ہیلتھ کنئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے: شہباز شریف

ہیلتھ کنئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے: شہباز شریف

لاہور(سٹی رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے ترکی کی وزارت صحت کے اعلی سطح کے وفد نے ملاقات کی۔ جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران پنجاب حکومت اور ترک وزارت صحت کے مابین ہیلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے پر تیزرفتاری سے عملدر آمد پر اتفاق ہوا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ترک وزارت صحت کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی وزارت صحت کیساتھ طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں ہیلتھ کےئرسسٹم کو تیزی سے بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے اورہیلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے معاہدے پر عملدر آمد میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدر آمد کیلئے کورگروپ تشکیل دے دئیے گئے ہیں اورانہیں ذمہ داریاں بھی تفویض کردی گئی ہیں۔جدید ٹیکنالوجی اور ترک مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کے ہیلتھ کےئر سسٹم کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔معاہدے کے تحت ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم اورپبلک ہیلتھ ایجنسی کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ترکی میں اپنائے گئے ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے ماڈل سے استفادہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کا ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم شاندار ہے اوراسے پنجاب کے ہسپتالوں میں بھی اپنائیں گے۔پنجاب کے ہیلتھ کےئر سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے ترک بھائیوں کے تعاون پران کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے کم سے کم وقت میں جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی بہتری کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے پر تیزرفتاری سے آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کے 36اضلاع میں سی ٹی سکین مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔تمام اضلاع میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی سے عوام کو ان کی دہلیز پر سی ٹی سکین کی سہولت ملے گی۔سی ٹی سکین کی سہولت 24گھنٹے دستیاب ہو گی جس سے خلق خدا کو بے پناہ فائدہ ہوگا۔پنجاب کے ہیلتھ کےئر سسٹم میں بہتری کیلئے پنجاب حکومت کی ٹیم کے ساتھ ملکر روڈ میپ تیار کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے نظام میں بہتری لانے کیلئے مرحلہ وارپروگرام پر عمل کیا جائے گا۔انشاء اللہ ہماری مشترکہ کاشوں سے ہیلتھ کےئر سسٹم میں بہتری کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ترک وزارت صحت کے وفدنے وزیراعلیٰ کی خیریت دریافت کی اوران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مشیرصحت خواجہ سلمان رفیق،پارلیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر،خواجہ احمد حسان،ایڈیشنل چیف سیکرٹری،چےئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، صدرپی کے ایل آئی پروفیسر ڈاکٹر سعید اختراورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی ۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، ملکی معاملات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر بھارتی افواج کی جانب سے بدترین مظالم اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیری عوام اور شہداء کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معصوم کشمیری عوام پر بھارتی افواج کے مظالم حد سے بڑھ چکے ہیں۔ اقوام عالم کے ضمیر کو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا ساتھ دینے کیلئے جاگنا ہوگا۔ پاکستان کشمیری بہن بھائیوں کی اخلاقی،سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرتقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور تنازعہ کشمیر کا حل خطے میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نفاق کی نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف اورمولانا فضل الرحمن نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اورایک دوسرے کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ تاریخ کا دھارا موڑ دے گا اورپاکستان سمیت پورا خطہ اس عظیم منصوبے سے مستفید ہو گا۔ سی پیک نے پاکستان سمیت خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کا ون بیلٹ ون روڈ کا وژن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک کے منصوبوں میں دلچسپی خوش آئند امر ہے۔ ہمارے دوست سی پیک سے خوش جبکہ دشمن منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مکمل کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر