سٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا احتجاج، شرح سود 5.75فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

سٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا احتجاج، شرح سود 5.75فیصد کی سطح پر برقرار ...

کرا چی ( آئی این پی ) سٹیٹ بنک پاکستان نے شرح سود 5.75فیصدکی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے،سٹیٹ بنک نے کہاہے کہ مہنگائی اکتوبر 2015ء میں 1.6فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2016ء میں 4.2فیصد ہوگئی ہے، اجناس کی قیمتوں استحکام ہے ،قلیل مدت میں مہنگائی کا یہ قابل انتظام ماحول نمو کی موجودہ رفتار کے لیے اچھا شگون ہے، توقع ہے کہ مالی سال 17ء میں بہتر مجموعی رسد بڑھتی ہوئی ملکی طلب کو بہترطور پر پورا کرسکے گی تاہم تیل کی بین الاقوامی قیمت مہنگائی کو متاثر کرسکتی ہے،اگرچہ امریکی معیشت کے لیے نمو کے امکانات مثبت ہیں تاہم امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کی بنا پربین الاقوامی مالی منڈیوں اور عالمی تجارت کے حوالے سے غیریقینی کیفیت موجود ہے،پاکستان کی ریاستی درجہ بندی میں حالیہ بہتری کے ساتھ سرکاری رقوم کی آمد سے زرِ مبادلہ کے ذخائر قائم رہنے کی توقع ہے۔ ہفتہ کو سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کئے گئے زرعی پالیسی بیان کے مطابق مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت میں اکتوبر 2015ء کے دوران پست ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اضافے کا رجحان ہے جس میں کبھی کبھار موسمی انحرافات آتے رہے ہیں۔ اس متوقع اضافے کی وضاحت اجناس کی قیمتوں میں قبل ازیں بہت کمی کے بعد استحکام، تیل کی قیمتوں کے دورِ ثانی کے اثرات کے بتدریج خاتمے اور ملکی طلب میں کسی قدر اضافے سے ہوتی ہے۔ سال بسال مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت اکتوبر 2015ء میں 1.6فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2016ء میں 4.2فیصد ہوگئی ہے۔ ۔2016ء میں عالمی نمو کا منظر نامہ ملاجلا ہے۔ اگرچہ امریکی معیشت کے لیے نمو کے امکانات مثبت ہیں تاہم امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کی بنا پربین الاقوامی مالی منڈیوں اور عالمی تجارت کے حوالے سے غیریقینی کیفیت موجود ہے۔تاہم گذشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان نے مسلسل بیرونی بفرز اکٹھا کیے ہیں جس کی وجہ سے بیرونی غیریقینی کیفیات کے خلاف اس کی لچک بہتر ہوگئی ہے۔ اس کی عکاسی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح سے ہوتی ہے جو چار ماہ سے زائد کی متوقع درآمدی ادائیگیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کی ریاستی درجہ بندی میں حالیہ بہتری کے ساتھ سرکاری رقوم کی آمد سے زرِ مبادلہ کے ذخائر قائم رنے کی توقع ہے۔ تاہم مالی سال17ء کی بقیہ مدت میں غیرتجارتی رقوم کاغیریقینی ہونا جاری کھاتے پر بالخصوص اور بیرونی شعبے پر بالعموم اثر انداز ہوگا۔ مذکورہ بالا معاشی حالات کے پیش نظر اور تفصیلی سوچ بچار کے بعد زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 5.75فیصدکی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...