرحیفہ کے جنگلات میں لگی آگ پرقابوپالیاگیا ہے۔ عبرانی ریڈیو کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ شمالی فلسطین کے علاقے’زخرون یعقوب‘ میں آتشزدگی کے نتیجے میں مزید 30 مکانات نذر آتش ہوگئے ہیں۔ جبکہ کئی یہودی آباد کار زخمی بھی ہوئے ہیں۔آگ شمالی فلسطین سے نکل کر مقبوضہ مغربی کنارے علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ رام اللہ کے قریب واقع ’دولیو‘ یہودی کالونی میں آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد یہودی آباد کاروں کے جھلسنے کی اطلاعات ملی ہیں۔آتشزدگی پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد بڑی تعداد میں یہودی آباد کاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ تقریبا 50 ہزار افراد کوآتشزدگی کے باعث دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ آگ لگنے کے باعث دوجیلیں بھی خالی کرا لی گئیں۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...