خواتین پر تشدد کے حوالے سے مہم کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد

خواتین پر تشدد کے حوالے سے مہم کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد

ہری پور(نامہ نگار )غیر سرکاری تنظیم سنگی ترقیاتی فاؤنڈیشن کے آواز ڈسٹرکٹ فورم اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے اشتراک سے خواتین پر تشدد کے خلاف سولہ روزہ مہم کا ہری پور میں آغاز ایک ریلی نکال کر کر دیا گیا ہے ریلی شیرانوالہ گیٹ سے شروع ہو کر ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر تسلیم خان ،ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر فضل محمود خان ،سنگی کے عمر جاوید ،اعجاز اجمل خان ،سابقہ ایم پی اے ڈاکٹر فائزہ رشید ،گلناز رشید ایڈوکیٹ ،آواز فورم کے صدر تحسین الحق اعوان سماجی کارکنان بخشیش الہی ،نازیہ بی بی اور دیگر کر رہے تھے اس موقع پرخواتین کے علاوہ مختلف محکموں و اداروں کے سربراہان خواتین وکلاء صحافیوں اور دیگر تمام مکاتب فکر کے حلقوں سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی ریلی شیرانوالہ گیٹ سے شروع ہوکر مین بازار اور صدیق اکبر چوک سے ہوتی ہوئی جی ٹی روڈ سے گزر کر ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی جہاں آواز فورم کی نائب صدر گلناز رشید نے ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خواتین پر گھریلو تشدد کا خاتمہ ،کم عمری کی شادی کے قانون میں ترمیم کر تے ہوئے لڑکی کی عمر کی حد سولہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال کرنے معاشرہ میں مردوں و عورتوں کے ساتھ ہرسطح پر مساوی سلوک کرنے عورتوں کے خلاف منفی رسومات کے خاتمہ اس حوالے سے موجود قانون کو موثر بنانے اس میں موجود سقم درست کرنے اور اس کا دائرہ کار گلگت بلتستان فاٹا اور پاٹا تک بڑھانے تشددسے متاثرہ خواتین کو بروقت طبی و قانونی امداد کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مستحکم بنانے ہر پولیس اسٹیشن میں خاتون محرر کے تقرر مصالحتی کمیٹیوں میں خواتین کو برابر نمائندگی دینے سمیت دیگر مطالبات کیے گئے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر تسلیم خان و دیگر مقررین نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ خواتین میں ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہی کے لیے اس طرح کی واک اور ریلی خوش آئند ہیں جس پر وہ محکمہ سوشل ویلفیئر اور آواز ڈسٹرکٹ فورم ہری پور کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ خواتین ہماری مجموعی ملکی آبادی کے نصف فیصد سے بھی زائد ہیں ان کو نظر انداز کر کے ہم کسی صورت ترقی نہیں کرسکتے اس لیے ضرور ت اس امر کی ہے کہ خواتین کو تعلیم یافتہ بنا کر زندگی کے تمام شعبوں میں برابر نمائندگی دی جائے اور انھیں اپنے حقوق و فرائض کے حوالے سے بھی آگاہی دی جائے اسلام نے بھی خواتین کو ماں بہن بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے بہت بڑا مقام دیا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے گھر سے ہی مرد و خواتین کے حقوق کے حوالے سے صنفی تفریق شروع ہوجاتی ہے بچی کے مقابلے میں بچے کی پیدائش پر زیادہ خوشی منائی جاتی ہے ہم سب نے مل کر اس سوچ کا خاتمہ کرنا ہے اور اس طرح کی واک اور ریلیز کا یہی میسج ہے جو ہم نے آگے پہنچانا ہے واضع رہے کہ خواتین پر تشدد کی سولہ روزہ مہم پچیس نومبر تا دس دسمبر عالمی سطح پر ہر سال منائی جاتی ہے جس کا ہری پور میں پہلی بار خواتین کی ریلی نکال کر آغاز کیا گیا ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر