ججز فیصلے کرنے میں غلطی کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کر دیں، عابد حسن منٹو

ججز فیصلے کرنے میں غلطی کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالتوں کا ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کی 150سالہ تقریبات کے سلسلے میں قانون کی حکمرانی کے عنوان سے منعقدہ ضلعی عدلیہ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر قانون دان عابد حسن منٹو نے کہا کہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کہتے ہیں کہ جرگے غلط ہیں مگر یہ آج بھی کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی 150سالہ تقریبات کسی انفرادی شخص کی نہیں بلکہ یہ ایک ادارے کی تقریبات ہیں جس کا وکلاء بھی حصہ ہیں اور اسی وجہ سے میں نے اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کیا، انہو ں نے قانون کی حکمرانی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں ان قوانین کی مخالفت کی جو انسانی حقوق کے خلاف تھے، اگر دیکھا جائے تو مارشل لاء خود بھی ایک قانون ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قانون کی حکمرانی ہو، انہوں نے کہا کہ مارشل لاء کے دور میں بار نے سیاستدانوں کو بولنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا، ہم نے مارشل لاء کی مخالفت کی مگر عدالتوں کو تالہ نہیں لگایا اور اب بار اور بنچ کے درمیان کشمکش سمجھ سے بالا تر ہے ، عابد حسن منٹو ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مانتے ہیں کہ ججز فیصلے کرنے میں غلطی کرتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کر دیں اس کے حل کے کئی طریقے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...