چمبہ ہاؤس سے ملنے والی نعش کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا

چمبہ ہاؤس سے ملنے والی نعش کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا
چمبہ ہاؤس سے ملنے والی نعش کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(صباح نیوز)لاہور چمبہ ہائوس سے ملنے والی خاتون کی نعش کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ، پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے نعش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ۔ واقعہ قتل ہے یا کچھ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حقائق سامنے آنے کی توقع ہے ۔ چنبہ ہائوس کے کمرہ نمبر 26 سے لیگی کارکن سمیعہ کی تین روز پرانی نعش ملی ۔ خاتون کی منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا تاہم جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہ تھے ۔ پولیس کا کہنا ہے جس کمرے سے نعش ملی وہ ایم این اے چوہدری اشرف کو الاٹ کیا گیا ۔ مقتولہ کا شوہر آصف محمود ایف بی آر میں ملازمت کرتا ہے اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے جبکہ مقتولہ لاہور دوست کی شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی ۔ مقتولہ کے شوہر کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا تا ہم پولیس اس حوالے سے اپنی رائے کو محفوظ رکھے ہوئے ہے جبکہ متعلقہ افسران کہتے ہیں پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم ہونے کی توقع ہے کہ یہ قتل ہے یا کچھ اور ۔ دوسری جانب ایم این اے چوہدری اشرف کے مطابق انہوں نے خاتون کو کمرہ نہیں لے کر دیا ، نہ ہی مقتولہ سے ان کا کوئی تعلق ہے ، پولیس نے چنبہ ہائوس کے ملازمین سمیت سمعیہ کے دوستوں سے تفصیلات اکٹھا کرنا شروع کر دی ہیں ۔

مزید : لاہور