’مجھے اور میری بہن کو باری باری مسلسل صرف اس لئے ریپ کیا گیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں‘

’مجھے اور میری بہن کو باری باری مسلسل صرف اس لئے ریپ کیا گیا کیونکہ ہم مسلمان ...
’مجھے اور میری بہن کو باری باری مسلسل صرف اس لئے ریپ کیا گیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چٹاگانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) برما کی حکومت ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت ان کی نسل کشی کر رہی ہے۔ برمی فوج کے ہاتھوں روہنگیا مردوں کے قتل عام اور خواتین کی اجتماعی آبروریزی نے انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا ہے اور ان کی اکثریت بنگلہ دیش کا سفر اختیار کر رہی ہے۔ برما سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپ میں پہنچنے والی 20سالہ لڑکی حبیبہ اور اس کی بہن کی دردناک کہانی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق برما کے بارڈر سے چند کلومیٹر دور بنگلہ دیش میں قائم اس پناہ گزین کیمپ میں گفتگو کرتے ہوئے حبیبہ کا کہنا تھا کہ ”برمی فوج ایک ہمارے گاﺅں میں داخل ہو گئی۔ فوجیوں نے ہمارے باپ سمیت درجنوں مردوں کو قتل کر دیا اور گھروں میں گھس کر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ کچھ فوجی ہمارے گھر میں بھی گھس آئے۔ انہوں نے مجھے اور میری بہن، 18سالہ سمیرا کو بیڈ کے ساتھ باندھ دیا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے ہمارے گھر کو آگ لگا دی اور جاتے ہوئے ہمیں وارننگ دی کہ اگر ہم انہیں دوبارہ یہاں نظر آئے تو انہیں بھی قتل کر دیا جائے گا۔“

2014ءکا تحریک انصاف کا دھرنا اور نئے آرمی چیف، ایسا تعلق سامنے آگیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

سمیرا کا کہنا تھا کہ ”فوجیوں نے ہمارے گاﺅں ”اوڈنگ“ (Udang)کے تمام گھروں سے قیمتی سامان لوٹ لیا اور انہیں نذرآتش کر دیا۔ انہوں نے ہمارے علاوہ گاﺅں کی درجنوں نوجوان لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔“ رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد دونوں بہنیں اپنے بھائی ہاشم اللہ کے ہمراہ برما سے فرار ہو کر اس پناہ گزین کیمپ میں آ گئیں۔ گفتگو کرتے ہوئے ہاشم اللہ کا کہنا تھا کہ ”یہاں ہم فاقوں سے مر رہے ہیں لیکن اتنا ہی بہت ہے کہ یہاں ہمیں جان و آبرو کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ “ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ برمی حکومت فوج اور پولیس کو مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ وہ اپنے ملک سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی