ایک روپیہ سے تاریخی ہسپتال تعمیرکرنے والے جنجوعہ صاحب

ایک روپیہ سے تاریخی ہسپتال تعمیرکرنے والے جنجوعہ صاحب
ایک روپیہ سے تاریخی ہسپتال تعمیرکرنے والے جنجوعہ صاحب

  

اللہ کی رضا اور عطا کے بغیر دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پروان نہیں چڑھ پاتااور نہ ہی ایسا کوئی مسیحا یا مصلح دکھی انسانیت کی خدمت دنیاوی طمع کے بغیر انجام دے پاتا ہے۔یہ غیر معمولی ہمت اور مستقل جدوجہد عام انسانوں کے بس میں کہاں ہوتی ہے مگر صرف اسکو جسے وہ ذات کبریا منتخب کرلے اسکی منازل آسان ہوجاتی ہیں ۔ اللہ کریم اپنے ایسے منتخب بندوں سے بے حد محبت فرماتا ہے۔میں جب بھی جناب شفیق جنجوعہ صاحب کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہوں نہ جانے اس ایک لمحے مجھے ان کی روشن پیشانی پر صداقت کی لکیریں کیوں یہ پیغام دینے لگتی ہیں کہ اللہ کی رضا صرف ان چہروں کو منور کرتی ہے جو اللہ سیغیر مشروط محبت کرتے، مخلص اور محسن ہوتے ہیں،جو ریاکاری سے پاک ہوتے ہیں ۔ اسی دنیا میں جہاں آپ اور ہم رہتے ہیں وہاں ہزاروں لوگ مسیحائی کا درد لیکر کاروبار کرتے بھی نظر آتے ہیں۔وہ کروڑوں اربوں اکٹھے کرتے اور ہزاروں لاکھوں دکھی انسانیت پرخرچ کرتے ہیں لیکن ایک یہ جنجوعہ صاحب ہیں جنہوں نے صرف ایک ایک روپیہ اکٹھا کیااوراس سے ایک عالی شان آئی ہسپتال قائم کردیا۔نہ کوئی چندہ،نہ مالی امداد کے کاسہ گری کی۔۔۔ صرف اپنی صداقت کی ایما پر یہ سفر شروع کیا اور اڑتیس سالوں میں لاہور کے شاد باغ میں پاکستان کا جدید ترین محمدی آئی ہسپتال اورہمت ٹرسٹ کھڑا کردیا۔یہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔انہوں نے ایک روپیہ پرچی فیس سے علاج معالجہ کی انوکھی تاریخ رقم کی ہے ۔اس اصول کے تحت ایک غریب مریض پربھلے سے ہزاروں لاکھوں روپے بھی خرچ ہوگئے مگر انہوں نے مفت علاج کا جو علم اٹھایا تھا اسکی عظمت کو قائم رکھا۔خودپراور اپنی اولاد پربھی کسی بھی صورت میں ٹرسٹ میں سے ایک پائی لیناحرام سمجھا حالانہ رفاعی ہسپتال بنانے والے جب خود اسکے ڈائریکٹر بنتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنے اقربا پر بھی تنخواہیں اور مراعات واجب کرلیتے ہیں ۔۔۔

جنجوعہ صاحب پیشے کے اعتبار سے صنعت کار ہیں۔ انہوں نے 1979ء کرایے کی ایک دکان سے انسانی خدمت کا آغاز کیا اس کے بعد حسب ضرورت زمین خرید کر میڈیکل سنٹر کی بنیاد رکھی۔ اردگرد کے صنعتی علاقے میں آنکھوں کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیش نظر 2004ء میں شعبہ امراض چشم قائم کیا گیا۔ مریضوں کی تعداد بڑھی تو2009ء میں محمدی آئی کئیر سینٹر وجود میں آیا جو جدید مشینری سے آراستہ ہے ۔ انتہائی پروفیشنل اور تجربہ کار آئی کنسلٹنٹ(سرجن) اور تجربہ کار ڈاکٹرز کی جواں ہمت ٹیم اس میں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ ہمت ٹرسٹ کے تحت فروغ علم اور قدرتی آفات کی صورت میں آفت زدگان کی امداد، بحالی اور آباد کاری کے لیے سرگرم عمل نیک نام ادارہ ہے۔ فروغ علم کے لیے جاری منصوبوں میں تعلیمی وظیفہ، مسجد مکتب سکول، العلم گرلز ہائی سکول (شمشتو، پشاور) العلم ایجوکیشن کمپلیکس (چھتر پلین ، مانسہرہ) حق ووکیشنل ٹریننگ اینڈ ایجوکیشنل سنٹر فاروومین (شمشتو، پشاور) اس کے علاوہ پس ماندہ علاقوں کے سکولوں میں ’’الشفاء‘‘ پروگرام کے تحت طلبہ و طالبات کی نظر اور ناک کان گلے کا مفت معائنہ کیا جاتا ہے۔ ہمت ٹرسٹ ، ٹیچر ٹریننگ پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے جس کے تحت اساتذہ کو دور جدید کی تدریسی مہارت اور معاون آغاز سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

شفیق جنجوعہ صاحب سے انکے غیر معمولی عزم و استقلال کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے کہ عمران خان نے اپنی والدہ کی کینسر کے ہاتھوں وفات پانے کے بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال تعمیر کرایا۔ اسی طرح نجی شعبے میں بہت سے خیراتی ادارے قائم کرنے اور انہیں کامیابی سے چلانے کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما رہا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسے ہوا۔ بھارت سے ہم ہجرت کرکے گوجرانوالہ آگئے تھے۔ بے سرو سامانی کا عالم تھا۔ یہاں ڈائی کٹنگ کا کاروبار شروع کیا اور زندگی کی گاڑی کھینچنا شروع کی۔ میری والدہ کو آنکھوں کی تکلیف ہوئی تو انہیں گوجرانوالہ کے پاس کھوکھرکی میں عیسائیوں کے ایک ہسپتال میں لے گئے۔ اس کا نام چارلس ہسپتال تھا اور صرف آنکھوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ اپنے دور میں بڑا معروف اور شاندارہسپتال تھا۔ اس وقت یوں نہیں ہوتا تھا کہ آپریشن کرایا اور گھر چلے گئے۔ ہسپتال میں ہی پندرہ بیس دن رہنا پڑتا تھا۔ ہمیں والدہ کے آپریشن کرواتے ہوئے کافی خواری اٹھانا پڑی تو اس لمحے میرے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ اے اللہ مجھے توفیق اور استقامت عطا فرمانا کہ میں آنکھوں کا ایک ایسا ہسپتال بنا لوں جہاں ہر مذہب کا فرد بلا تفریق اپنا مفت علاج کراسکے۔ پھر جب میں لاہور شاد باغ میں آگیا اور یہاں کاروبار شروع کیا ۔1979ء میں اس جگہ جہاں آپ بیٹھے ہیں یہاں خالی پلاٹ اور ایک چھوٹی سی شکستہ سی دکان ہوتی تھی۔ میں نے کرسی کسی سے، سٹول کسی سے اور میز کسی سے لیا اور ایک فری ڈسپنسری شروع کر دی۔ اس کے لیے ایک کوالیفائیڈڈاکٹر کی خدمات حاصل کیں جو دو گھنٹہ کے لیے آتا اور مریضوں کو چیک کرکے مفت دوائی دیتا۔ میرے پاس تو وسائل نہیں تھے مگر چودھری باؤ سعید، خورشید عباسی اور حاجی انور صاحب جیسے دوستوں نے میرا جذبہ بڑھایا اور تھوڑے تھورے پیسے دیئے یوں یہ رفاعی کام چلتا گیا۔ پہلے یہ محمدی فری ڈسپنسری تھی اور اب اڑتیسسال بعد محمدی میڈیکل ٹرسٹ کا سنگ میل طے کر گیا ہے۔ میں نے جب دیکھا کہ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس دکان سے سو میٹر دور پہلا محمدی آئی ہسپتال تعمیر کرایا۔ اس ہسپتال کی تعمیر میں لوگوں کا جذبہ شامل تھا۔ میں نے آج تک کوئی سرکاری مدد حاصل نہیں کی نہ ہی طلب کی ہے نہ ہی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ رفاعی کاموں میں سیاست دان شامل ہو جائیں تو وہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ میں نے کسی سے عطیہ بھی طلب نہیں کیا۔ صرف ایمان یہ رہا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے کام شروع کیا ہے تو اسکے بندے بھی مدد کریں گے۔ محمدی آئی ہسپتال اس وقت پاکستان کے تاریخ ساز ہسپتال کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جو عام اور کاروباری لوگوں کی مدد سے تعمیر اہوا اور ہمیں چندہ باکس اور رسیدیں لے کر مانگنے کی غرض سے نہیں جانا پڑا۔لوگ خود تعاون کرتے اور پیسے خود پہنچانتے ہیں ،ہمارا اصول ہے کہ فلاحی کام میں معانت کرنی ہے تو صدقات وغیر ہ خود پہنچاؤ۔ ہمارا کوئی بندہ پیسہ وصول کرنے نہیں جاتا۔ہم نے غیرت ایمانی کو ملحوظ رکھاہے۔ ادارے کی ساکھ قائم رکھی اور مریضوں کو جدید ترین ہسپتال دیا ہے۔ اس کے پہلے یونٹ کے قیام کے لیے ہمیں جنرل انصاری نے 9مرلہ پلاٹ الاٹ کیا تھا مگر ہم نے اس کی بھی قیمت تینہزار روپے ادا کی تھی جس وقت ہم اس پلاٹ کا قبضہ لینے گئے تو یہاں ایک گجر نے چار دیواری تعمیر کرکے بھینسیں پال رکھی تھیں۔ اسے جب بتایا گیا کہ یہ پلاٹ ہسپتال کے لیے مختص ہوگیا ہے تو وہ اکڑ گیا اور پیسے طلب کئے۔ میں نے اسے تین ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ یہ صدقہ کے پیسے ہیں اور لوگوں کی امانت ہیں جس سے ہسپتال تعمیر کرنا ہے مگر وہ شخص نہ سمجھا اور پھر چند روز بعد اس کی بھینسیں مر گئیں تو پریشان ہو کر میرے پاس آیا اور کہا آپ نے بددعا کی اور مجھے نقصان ہوگیا ہے۔میں نے اسے سمجھایا کہ اللہ سے معافی مانگو ۔ تم نے بلا وجہ صدقہ کی رقم ہڑپ کی ہے۔ خیر اس طرح کئی اور مشکلات بھی پیدا ہوئیں لیکن اللہ کریم کے فضل سے ہم ہسپتال تعمیر کرنے اور جدید مشینری سے لیس کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہمارے ادارے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں بڑے نامور آئی ڈاکٹروں نے مریضوں کا علاج کیاہے۔ ہم مریضوں سے فیس نہیں لیتے بلکہ لینز بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہم جو لینز خریدتے ہیں انتہائی معیاری اور سبسڈی پر حاصل کرتے ہیں۔ مریض کی استطاعت ہو تو لینز کے پیسے لیتے ہیں ۔یہاں بیس بائیس ہزار کا لینز چار پانچ ہزار میں فراہم کیا جاتا ہے۔ آنکھوں کی جدید ترین مشینری سب سے پہلے محمدی میڈیکل ٹرسٹ میں انسٹال کی گئی ہے۔ ہم آنکھوں کے آپریشن کے کم از کم آٹھ آپریشن تھیٹر قائم کر رہے ہیں۔ اس وقت جو آپریشن تھیٹر فعال ہیں وہاں جدید ترین آلات نصب ہیں۔ روزانہ کم و بیش 5 سومریض آتے ہیں اور سب کی باری بغیر کسی پروٹوکول کے الیکٹریکل ٹکٹ سے آتی ہے۔ ہمارے لیے سب سے معزز ہمارا مریض ہوتا ہے کسی امیر غریب کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کو باقاعدہ پرکشش تنخواہ دی جاتی ہے۔اب تک بیس ہزار لوگوں کے آپریشن کرچکے ہیں۔

