ملک میں گندم کا بحران شدید ہونے کا خدشہ، سالانہ اربوں روپے ضائع ہورہے ہیں: پاکستان اکانومی واچ

ملک میں گندم کا بحران شدید ہونے کا خدشہ، سالانہ اربوں روپے ضائع ہورہے ہیں: ...

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملک میں اضافی گندم کا بحران بڑھتا جا رہا ہے جسے حل کرنے کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے۔سابقہ حکومت نے الیکشن جیتنے کیلئے غلط فیصلے کئے جسکی سزا عوام بھگت رہی ہے کیونکہ گندم کے اضافی سٹاک کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے ضائع ہو رہے ہیں ۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومتی اداروں کے پاس پانچ لاکھ ٹن سے زیادہ گندم موجود ہے جسے برامد کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں گندم کی قیمت پاکستان سے نصف ہے جس میں اس سال مزید کمی آ رہی ہے۔ کئی علاقوں میں گندم کی بوائی شروع ہو گئی ہے جس سے گندم کے ذخائر پر پوجھ بڑھ جائے گا۔ سابق حکومت نے گندم کی امدادی قیمت میں اچانک سو فیصد اضافہ کر دیا تھا جس سے اس کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا جو ملکی ضروریات سے بہت زیادہ تھا۔ اسکے علاوہ کاشتکاروں نے کئی فصلیں اگانا چھوڑ دیں جس سے ان اجناس کی کمی پیدا ہو گئی۔

مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے گندم کی برامد پر سبسڈی نوے ڈالر فی ٹن تک بڑھا کر دیکھا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ لاکھوں ٹن گندم گوداموں میں بدستور سڑ رہی ہے۔ان حالات میں حکومت کو بھاری نقصان ہو رہا ہے جبکہ اگلی فصل پر اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ آڑھیتوں کی چاندی ہو جائے گی جو کھلی لوٹ مار کرینگے۔

مزید : بزنس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...