الیکشن مستعفی ہونے کیلئے نہیں لڑا تھا ، ترقی کا سفر مکمل کرینگے :نواز شریف ، اشک آباد ،لیپز لالازولی راہداری منصوبوں میں شمولیت کا اعلان

الیکشن مستعفی ہونے کیلئے نہیں لڑا تھا ، ترقی کا سفر مکمل کرینگے :نواز شریف ، ...

 اشک آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) وزیراعظم نوازشریف نے ایک بار پر عہدے سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن مستعفی ہونے کیلئے نہیں لڑا تھا،ہم قوم کو سی پیک جیسے منصوبے دینے آئے ہیں ، کسی کی خواہش پر ترقی کا سفر ادھورا نہیں چھوڑیں گے ۔اشک آباد میں ناشتے کی میز پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ہم نے مشرف کی نگران حکومت کے الیکشن میں حصہ لیا جس کی کنگز پارٹی ق لیگ تھی،اپنے کاغذات مسترد ہونے کے باوجود5سال ایسا کچھ نہیں کیا جس سے جمہوریت ڈی ریل ہوتی،جو تحریک چلائی اور لانگ مارچ کیا وہ بھی عدلیہ کی آزادی کیلئے تھا،2013 میں ہم نے کامیابی کے باوجود اقتدار پر اقدار کو ترجیح دی ،بلوچستان میں نیشنل پارٹی کو موقع دیا،کے پی میں تحریک انصاف کے راستے میں روڑے نہیں اٹکائے ،پیپلز پارٹی اب 90کی دہائی کو طرف لوٹ رہی ہے،میثاق جمہوریت ٹھیک طور پر نہیں چل سکا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے استعفے کا مطالبہ بلا جواز ہے ۔ہم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ استعفے دے کر گھر چلے جائیں ۔ہم نے الیکشن مستعفی ہونے کیلئے نہیں قوم کی خدمت کیلئے لڑا تھا اور یہ فریضہ پورا کرتے رہیں گے، ہم قوم کو سی پیک جیسے میگا پراجیکٹ دینے آئے ہیں ، کسی کی خواہش پر ترقی کا سفر ادھورا نہیں چھوڑیں گے ۔انھوں نے کہا کہ مجھ سے کئی بارکہا گیا کہ استعفیٰ دے دوں جب کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ چلے، ملک اس طرح چلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے جس طرح 70سال سے چلایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے 2008میں اس وقت کے آمر صدر پرویز مشرف کی نگران حکومت کے ماتحت ہونے والے الیکشن میں حصہ لیا جس کی مسلم لیگ(ق) کے نام پر اپنی کنگز پارٹی تھی ۔ہم نے اس کے باوجود نتائج کو تسلیم کیا حالانکہ میرے اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دئیے گئے اس کے باوجود ہم نے پانچ سال ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے جمہوریت ڈی ریل ہو تی،ہم نے دھاندلی کا رونا رویا نہ کسی سے استعفیٰ مانگا۔ہم نے عدلیہ کی بحالی کیلئے تحریک چلائی اور لانگ مارچ کیا، اس کے لیے جتنا بھی کریڈٹ دیں کم ہے ۔اس وقت پنجاب حکومت معطل تھی ہم نے اس کے باوجود اپنی حکومت کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا اور جس جگہ عدلیہ کو بحال کرنے کا اعلان ہوا وہیں سے پر امن طور پر واپسی کا راستہ اختیار کیا۔انھوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہمیں اللہ نے کامیابی سے نواز ا تب بھی ہم نے اقتدار پر اقدار کو فوقیت دی اور اپنی حکومت بنانے کی صلاحیت کے باوجود بلوچستان میں نیشنل پارٹی کو موقع دیا،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے راستے میں روڑے نہیں اٹکائے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔ہم اب بھی اقدار کے فروغ کے حامی ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک جماعت کی سیاست کی وجہ سے ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی طرزسیاست پراس کانام لیے بغیرنکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت ٹھیک طور پر نہیں چل سکا۔ پاکستان کواسی طرح چلانے کے متحمل نہیں ہو سکتے جس طرح 70سال سے چلایا جارہاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی 90کی دہائی کی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا ۔بعدازاں علاقائی روابط کیلئے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فرو غ کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کے اشک آباد اور لیپز لازولی راہداری منصوبوں کاحصہ بننے کااعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ ا س سے پاکستان کو یورپ سمیت مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی ملکوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی،مشترکہ کوششوں سے ہی خطے میں امن ، سلامتی اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، ہم خطے کے وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ماحول قائم کررہے ہیں ، پرامن ہمسائیگی ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، ہمیں تنہا کرنے کے دعوے حسرت میں بدل گئے ، دنیا خود چل کر پاکستان کے پاس آنے لگی ،ایران کے بعد روس بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شمولیت کا خواہشمند ہے یہ منصوبہ جنوبی ایشیاء ،وسط ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کوباہم منسلک کردے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کے مختلف ملکوں کے ساتھ تجارتی راہداری کے معاہدے ہیں، پاکستان اشک آباد اور لیپز لازولی راہداری میں شامل ہو گا ،اشک آباد معاہد ے سے پاکستان کو اومان، ایران، ازبکستان اور ترکمانستان تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ لیپز لازولی معاہدے سے پاکستان کو بذریعہ روڈ ترکی اور یورپ تک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اشک آباد اور لیپز لازولی معاہدوں میں شامل ہونے کے دیگر معاملات کو مکمل کرنے کیلئے انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو رکن ممالک سے بات چیت کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہترین مواصلاتی نظم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا لہٰذا ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ کے شعبے پر توجہ دی جارہی ہے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی پاکستان کی ترجیح ہے، 2030 کے وژن کے تحت ہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ، پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری ہے اپنی ترجیحات کو نظر میں رکھتے ہوئے پاکستان،واہگہ بارڈر، طورخم اور چمن سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کررہا ہے جبکہ پاکستان ریلوے کو اپ گریڈ کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو اقتصادی مواقع میں بدلنا چاہتا ہے چین کے ایک خطہ ایک سڑک کے وژن کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں مشترکہ کوششوں سے ہی خطے میں امن ، سلامتی اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امن اورترقی ایک دوسرے منسلک ہیں امن کے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، پرامن ہمسائیگی پاکستان کی پالیسی کا اہم جزو ہے تاہم ہمیں تنہا کرنے کے دعوے حسرت میں بدل گئے ، دنیا خود چل کر پاکستان کے پاس آنے لگی، ایران کے بعد روس بھی سی پیک میں شمولیت کا خواہشمند ہے ہم خطے کے وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ماحول قائم کررہے ہیں،اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے کے دیگرممالک بھی مستفیدہوں گے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 13نومبر 2016 کو سی پیک کے تحت گوادر سے پہلا تجارتی بحری جہاز روانہ کیا گیا، سی پیک منصوبے کے ذریعے خطہ وسط ایشیا ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی سے منسلک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی منظرنامے میں پاکستان کیلئے وسطی ایشیا تک راہداری کے طور پر کردار ادا کرنا باعث مسرت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاپی اور کاسا 1000ہزار منصوبے توانائی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں،خطے میں علاقائی رابطوں کو مربوط بنانا ہماری پالیسی کا حصہ ہے اور پاکستان کی مربوط رابطوں کی پالیسی کے فوائد پورے خطے کو حاصل ہوسکتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ترکمانستان کے صدر قربان علی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...