جنجوعہ صاحب نے بڑی دلچسپ بات کہی’’لوگوں نے اعتماد ہی اتنا دیا ہے کہ ہمیں کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑا۔ ہم نے جب یونٹ IIیعنی یہ نئی عمارت تعمیر کرانے کا ارادہ کیا تو ہم نے صرف ایک بینر لگایا اور کہا کہ ہمیں31تاریخ تک اتنے کروڑرقم چاہئے۔ یقین کریں کہ ہمیں وہ بینر31تاریخ کو اتارنا پڑ گیا کیونکہ لوگوں نے دل کھول کر مدد کی ہمارے ہسپتال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ لاہو ر کے ایک بڑے آئی ہسپتال کے سینئرز ڈاکٹروں نے ہمیں مشینری عطیہ کی اور کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو کام محمدی میڈیکل ٹرسٹ والے کر رہے ہیں اس سے زیادہ منظم اور شفاف کوئی اور نہیں کرتا۔ ہمارا یہ اعزاز ہے کہ صدقات و عطیات کی رقوم میں سے ہم لوگ ایک روپیہ بھی نہیں لیتے۔ حالانکہ دوسرے رفاعی ہسپتالوں میں ڈائریکٹر بن کر تنخواہیں وصولنے لگتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ محمدی میڈیکل ٹرسٹ کے علاوہ نعمت ٹرسٹ پاکستان کے پلیٹ فارم سے رفاعی کاموں کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ ہم فلاحی معاشرے کے قیام کی تگ و دو کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے کے پی کے میں تعلیمی اور ریلیف منصوبوں میں مصروف ہیں۔ صاف پانی، اپنا ہمت گھر، قربانی پراجیکٹ، مساجد ، کئی ایسے منصوبے زیر تکمیل ہیں ۔

شفیق جنجوعہ نے ایسے حالات میں جبکہ ان کے اپنے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا مگر انہوں نے دامن پھیلائے بغیر  اپنا مقدس کام جاری رکھا ۔لوگ انہیں پاکستان کا دوسرا ایدھی کہتے ہیں اس اعزاز کا سبب انکی صداقت اور انسانیت کی خدمت کے لئے ہر قسم کی ستائش سے بے نیازی ہے۔بلاشبہ ایسے لوگوں کو اپنے جیسوں کا ساتھ بھی مل جاتا ہے جو بصارت اور بصیرت کے بجھے چراغوں کو پھر سے جلانے میں کوشاں رہتے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