وزیراعظم مکمل مشاورت سے فیصلے کرتے ہیں آرمی کے اعلیٰ عہدوں پر بھی مشورہ کیا

وزیراعظم مکمل مشاورت سے فیصلے کرتے ہیں آرمی کے اعلیٰ عہدوں پر بھی مشورہ کیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں یہ اعتراض مسلسل کیا جاتا ہے کہ وہ فیصلوں میں تاخیرکرتے ہیں، حزب اختلاف خصوصاً تحریک انصاف کی طرف سے الزام لگایا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کی سرپرستی میں حکومت احتساب کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کررہی ہے، جہاں تک فیصلوں میں تاخیر کا سوال ہے تو یہ بات اس حد تک درست ہے کہ وزیر اعظم بہت سے امور میں خود دیر کرتے ہیں اور اب شاید ان کی عادت بن گئی ہے کہ ایسے عمل سے وہ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں، اب چیف آف آرمی سٹاف کے تقرر ہی کے بارے میں غور کرلیں تو یہی عمل دہرایا گیا ہے، آج پاک فوج کے دونوں بڑے عہدوں پر تقرر ہوگیا۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی سابقہ تاریخ اور ان کو جاننے والوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں تو حتمی ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے دل میں رکھتے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مشاورت کر رہے ہیں اور اس کے بعد اعلان ہوگا تو یہ بھی غلط نہیں کہ وہ مشاورت ضرور کرتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے۔

حالات کے حالیہ رخ کی وجہ سے وزیر اعظم بہت مطمئن ہیں اور اسی اطمینان کی وجہ ہے کہ حال ہی میں انہوں نے سیاست اور محاذ آرائی پر بھی کھل کر بات کی۔ وہ ترکمانستان کے دورے سے واپس آگئے ہیں اور یہ گفتگو وہاں ہوتے ہوئے کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک جماعت 90کی دہائی والی سیاست کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی 90کی سیاست کی طرف مڑ رہی ہے، وزیر اعظم نے یہ گفتگو اشک آباد( ترکمانستان)ہی میں کی ہے اور بہت واضح طور پر کہا مجھ سے استعفیٰ مانگا جاتا ہے، ہم عوامی ووٹ لے کر اسمبلیوں میں آئے ہیں، استعفیٰ دینے کے لئے نہیں۔جہاں تک افواہ ساز فیکٹریوں، لطیفہ گو اور نام نہاد پیش گوئیوں کا تعلق ہے تو قریباً سبھی نے ان کے جانے کی بات کی تھی لیکن وہ تو ابھی موجود ہیں ان سب کی باتیں غلط ثابت ہوگئی ہیں، بلکہ بقول سید خورشید شاہ وزیر اعظم تو پہلے سے زیادہ با اعتماد ہو گئے ہیں۔

بات مکمل کرنے سے قبل ایک اور خبر پر تبصرہ ضروری ہے، برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی ہائیڈ پارک مشہور ہے۔ ہائیڈ پارک میں ہر کوئی اپنے خیالات کا اظہار کرسکتا ہے اور اسے کوئی کچھ نہیں کہتا، صرف ملکہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ہائیڈ پارک ایک وسیع تاریخی تفریحی پارک ہے، اس میں ایک کونہ ہے جسے ’’سپیکرز کا رنر‘‘ کہتے ہیں، یہاں جس کا جی چاہتا، سٹول یا کرسی میز لے کر آتا اور تقریر شروع کردیتا ہے، سننے والے کم ہوں یا زیادہ اس سے فرق نہیں پڑتا، ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین تین، چار چار لوگ بھی خطاب کر رہے ہوتے ہیں، اب ڈی ،سی،او لاہور نے عدالت عالیہ کے حکم کی روشنی میں لاہور کے ناصر باغ کو جلسوں اور دھرنوں کے لئے مختص کیا اور پورے شہر میں جلسے، جلوسوں، دھرنوں اور مظاہروں کی ممانعت کردی ہے کہ جگہ جگہ خصوصاً فیصل چوک اور شملہ پہاڑی کے سامنے دھرنوں اور احتجاج کی وجہ سے ٹریفک بہت بری طرح متاثر ہوتی تھی، عوام بہت پریشان تھے، اب یہ جگہ مختص ہو گئی ہے اور قواعدو ضوابط بھی بتا دیئے گئے ہیں جن کے مطابق جلسے، مظاہرے اوردھرنے کے لئے دس روز پہلے درخواست دے کر اجازت لینا ہوگی، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ تنظیموں کے تصادم نہ ہوں، یوں ہمارے دوستوں نے اسے ہائیڈ پارک قرار دے دیا ہے، توقع ہے کہ اس پر عمل درآمد بھی ہو جائے گا کہ جواباً رضا مندی بھی دے دی گئی ہے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...