گزشتہ روز انتقال کرنیوالے کیوباکے انقلابی صدر فیڈل کاسترو 634 قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے تھے

گزشتہ روز انتقال کرنیوالے کیوباکے انقلابی صدر فیڈل کاسترو 634 قاتلانہ حملوں ...
گزشتہ روز انتقال کرنیوالے کیوباکے انقلابی صدر فیڈل کاسترو 634 قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے تھے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہوانا (ویب ڈیسک) قاتلانہ حملوں میں بچ نکلنے والے کیوبا کے سابق صدر اور انقلابی رہنماءفیڈل الیہاندرو کاسترو 90 برس کی عمر میں چل بسے ہیں، فیڈل کاسترونے1953میں مونکاڈاملٹری بیرکس پرحملے میں حصہ لیا تھا، انہیں ناکام حملے میں ملوث ہونے پرگرفتارکیاگیاتھا۔بعد ازاں فیڈل کاسترو کیوباسے باہرچلے گئے اور6برس جلا وطنی ختم کر کے گوریلاجنگ شروع کردی۔وہ چھ سو سے زائد ناکام قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنے والی اور دس امریکی صدور کو بدلتے ہوئے دیکھنے والی تاریخ ساز شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

1959 میں انہوں نے کیوبا کا اقتدار حاصل کیااور 5عشروں تک اقتدار میں رہے۔انہیں اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا ایک اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ کیوبا کے انقلاب کی روح رواں کاسترو نے دس برس قبل اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راﺅل کاسترو کو منتقل کر دیا تھا۔بیس جولائی کو امریکا اور کیوبا ہوانا اور واشنگٹن میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولے۔1961ءمیں سرد جنگ کے دور میں امریکا نے کیوبا سے سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے تھے۔طویل العمری اور صحت کے مسائل کی وجہ سے فیڈل کاسترو نہ صرف سگار پینا ترک کر چکے تھے بلکہ وہ عوامی منظر نامے پر بھی کم ہی نظر آتے تھے، وہ اپنی قوم کے ایک رہنما اور ہیرو تصور کیے جاتے ہیں۔

بھارت میں جیل پر مسلح افراد کا حملہ ،خالصتان لبریشن فورس کے سربراہ ہرمندر سنگھ کو قید سے نکال کر لے گئے

فیڈل کاسترو نے جب 1953ء میں مونکاڈا ملٹری بیرکس پر حملے میں شرکت کی تھی تو تب کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ نوجوان ملکی تاریخ کی ایک اہم سیاسی شخصیت بن کر ابھرے گا۔ تب چھبیس سالہ وکیل کاسترو کو اس ناکام حملے میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے کئی باغی ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن کاسترو کیوبا کے آمر حکمران فلخینسیو باتیتسا کی فورسز سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔اس واقعے کے چھ برس بعد جلا وطنی کی زندگی ترک کرتے ہوئے کاسترو ایک مرتبہ پھر ہوانا میں داخل ہوئے، وہ اس وقت صرف بارہ گوریلا جنگجوﺅں کے ساتھ ایک بڑے مشن پر تھے۔ کمیونسٹ کاسترو پہلی مرتبہ اس وقت منظر عام پر آئے جب انہوں نے گوریلا کارروائی کے ذریعے باتیتسا اور ان کی اسی ہزار کی فوج کو شکست سے دوچار کر دیا۔سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں کیوبا میں کاسترو کی اس اچانک اور غیر متوقع کامیابی نے کمیونزم کو امریکا کے سر پر لا کھڑا کیا تھا۔ اسی خوف کے باعث امریکی خفیہ ایجنسی اور کیوبا کے جلا وطن شہریوں کے ایک حلقے نے کاسترو کو ہلاک کرنے کے کئی منصوبے بنائے لیکن تمام ناکام رہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ فابیان ایسکلانتے کے مطابق کاسترو کو کم ازکم 634 مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔فیڈل کاسترو خود کو امریکی ’سلطنت‘ کے ایک سخت حریف قرار دیتے تھے۔کاسترو نے نصف صدی تک کیوبا پر حکمرانی کی اور اس دوران انہوں نے سن انیس سو انسٹھ میں اپنے ہی ایک گوریلا کمانڈو ہوبر ماتوس کو بیس برس کی جیل کی سزا بھی سنائی۔ وہ کیوبا میں منحرفین کو سخت سزائیں دینے سے کبھی نہیں چوکتے تھے۔

کاسترو کے مخالفین انہیں ایک ’جابر آمر‘ کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں۔اپنے دور اقتدار میں کاسترو نے لاطینی امریکا میں بائیں بازو کے گوریلا فائٹرز کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے ایسے ملکوں میں بھی جنگجو روانہ کیے، جہاں سرد جنگ کے اثرات شدید ہو گئے تھے۔ اس دور میں کاسترو نے کمیونزم کی حمایت کی خاطر انگولا، ایتھوپیا، کانگو، الجزائر اور شام میں مجموعی طور پر تین لاکھ چھیاسی ہزار دستے روانہ کیے تھے۔ کاسترو ساٹھ کی دہائی میں ہی دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں اور انفرادی سطح پر مزاحمت کرنے والوں کے ہیرو بن چکے تھے۔

مزید : بین الاقوامی