’اگر امریکہ نے یہ کام نہ بھی کیا تو ہم شام میں باغیوں کیساتھ کھڑے ہوں گے ‘سعودی عرب کے بعد ایک اور بڑا عرب ملک کھل کر سامنے آ گیا

’اگر امریکہ نے یہ کام نہ بھی کیا تو ہم شام میں باغیوں کیساتھ کھڑے ہوں گے ...
’اگر امریکہ نے یہ کام نہ بھی کیا تو ہم شام میں باغیوں کیساتھ کھڑے ہوں گے ‘سعودی عرب کے بعد ایک اور بڑا عرب ملک کھل کر سامنے آ گیا

  

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کثیر القومی کوششوں کے تحت جاری شامی باغیوں کی پشت پناہی روک دی تو بھی قطر ان کی مدد جاری رکھے گا۔ قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا کہ قطر اس کام میں اکیلا نہیں ہو گا اور شامی باغیوں کو روسی اور شامی فوجی جہازوں سے دفاع کیلئے طیارہ شکن میزائل فراہم کرے گا۔

فائرنگ، شاہی خاندا ن کا شیخ، اس کے دوست سمیت 3قتل، بھارتی ڈائیور زخمی

قطر کے شاہی خاندان کے ایک فرد اور وزیر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جب باغیوں کو مزید عسکری تعاون کی ضرورت ہے، تو باغیوں کو طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ انہیں تعاون فراہم کرنے والے اتحادیوں کو مل کر کرنا ہو گا۔

چند مغربی حکام کو خدشہ ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کیلئے روسی فضائیہ کی مدد سے ناراض خلیجی ریاستیں ایسے ہتھیار باغیوں کو فراہم کر سکتے ہیں۔ امریکہ کو ڈر ہے کہ یہ ہتھیار جہادی گروپوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں اور پھر انہیں مغربی ائیرلائنز کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قطر بشار الاسد کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی سب سے زیادہ پشت پناہی کر رہا ہے اور اس کے ساتھ سعودی عرب، ترکی اور مغربی ممالک کا وہ فوجی اتحادی بھی شامل ہے جو امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی دیکھ بھال میں ہوتا ہے اور اسے ٹریننگ اور اسلحہ مہیا کیا جاتا ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ”یہ تعاون جاری رہے گا، ہم اسے روکنے نہیں جا رہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر حلب کو شکست ہوتی ہے تو ہم شامی عوامی کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے۔ اگر حکومت نے اس پر قبضہ کر بھی لیا تو مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس اسے واپس حاصل کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ ہمیں مزید فوجی تعاون کی ضرورت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری بمباری کو روک کر شہریوں کیلئے محفوظ مقامات فراہم کرنا ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ ”اسد داعش کا ایندھن تھا، اسلامی سٹیٹ کا ایک مخفف، کیونکہ شامیوں کو مارتی اس کی فوج نے سخت گروہوں کی نوجوان شامیوں کی بھرتی میں بہت مدد کی۔ ہم نے داعش کے خلاف جنگ میں اس کی کبھی کوئی کوشش نہیں دیکھی۔“

واضح رہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باغیوں کیلئے امریکی مدد کی مخالفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں مشرقی اور وسطی شام کے علاقوں کو کنٹرول کرنے والی داعش کے خلاف لڑنے تک محدود کر سکتے ہیں۔ وہ اسلامک سٹیٹ کے خلاف روس کیساتھ تعاون بھی کر سکتے ہیں جس کے طیارے قریباً ایک سال سے وسطی شام میں باغیوں پر حملوں میں مصروف ہیں۔ رواں مہینے ایک انٹرویو میں بشارالاسد نے کہا تھا کہ ”اگر وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کر لیں تو ڈونلڈ ٹرمپ ان کے فطری اتحادی ہوں گے۔“

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد کا مزید کہنا تھا کہ ” ہم امریکہ کو اپنے ساتھ چاہتے ہیں، یقینا، کیونکہ وہ ہمارا تاریخی اتحادی ہے لیکن اگر وہ اپنا فیصلہ بدلنا چاہتے ہیں تو کیا ہم بھی اپنا موقف بدلیں گے؟ ہمارے لئے، کم از کم قطر میں ہم اپنا موقف تبدیل کرنے والے نہیں ہیں، ہمارا موقف اصول، اقدار اور موجودہ صورتحال کے مطابق ہے۔“

بشار الاسد کی حکومت خلیجی ریاستوں پر ملک میں دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتی ہے جبکہ خلیجی ریاستیں اس الزام کی تردید کرتی ہیں اور شیخ محمد کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسا گروپ جو القاعدہ کے اقدار کو فروغ دیتا ہے، بالکل بھی موثر اور مفید نہیں ہو سکتا۔ بشار الاسد سنی باغیوں کے خلاف لڑائی کیلئے روسی فوجی مدد، ایران اور شیعہ گروپوں پر انحصار کرتے ہیں۔

سعودی عرب پر میزائلوں کی بارش ، ایک ہی دن میں اتنے حملے کہ ہرطرف خوف وہراس پھیل گیا

وزیر خارجہ شیخ محمد کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھال کر دفتر آئیں گے اور حقیقت پر مبنی انٹیلی جنس رپورٹس دیکھیں گے تو شام کے بارے میں ان کے خیالات نشوونما پا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ بشار الاسد اور اس کی فوج کی طرف سے پھیلایا گیا تشدد سیکیورٹی رسک تھا اور داعش بھی اسی سول وار کا نتیجہ ہے اور اگر یہ جنگ خاتمے پر نہ پہنچی تو اور بھی سخت گیر گروہ سامنے آئیں گے۔

شیخ محمد نے مصر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ” ہماری بدقسمتی ہے کہ مصر شامی حکومت کی مدد کر رہا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ واپس آئیں گے اور ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ بشار الاسد کے ساتھ تعاون دہشت گردی کیساتھ تعاون جیسا ہے کیونکہ وہ ایک دہشت گرد ہے اور داعش کیساتھ برابری پر چل رہا ہے۔“

انہوں نے انتخابی مہم میں مسلمانوں اور مہاجروں کے خلاف بیانات کا سہارا لینے پر مغربی سیاستدانوں کی سرزنش بھی کی اور کہا کہ یہ ان اقدار کے یکسر خلاف ہے جو مغرب نے لمبے عرصے سے اپنا رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”بدقسمتی سے یہ حکایات دہائیوں تک مسائل کا سبب بنیں گی کیونکہ مسلمان یورپ اور امریکی معاشرے کی ساخت کا حصہ ہیں۔ اس طرح کی باتیں شائد انتخابات جیتنے کے کام آ سکتی ہیں لیکن یہ دہائیوں تک رہیں گی اور ان کے معاشرے میں مسائل پیدا کریں گی۔“

مزید : عرب دنیا /اہم خبریں