سندھ طاس معاہدہ توڑنا آسان نہیں ،بھارت مسئلہ کشمیر پر سفارتی دباؤ سے حواس باختہ ہو چکا :مصدق ملک

سندھ طاس معاہدہ توڑنا آسان نہیں ،بھارت مسئلہ کشمیر پر سفارتی دباؤ سے حواس ...

اسلام آباد ( اے این این ) وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر سفارتی دبا ؤکی وجہ سے حواس باختہ ہو چکا ٗ سندھ طاس معاہدے کی ضامن بین الاقوامی برادری ہے ٗتکنیکی طور پر سندھ طاس معاہدے کو توڑنا آسان نہیں ٗبھارت سارا پانی لے کر کہاں جائے گا ٗ اگر بھارت اس کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ بنا رہا ہے تو یہ ہمارے لیے اعلان جنگ ہے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیان اور اس کے تناظر میں پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ان اقدامات کی وجہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بربریت ہے، جو اب دنیا کے سامنے آنے لگی ہے۔ اگر دونوں ممالک میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی بات کی جائے تو کشمیر کا ذکر خود ہی آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بھارت پاکستان کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی اولین ترجیح مسئلہ کشمیر ہے اور ہم بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرواتے رہیں گے کہ پاک بھارت سرحد پر پیدا ہونے والے مسائل کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان اپنا نہیں بلکہ کشمیریوں کا موقف لے کر آگے چل رہا ہے، جس کی پوری دنیا توثیق کر چکی ہے اور اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی قرار دادیں اس کی محافظ ہیں۔مصدق ملک کا مزید کہنا تھا کہ سرحد پر کشیدگی پیدا کر کے مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانا بھارت کی حکمت عملی ہے، ایسا نہیں کہ عسکری توازن بھارت کے حق میں ہے ان کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے'۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں بھارتی پنجاب میں ریاستی انتخابات سے قبل ایک جلسے سے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان سے پانی کسی صورت پاکستان نہیں جانے دیں گے ۔نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، 'ہمارے کسانوں کی زمینوں کو بھی مناسب پانی ملنا چاہیے، وہ پانی جس کا تعلق ہندوستان سے ہے، اسے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یاد رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں ستمبر 1960 میں ہوا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے اس وقت کے صدر ایوب خان جبکہ ہندوستان کی جانب سے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے باہمی اصول طے کیے گئے اور یہ معاہدہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965 اور 1971 میں ہونے والی جنگوں کے باوجود بھی برقرار رہا۔سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریاں ستلج، بیاس اور راوی ہندوستان جبکہ مغربی دریاں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔تاہم رواں برس ستمبر میں ہونے والے اڑی حملے کے بعد سے ہندوستان وقتا فوقتا سندھ طاس معاہدے کی منسوخی اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا آیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر