جس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون درجنوں شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرم کے نامزد ملزم ہوں وہاں امن کہاں سے آئے گا؟ ڈاکٹر طاہر القادری

جس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون درجنوں شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرم کے ...
جس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون درجنوں شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرم کے نامزد ملزم ہوں وہاں امن کہاں سے آئے گا؟ ڈاکٹر طاہر القادری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون درجنوں شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرم کے نامزد ملزم ہوں وہاں امن کہاں سے آئے گا؟ میڈیا نے پنجاب کے حکمرانوں کو ایکسپوز کر دیا اب غریب گھروں کے بچے جعلی پولیس مقابلوں میں مریں گے ، وزیر اعلیٰ کے اجلاس روایتی شو بازی ہے انکی توجہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنانے پر ہوتی تو76 فی صد تک جرائم میں اضافہ نہ ہوتا ۔

مزید پڑھیں:2014ءکا تحریک انصاف کا دھرنا اور نئے آرمی چیف، ایسا تعلق سامنے آگیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

نجی ٹی وی ’نیو نیوز ‘‘ کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ جو آئی جی پنجاب ماڈل ٹاؤن جیسے سانحہ میں ملوث ہو اسکا عہدے پر برقرارر ہنا ہی قانون اور عوام سے مذاق ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون پنجاب بے گناہ شہریوں کے قاتل ہیں جب تک قاتلوں کا یہ ٹولہ اقتدار میں رہے گا بے گناہ قتل ہوتے رہیں گے اور عزت دار خاندان ناکوں اور ٹریفک اشاروں پر حکومتی سرپرستی میں کام کرنیوالے ڈاکوؤں کے گروہوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے۔ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ حکمران پولیس سے سیاسی مخالفین کو قتل کروانے انکی زبان بند کروانے اور انکی زمینوں اور پلاٹوں پر قبضے کروانے کا کام لیتے ہیں اور بدلے میں انہیں لوٹ مار کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے ،ورنہ پنجاب علاقہ غیر میں تبدیل نہ ہوتا ۔انہوں نے نجی چینل نیو اور دن نیوز کی بندش کے نوٹس پر پیمرا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پیمرا حکومت کا آلہ کار بن چکا ہے اور ہٹلر کی گسٹاپو فورس کا کردار ادا کر رہا ہے ،نواز حکومت اپنی کرپشن چھپانے کیلئے اور میڈیا کا گلا دبانے کیلئے پیمرا کو استعمال کر رہی ہے۔

مزید : قومی