افغان طالبان قیادت پاکستان سے افغانستان منتقل ہو گئی: امریکی میڈیا

افغان طالبان قیادت پاکستان سے افغانستان منتقل ہو گئی: امریکی میڈیا

واشنگٹن(اے این این)امریکی میڈیانے دعویٰ کیاہے کہ افغان طالبان کے رہنما ء پاکستان سے غالباً افغانستان منتقل ہو چکے ہیں ۔امریکی خبررساں ادارے ’’اے پی ‘‘کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاکہ افغان طالبان کی قیادت یہ چاہتی ہے کہ رواں برس حاصل کی گئی عسکری کامیابیوں میں مزید تیزی لانے کے لیے افغانستان پہنچ کر وہیں سے ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے۔ اگر ان خبروں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے مقابلے میں طالبان کی عسکری خود اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا ایک مقصد پاکستان سے خود کو دور کرنا ہے کیونکہ افغان عسکریت پسندوں کی اس تحریک کی حمایت کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاکہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد افغان طالبان کی قیادت پاکستان کے کوئٹہ، کراچی اور پشاور جیسے شہروں میں مقیم رہی اور وہیں سے وہ افغانستان میں عسکری کارروائیوں کی نگرانی کرتی رہی تھی۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت اور شوری گزشتہ چند ماہ سے افغانستان منتقل ہو چکے ہیں تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے یہ نہیں بتایا کہ اعلی طالبان رہنما افغانستان میں کس مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔ امریکی خبررساں ادارے نے طالبان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ طالبان شوری جنوبی صوبے ہلمند منتقل ہوئی ہے۔ ہلمند کو طالبان کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے جبکہ وہاں پوست کی کاشت اور فروخت سے حاصل ہونے والی بھاری رقم یہ عسکریت پسند اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ افغان طالبان ہی کے ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ اس تحریک کی انصاف، بھرتی اور مذہبی امور کی کونسلیں بھی اب جنوبی افغانستان منتقل ہو چکی ہیں۔ادھر افغان صدر اشرف غنی کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب تک طالبان کی اعلی قیادت کی افغانستان منتقلی سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ صدر غنی کے دفتر کے ایک ترجمان نے الزام عائدکیاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان اب بھی بیرون ملک اپنے محفوظ ٹھکانوں سے ہی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اس منتقلی سے کابل حکومت آگاہ ہے، کیونکہ میدان جنگ میں طالبان نے کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کابل حکومت سے بات چیت کے اعتبار سے ایک مضبوط پوزیشن میں آ چکے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...