کیلیفورنیا ،مسجد کو دھمکی آمیز خط موصول،مساجدکی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

کیلیفورنیا ،مسجد کو دھمکی آمیز خط موصول،مساجدکی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) کیلیفورنیا کی ایک مسجد کو ایک نفرت انگیز دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے جس کے بعد اسلامی تنظیم ’’کائر‘‘ نے مساجد کی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ’’کونسل اون امریکن اسلامک ریلیشنز‘‘ (کائر) کی سان فرانسسکو شاخ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سان جوز میں واقع ایور گرین اسلامک سنٹر کو ڈاک میں ہاتھ سے لکھا ہوا نامعلوم ذریعے سے خط ملا ہے جس میں مسلمانوں کو شیطان کی اولاد اور زہریلے اور گندے لوگ قرار دیا گیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنا سامان باندھ کر فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ خط میں نامزد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ امریکہ کو صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ ہر کام مسلمانوں سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محبت وطن امریکیوں کیلئے ایک بہت عظیم لمحہ ہے۔ ’’کائر‘‘ کی مقامی شاخ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر زہرہ بلو نے اپنے فوری ردعمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کے لیڈروں کیساتھ کام کرتے ہوئے تمام عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے کیلیفورنیا ریاست کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیلیفورنیا ریاست اور ملک بھر میں ’’اسلام فوبیا‘‘ کی اس لہر کے خلاف آواز بلند کریں۔ امام مسجد نے نفرت انگیز خط کو کھولنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی جس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مسجد کو حفاظت میں لے لیا۔ کاؤنٹی سپروائزر نے اس واقع کی پوری تفتیش کرنے اور مسلم کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔ اس دوران واشنگٹن میں ’’کائر‘‘ کے ہیڈ کوارٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت ابھارنے والے افراد کی سرکوبی کرے اور تمام مساجد کی سکیورٹی میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہیڈ کوارٹر کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ 8 نومبر کو ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ملک بھر میں سو سے زائد مسلم مخالف واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سان فرانسسکو کی ساحلی پٹی میں ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں مختلف اقلیتی گروہوں کو نشانہ بنانے والے سات سو سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں۔ جس اسلامک سنٹر کو دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے اس کے بورڈ چیئرمین فیصل یزدی نے ’’این بی سی‘‘ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ انہیں اس خط سے تکلیف ضرور ہوئی ہے لیکن حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ قوم کو تقسیم کرنے والے انتخابی سیزن میں جو کشیدگی بڑھی ہے، اس میں ایسی باتوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔

مسجد کو دھمکی

مزید : صفحہ آخر