کے ایم یو ،آئی بی ایم ایس کے زیر اہتمام سہ روزہ کانفرنس اختتام پذیر

کے ایم یو ،آئی بی ایم ایس کے زیر اہتمام سہ روزہ کانفرنس اختتام پذیر

پشاور( سٹاف رپورٹر)کے ایم یو۔آئی بی ایم ایس اور پاکستان ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹ کے اشتراک سے منعقد ہونے والی تین روزہ 39ویں سالانہ کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس میں80تحقیقی مقالوں کے علاوہ سائنٹیفک سیشنز کے تحت دس ورکشاپس منعقد کی گئیں۔کانفرنس کی خاص بات مختلف اداروں کی جانب سے مختلف سائنسی اورتحقیقی آلات پر مبنی بیس سٹالز کا لگایا جاناتھا۔ اختتامی سیشن سے آغاخان یونیورسٹی کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر عافیہ ظفر نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ تین دن تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ملک بھر سے سینکڑوں طبی ماہرین کی شرکت سے نہ صرف طبی تحقیقی کو فروغ ملے گا بلکہ اس سے نت نئے پیچیدہ طبی مسائل کی نشاندہی اورتشخیص میں بھی ملے گی۔ انہوں نے کانفرنس کے بہترین انتظامات پر کے ایم یو کی انتطامیہ اور سٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی کانفرنسز کاانعقاد اگر ایک طرف پیتھالوجی کے اہم شعبے کی ترویج وترقی کاباعث بنے گا تودوسری طرف اس پلیٹ فارم سے نوجوان محقیقین کو تحقیق کے میدان میں سینئر ماہرین کے تجربات سے استفادے کی راہیں بھی کھلیں گی۔ تقریب سے پاکستان ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹ کی صدر پروفیسر ڈاکٹر فریدہ نصیر اورایسوسی ایشن کے سال2018 کے لئے نومنتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر غلام سرور پھر کانی،نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم خٹک اورآئی بی ایم ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس کانفرنس کا آٹھ سال بعد پشاور میں انعقاد ہم سب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس دسمبر2014کو پشاور میں منعقد ہوناتھی لیکن اس سال اے پی ایس کے اندوہناک واقعے کے نتیجے میں یہ کانفرنس ملتوی کردی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد سے جہاں اس کے منتظمین کوحوصلہ ملا ہے وہاں اس سے دنیا بھر کو بھی یہ پیغام گیاہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگ نہ صرف امن پسند ہیں بلکہ وہ علم وتحقیق کے میدان میں ملک کے کسی بھی حصے سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے میں علم و تحقیق کے سلسلے کو اسی جوش وجذبے سے جاری رکھاجائے گا۔آخر میں مہمان خصوصی نے کانفرنس کے منتظمین اور سٹالز میں اول، دوم اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والے اداروں میں توصیفی سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے۔#

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر