مجھے ہسپتال سے ٹیلی فون آیا کہ آپ کی بیٹی۔۔۔ سکول سے واپسی پر اغواءہونیوالی طالبہ کے والد نے ایسی بات کہہ دی کہ کوئی بھی صاحب اولاد پریشان ہوجائے

مجھے ہسپتال سے ٹیلی فون آیا کہ آپ کی بیٹی۔۔۔ سکول سے واپسی پر اغواءہونیوالی ...
مجھے ہسپتال سے ٹیلی فون آیا کہ آپ کی بیٹی۔۔۔ سکول سے واپسی پر اغواءہونیوالی طالبہ کے والد نے ایسی بات کہہ دی کہ کوئی بھی صاحب اولاد پریشان ہوجائے

  

مظفر گڑھ (مانیٹرنگ ڈیسک) مظفر گڑھ ڈسٹرکٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مقامی زمیندار نے اپنے تین ملازموں کے ساتھ مل کر 12 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ متاثرہ لڑکی کے والد امین کا کہنا ہے کہ اس کی بچی آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے جسے سکول سے واپس آتے ہوئے زمیندار اور اس کے ملازموں نے اغواءکر لیا۔

کمپیوٹر میں لگانے والی USB کیبل آدمی اپنے جسم کے ایسے حصے میں ’لگا‘ بیٹھا کہ ہسپتال جانے کے باوجود شرم کے مارے ڈاکٹر کو سچ بتانہ سکا

امین کے مطابق اس کی بچی کو قریبی فارم ہاﺅس میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر تشویشناک حالت میں ویران جگہ پر پھینک دیا گیا۔ صدمے سے دوچار والد کا کہنا ہے کہ ہسپتال سے فون آنے پر اسے اپنی بچی سے متعلق پتہ چلا۔ امین نے کہا کہ عصمت دری کے علاوہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔

’جو لوگ نوعمری میں فحش فلمیں دیکھتے ہیں، اُن کی زندگی میں یہ خوفناک تبدیلی آتی ہے۔۔۔‘ ایسا انکشاف کہ کوئی اپنے بچوں کو ایسی چیزوں کے قریب بھی نہ بھٹکنے دے

پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے والد کی درخواست پر ماڈل سٹی پولیس سٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 365-B کے تحت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ سے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے اور ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مزید : مظفرگڑھ