مودی کے ہاتھ میں وہ لکیر نہیں کہ پاکستان کا پانی بند کر سکے ،ہم اس کی سانس بند کردیں گے :سراج الحق

مودی کے ہاتھ میں وہ لکیر نہیں کہ پاکستان کا پانی بند کر سکے ،ہم اس کی سانس بند ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم ایسا نظام اور معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ایک انسان دوسرے کا محتاج نہ ہو ایک ایسی دنیا جس میں غربت اور جہالت نہ ہو ،ایک خاندان اور پارٹی دوسروں کا استحصال نہ کرے ،جہاں کرپشن اور رشوت عام نہ ہو،بستیوں شہروں میں امن وسکون عام ہوجائے ،عوام کے بچوں کو انصاف اور امن ملے ،قائد اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ میں مدینہ کی طرح اسلامی ریاست بناؤں گا، ہم بھی اس ملک میں اسلامی شریعت قائم کریں گے ،پاکستان میں حکمرانی صرف عوام کی ہوگی ،مودی کے ہاتھ میں وہ لکیر نہیں کہ پاکستان کا پانی بند کرسکے ۔آرمی چیف کی آئین اور ضابطے کے تحت رخصتی اورنئے آرمی چیف کا تقرر خوش آئند ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مزار قائد کے پہلو میں باغ جناح کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کے تحت دوروزہ سندھ ورکرز کنونشنکے پہلے دن اپنے خطاب میں کیا ۔ کنونشن میں کراچی سمیت اندرون سندھ سے ہزاروں مرد وخواتین شریک ہیں ۔ کنونشن اتوار کے روز بھی جاری رہے گا ۔کنونشن کے پہلے دن انٹرنیشنل سیشن بھی ہوا جس کی صدارت جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن نے کی جبکہ ابتدائی سیشن میں امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔ انٹر نیشنل سیشن میں حماس کے سربراہ خالد مشعل ، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر بد ر الاسلام ، ترک حکمران پارٹی کے رہنما برہان قایہ ترک کے ویڈیو پیغام بھی سنایا گیا اور کشمیری حریت رہنما و حزب المجاہدین کے سربراہ پیر سید صلاح الدین ، علماء کونسل کے صدر مولانا ظفر آزاد اور جماعت اسلامی پاکستان کے نگراں امور خارجہ عبد الغفار عزیز نے بھی خطاب کیا ۔ ابتدائی سیشن سے جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمد حسین محنتی ، پروفیسر نظام الدین میمن اور مولانا عطاء اللہ رؤف نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض جماعت اسلامی سندھ کے سکریٹری ممتاز حسین سہتو نے انجام دیے ۔سراج الحق نے کہا کہ کل مودی نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ میں پاکستان کا پانی بند کروں گا ، آج میں شہر کراچی میں اور خاص کر قائد اعظم کے مزار کے قریب موجود ہوں اورپاکستان کا وہ صوبہ جو باب الالسلام ہے جہاں کے چپے چپے پر محمدبن قاسم کے نشانات ہیں بھارتی وزیر اعظم نرندر مودی کو جواب دینا چاہا ہو ں کہ تمہارے ہاتھ میں وہ لکیر نہیں کہ تم پاکستان کا پانی بند کرسکو، تم پاکستان کا پانی بند کرو گے تو سن لو ہم تمہاری سانس بند کریں گے۔زمانہ گزر گیا حالات تبدیل ہو گئے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری قوم کی ماؤں کی گود میں ایک نہیں کروڑوں محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی جیسے نوجوان اور بچے موجود ہیں اور مودی نے کوئی مہم جوئی کی تو ا ن شاء اللہ پاکستانیوں کے ٹکر سے تمہاری تکبر اور غرور کا سومنات پاش پاش ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنرل راحیل شریف سلیقے کے ساتھ ریٹائرڈ رخصت ہوگئے اور نیا آرمی چیف کو ایک طریقے اور ضابطے کے ساتھ مقرر کردیا گیا ہے ،ہم اس سلیقے اور طریقے کے ساتھ اس تبدیلی کو خوش آئند سمجھتے ہیں امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ آرمی چیف اور بحیثیت فوج ادارہ فوج کا ماٹو ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ چلے گا ۔انہوں نے کہا کہ یہ کنونشن صوبہ سندھ کا جرگہ ہے ،سندھ ورکرز کنونشن میں ہزاروں کی تعداد میں مرد وخواتین کی شرکت پر جماعت اسلامی کے صوبہ سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ،امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن اورپوری ٹیم کو مبارک باد دیتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تاریخی کنونشن ہے ،تبدیلی اورانقلاب ہے اور اس کا یہی پیغام ہے کہ اٹھو میرے دنیا کے غریبوں کو جگا دو خاکِ امراء کے درو دیوار کو ہلا دو ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نظام اور معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ایک انسان دوسرے کا محتاج نہ ہو ایک ایسی دنیا جس میں غربت اور جہالت نہ ہو ،ایک خاندان اور پارٹی دوسروں کا استحصال نہ کرے ،جہاں کرپشن اور رشوت عام نہ ہو، ایک ایسی دنیا جس میں نیکی کرنا آسان ہو بدی کرنا مشکل ہو ،سود کے دروازے بند ہوجائیں اورنکاح کرنا آسان ہو بدی کے سارے راستے بند ہوجائیں ،غریبوں کی جھونپڑیاں بھی روشن ہوجائیں ،بستیوں شہروں میں امن وسکون عام ہوجائے ،عوام کے بچوں کو انصاف اور امن ملے ،چاندی جیسا دودھ اور صاف پانی میسر ہو ،ہم ایسی دنیا کی تلاش میں نکلے ہیں جہاں اللہ کاحکم ہو،انصاف کا بول بالا ہو ،کتاب اور میزان کی حکومت ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جو بستی بسائی ہے یہ محبتوں کی بستی ہے جہاں ہر طرح اور ہر رنگ کے پھول موجود ہیں یہ ایک خوبصورت گلدستہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کے دشمنوں کے دشمن اوردوستوں کے دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریاتی لوگ ہیں اوررنگ و نسل اور مسلک سے بالاتر ایک امت کے ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جوڑنا چاہتے ہیں ایک کرنا چاہتے ہیں ہم نفرتیں ار دوریاں پھیلا کے بجائے ہم خوشبو اور اخوت و محبت پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا جہاد اور لڑائی ظلم جہالت کمیشن خور، رشوت خور، رجعت پسند طبقوں کے خلاف استحصالی طبقوں کے خلاف ہے لینڈ مافیا ڈرگ مافیا قاتلوں کے ساتھ لڑائی ہے آج کی یہ بستی بہت مبارک بستی ہے نئے عزم اور جذبے کے ساتھ پاکستان کو منزل تک پہناچانا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام سیاست ،معیشت گھر کا مسئلہ بازار کامسئلہ ،حکومت کا مسئلہ ،امن کا مسئلہ اورجنگ کا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ تمام آسمانی کتب اور انبیاء کا پیغام یہی ہے کہ سانس بھی لینا ہے تو اللہ کی بندگی کے ساتھ ،حکومت بھی کرنی ہے تو اللہ کی بندگی کے ساتھ اور شریعت کے ساتھ ،عیار دشمن اسلام کو تقسیم کرنا چاہتا ہے کہتا ہے یہ صوفی اسلام سیاسی اسلام ہے اسلام نہ سیاسی ہے نہ صوفی ہے اسلام نہ شرقی ہے نہ غربی ہے اسلام اللہ کا کلمہ اللہ کا دین ہے جس طرح اللہ ایک ہے اسی طرح اللہ کا دیا ہوا نظام بھی ایک ہے جس طرح اللہ میں کوئی عیب نہیں وحدہ لا شریک ہے اس طرح اسلام اس کا دین ہے ہر عیب سے پاک ہے جس طرح اللہ ہمارے لیے کافی ہے اس طرح اسلام بھی کافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے تجربات کر لیے گزشتہ صدیوں میں سرمایانہ دارانہ نظام انسانوں نے دیکھا چند سرمایہ داروں نے انسان کو گھوڑے ،بیل اوربکری کی طرح ہکایا ،بچوں اور خواتین تک کو نہیں بخشا پھر اس استحصالی نظام کی ری ایکشن دونوں نظاموں نے کچھ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہٹلر اور مارکس اور میسو لینی اورلینن کا نظام ناکام ہوا ہے اوربش اوراوبامہ کا نظام بھی ناکام ہو گیا۔ان نظاموں نے انسانوں کو کپڑوں سے محروم کیا ،روحانی سکون ختم کیا اور رشتے ختم خاندانی نظام ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آج بھی ان کی شرارت ہے شام اور عراق جل رہا ہے ،کشمیر جل رہا فلسطین جل رہا ہے ،آج اگر اس دنیا میں دہشت گردی ہے تو انہی کا تحفہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کی ترقی میں ان کے عالی شان میناروں میں مسلمانوں کا ایشیاء کے مسلمانوں کا افریقہ کے مسلمانوں کا چوری کا مال ہے جو یہ ساتھ لے گئے تھے ۔یہ تو ان حکومتوں کو فرض تھا سلطان ٹیپو کے تخت کا مطالبہ کریں ،کوہ نور ہیرے کا مطالبہ کریں،ہم حکومت میں آئے گے تو تخت سلطان ٹیپو اوراپنی امانتوں کو واپس لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں انگریز آیا مسلمانوں کی حکومت ختم کی ،کشمیر کے معاملے میں ڈنڈی ماری مسئلہ کشمیر کا ذمہ دار برطانیہ ہے جس نے اس کو متنازع بنایا آج اگر کشمیر میں ہماری ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں کے ساتھ ان کے جگر گوشوں کو قتل کیا جا رہا ہے اس میں انڈیا کا ہاتھ ہے اوربرطانیہ بھی شریک جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بینکوں سے قرضے لیے ہماری دولت پر سیاست کار سرمایہ کار بن گئے ہر ادارے میں جھانک کر دیکھیے ان ہی لوگوں کی اولاد نظر آئے گی چینلز کی اسکرین پر وہی لوگ نظر آتے ہیں ،مارشل لاء ہوتو تب بھی ان کے وارے نیارے نام نہاد جمہوریت ہوتو تو بھی وارے نیارے ہیں ،کیا قائد اعظم نے ان کے لیے پاکستان بنایا ۔۔۔؟؟؟انہوں نے کہا کہ انگریزوں اورہندوں کو شکست دے کر پاکستان بنایا گیا ،قائد اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ میں مدینہ کی طرح اسلامی ریاست بناؤں گا، ہم بھی اس ملک میں اسلامی شریعت قائم کریں گے ،پاکستان میں حکمرانی صرف عوام کی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اللہ کی نعمت ہے ایک زرعی ملک ہے اس کی مٹی سونا اگلتی ہے ستر فیصد عوام زراعت سے منسلک محنتی ،جفاکش ہیں کسان غلے کے انبار کا ڈھیر لگاتا ہے اورخود بھوکا سوجاتا ہے اورخاندان مقروض ہوجاتا ہے ۔اندرون سندھ جاکر دیکھے کسانوں کے ہاتھوں سود اور قرض میں بندھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یشیا کی سب سے بڑیا اسٹیل مل تباہی و بربادی سے دوچار ہے ،ملازمیں کو 9 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ،اسٹیل مل خسارے میں لیکن میں حیران ہوں کہ حکمرانوں کی اسٹیل مل مسلسل ترقی کررہی ہے ۔سید منور حسن نے انٹر نیشنل سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 100سال اسلامی تحریکوں کے آگے بڑھنے اور پیش رفت کرنے کے سو سال ہیں اور اس پورے عرصے میں مغرب نے اسلام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ اور لٹریچر پیدا کیا اسلامی تحریکوں نے اس کا ہر طرح سے جواب دیا ہے اور دلائل اور تجزیہ کے ساتھ جواب دیا ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد میں یکسوئی اور اطمینان پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ ہپ تلوار سے پھیلا اور یہ کہ مسلمان تشدد پسند اور انتہا پسندہیں لیکن اسلامی تحریکوں نے اس الزام کا بھی ہر سطح پر جواب دیا اور اس کو غلط ثابت کیا اور اکیڈمی کے طور پر مغرب کو اس حوالے سے شکست ہوئی ہے ۔ اس پورے عمل میں جہادی تحریکوں نے بھی اپنا مؤثر اور مثبت کردار اد اکیا ہے ۔ افغانستان کے اندر یہ ثابت ہوا کہ ساری سائنس ، ٹیکنالوجی جذبوں اور حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتی ۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام کی فطرت ہے کہ اسلام گالب ہونے کے لیے آیا ہے اور یہ بات مغرب اور اسلام کے دشمن بھی اچھی طرح جانتے ہیں ۔تمام اسلامی تحریکوں نے اس بات کو سیکھا ہے جو مولانا مود ی نے کہی ہے کہ ضابطوں اور قاعدوں کو کبھی نظر اندا زنہ کیا جائے ۔ اسلامی تحریکوں سے ان کا مقصد ، نصب العین اور منشور تک چھین لینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اسلامی تحریکوں نے حقیقت میں ان کوششوں اور سازشوں کو بھی ناکام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیسوی صدی کا سب سے بڑا جھوٹ جارج بش نے بولا تھا کہ عراق کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں اور اس جھوٹ میں ٹونی بلیئر بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تحریک ہمیشہ ایک نظریے اور تہذیب کی طرف بلاتی ہیں اور اسوۃ رسول ؐ کی صورت میں ہمارے پاس ہر طرح کی اور مکمل رہنمائی اور ہدایات موجود ہیں ۔ اسلامی تحریکیں معاشرے کا دل ہوتی ہیں اور ان پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہیں ۔ جسم کے اندر بہت سے اعضاء ہوتے ہیں لیکن اس کے اندردل سب سے اہم ہے اسی طرح معاشرے کے لیے اسلامی تحریکیں بہت اہم ہیں ۔برصغیر کے معاشرے میں دعوت و تبلیغ کا کام تو ہر دور میں رہا ہے لیکن صرف دعوت و تبلیغ محض کوئی بڑی اور مؤثر تبدیلی نہیں لاسکتی جب تک کے اس کے ساتھ ہجرت اور جہاد شامل نہ ہو ۔ مکہ کے اندر دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ استعمال کیا گیا مگر جب مدینہ ہجرت کی گئی اور جہا د کا علم بلندکیا گیا تو پورا عالم عرب تبدیلیل کی راہ پر چل پڑا اور مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی ۔فلسطین میں اسرائیل کے خلاف برسر پیکارحماس کے سربراہ خالد مشعل نے عربی میں اپنا خطاب کیا جس کا ترجمہ کیا جس کا ترجمہ جماعت اسلامی کے نگراں امور خارجہ عبد الغفار عزیز نے اردو میں ترجمہ کیا ۔ خالد مشعل نے کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ جاری ہے اور فلسطینی مسلمانوں پر جنگ مسلط ہے ۔ غزہ کے مسلمانوں نے حماس کا انتخاب کیا ہے۔ فلسطین کے مسلمان پاکستان کے سمیت پوری امت کے مسلمانوں سے مدد اور دعاؤں کے طلبگار ہیں ۔ ہماراز عزم ہے کہ ہم بیت المقدس سے یہودیوں کا قبضہ ضرور ختم کرائیں گے اور ان شاء اللہ قبلہ اول میں ضرور نماز ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کی بات کی ہے اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں پر مظالم ہوئے ان کے حق میں آواز بلندکی ہے اور مظلوم کا ساتھ دیا ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت اسلامی کو کامیابی سے نوازے اور یہ کلمے کی سربلندی کی جدوجہد جاری رہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے بڑا گہرا اور قدیم رشتہ اور تعلق ہے ۔ سید مودودی نے بھی ہر موقع پر فلسطینی مسلمانوں کا ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور اس کی ایک نظریاتی شناخت ہے اس لیے پاکستان کے خلاف بھی سازشیں ہورہی ہیں ۔فلسطینی مسلمان اہل پاکستان سے خصوصی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط اور مستحکم ہو اور ترقی کرے ۔جماعت اسلامی پاکستان کے نگراں امور خارجہ عبد الغفار عزیز نے مصر ،شام ، عالم عرب اور امت مسلملہ کے عمومی حالات پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اسرائیل کا صدر بھارت کا دورہ کررہا ہے تو دوسری جانب ترکی کے صدر طیب رجب اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا ۔ عالم اسلام کے خلاف عالم کفر نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مصر، فلسطین اور بنگلہ دیش میں اسلامی تحریکوں کو رہائشی جبر و تسلط اور سرکاری دہشت گردی کا سامنا ہے اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد کا حوصلہ بلند اور جواں ہے۔ترکی کی حکمران پارٹی کے رہنماء برہان قایہ ترک نے اپنے پیغام میں کہا کہ صدر طیب اردگان ملک کے عوام کے محبوب ترین رہنماء ہیں۔ پوری ترک قوم ان کے ساتھ ہے ۔18جولائی کو جب ترک حکومت کے خلاف سازش کی گئی تو ترکی کی عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور سینے پر گولیاں کھا کر اس سازش کو ناکام بنایا ۔مصر میں اخوان المسلمون پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھی ترک صدر نے آواز اُٹھائی اور ان کی بھر پور مدد کی ۔اسی طرح فلسطینی مسلمانوں کی بھی ہم نے مسلسل حمایت جاری رکھی ہے اور جب غزہ کا مکمل محاصرہ کیا گیا تو ترک نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور مختلف طریقوں سے فلسطینی مسلمانوں کی مدد کی ۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنماء بد الاسلام نے کہاکہ بھارت کی ایماء پر حسینہ واجد حکومت مظالم ڈھارہی ہے اور ایک کے بعد ایک رہنما کو پھانسی دی جارہی ہے ۔ہماری قیادت کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ہزاروں کارکنوں کو زخمی اور گرفتار کیا جاچکا ہے ۔انتقامی کاروائیوں اور مظالم کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور نام نہاد ٹریبونل کے ذریعہ سزاؤں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے لیکن ہمارا عزم اور حوصلہ پست نہیں ہوا ہے ۔جماعت اسلامی کو کمزور یا ختم نہیں کیا جاسکتا ۔کشمیر کے حریت رہنما اور حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا کہ بھارت خواہ کتنے ہی مظالم ڈھالے، کشمیریوں کو زیادہ عرصے تک اپنے تسلط میں نہیں رکھ سکتا ۔ 27اکتوبر 1947سے مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے تسلط جمایا ہوا ہے اور عوام غاصب افواج سے پنجہ آزمائی کررہے ہیں ۔ کشمیریوں کا واحد مطالبہ ہے کہ ہمیں حق خود ارادیت دیاجائے ۔ عالمی برادری ،اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور کشمیریوں کے ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا ہے ۔ کشمیری عوام بھارت کی غلامی قبول کرنے کے بجائے پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں اور کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ 14اگست کو یوم سیاہ بناتے ہیں۔ برہان مظفر وانی کی حالیہ شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جذبہ آزادی اور شوق شہادت کی نئی اور توانا لہر پیدا ہوئی ہے اور مسلسل کرفیو کے باوجود کشمیری سراپا احتجاج ہیں ۔ کشمیرعوام اپنا حق لے کر رہیں گے ۔ پاکستان کے حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پر جرات مندانہ اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے ۔ سید صلاح الدین نے کہا کہ ہم غزوہ ہند کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں ،غزوہ ہند کے نتیجے میں ہی جنت ارض کشمیر غلامی سے نجات حاصل کرے گا اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا ۔علماء کونسل کے صدر مولانا ظفر آزاد نے برما میں اراکان مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم او ربدھسٹ حکمرانوں اور افواج کی حالیہ کاروائیوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا برما میں مسلم نوجوانوں اور علمائے کرام کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے اور فوجی کاروائیوں میں مسلم آبادیوں کو گھیر گھیر کر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔گھروں کو آگ لگائی جارہی ہے ،خواتین ،بزرگوں اور بچوں سمیت مسلمانوں کو بے گھر اور دخل کیا جارہا ہے اور 70سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں مسلم آبادیوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے ۔اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر اس نسل کشی میں کوئی آواز نہیں اُٹھارہا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اسلام کے حکمران اس مسئلے کو اُٹھائیں اور فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے اور مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے کی کوشش کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور ہمارے حق میں آواز اُٹھائی ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔قبل ازیں کنونشن کے سے پہلے امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کیا جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے اقامت دین پر مطالعہ حدیث ، نظام الدین میمن نے درس قرآن اور مولانا عطاء اللہ رؤف نے سنت رسولؐ ہی عروج کا راستہ ہے کے موضوع پر تقریر کی۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ آج سندھ بھر کے ہزاروں مرد وخواتین نے مزار قائد کے پہلو میں جمع ہوکر اتحاد و یکجہتی کا ثبو ت دیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت اسلامی ہی سند ھ کے عوام کو نفرت اور دوریوں ، مایوسیوں اور مسائل سے نجات دلاسکتی ہے ۔ جماعت اسلامی تعصبات سے بالاتر ہوکر عوا م کو کلمے کی بنیاد پر جمع ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔ سندھ کے عوام برسوں سے شدید مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ پورا سندھ موئن جو دڑو کا منظر پیش کررہا ہے اور کراچی کو ورلڈ بنک نے دنیا کے 10ناقابل رہائش شہروں میں سے ایک قرار دیا ہے، سندھ کے عوام کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا کوئی انتظام نہیں ہے اور یہ سب کرپٹ ظالم حکمرانی کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج سندھ ورکرز کنونشن میں سندھ میں رہنے والے اور ہر زبان بولنے والے شریک ہیں ، سب بھائی بھائی ہیں اور سندھی اجرک کی موجودگی پورے سندھ کے لیے اخوت اور محبت کا پیغام ہے ۔ جماعت اسلامی سندھ کے مظلوم عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ جماعت اسلامی کا دامن کرپشن سے پاک ہے اور آج جماعت اسلامی نے یہ کنونشن کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ ایک منظم اور مؤثر جماعت ہے ۔ ورکرز کنونشن سندھ کے عوام کو نیا حوصلہ اور عزم دے گا اور یہاں سے جانے والے اس پیغام کو لے کر جائیں گے کہ سندھ کو اور پورے پاکستان کو اسلامی اور خوشحال بنانے کی جدوجہد مزید بہتر کی جائے گی ۔ حافظ نعیم الرحمن جو پورے کنونشن کے ناظم اجتماع ہیں نے شرکاء کو باغ جناح میں دو دن قیام اور ان کے لیے کیے گئے انتظامات و تیاریوں کے حوالے سے ضروری ہدایات دیں اور کہا کہ جماعت اسلامی کراچی نے سندھ کے عوام کے لیے اپنی میزبانی حق پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور اس وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک چھوٹی سی عارضی بستی بسائی ہے ۔ محبت اور اخوت ہی ہمارا پیغام ہے ۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی صوفی اور محبت کے شاعر ہیں ۔ جماعت اسلامی پوری امت کے ایک ہونے کے نظریے اور عقیدے پر یقین رکھتی ہے اور ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کی عقیدت و محبت اور پیروی کے مرکز و محور کی طرف بلاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جماعت کا پہلا اورنیا تجربہ ہے لیکن ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ تمام ضروری انتظامات اور سہولتیں مہیا کی جائیں ۔ یہاں ہمیں ایثار اور قربانی سے کام لینا ہے ہم جماعت اسلای کراچی کی طرف سے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔

سراج الحق

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...