بلیک فرائیڈے پر آپ نے اکثر پاکستانی ویب سائٹس پر سیل لگی تو دیکھی ہو گی، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے اسے بلیک فرائیڈے کیوں کہتے ہیں؟ انتہائی دلچسپ اور حیران کن تاریخ جانئے

بلیک فرائیڈے پر آپ نے اکثر پاکستانی ویب سائٹس پر سیل لگی تو دیکھی ہو گی، لیکن ...
بلیک فرائیڈے پر آپ نے اکثر پاکستانی ویب سائٹس پر سیل لگی تو دیکھی ہو گی، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے اسے بلیک فرائیڈے کیوں کہتے ہیں؟ انتہائی دلچسپ اور حیران کن تاریخ جانئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بلیک فرائیڈے کا ’تہوار‘ مغرب سے پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں بھی اس روز بڑے پیمانے پر ہر طرح کی مصنوعات کی سیل لگائی جاتی ہے اور گاہکوں کو رعایت دی جاتی ہے۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق بلیک فرائیڈے کی اصطلاح پہلی بار 1980ءمیں امریکہ میں استعمال کی گئی اور یوم شکرانہ(نومبر کی چوتھی جمعرات)کے بعد آنے والے جمعہ کو بلیک فرائیڈے کہا گیا۔

اس نام کی ایک توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ پرچون فروشوں کو عموماً جنوری سے نومبر تک مالیاتی خسارے کا سامنا رہتا تھا جسے سرخ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافع کے دنوں کو سیاہ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔جب شکرانے کے دن سے اگلے جمعہ کو کرسمس کی خریداری کے طور پر منایا جانے لگا تو اس روز پرچون فروشوں کو بے تحاشا منافع ہونے لگا جس پر انہوں نے اسے بلیک فرائیڈے کہنا شروع کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس اصطلاح کی یہ توجیہ حتمی نہیں ہے۔ اس کی اور بھی کئی توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اصطلاح سب سے پہلے فلاڈلفیا پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ٹریفک سکواڈ نے استعمال کرنی شروع کی۔ فلاڈلفیا بلیٹن کے رپورٹر جوزف پی بیریٹ کا کہنا تھا کہ ”شکرانے کے دن سے اگلے جمعہ کو جب کرسمس کی خریداری کے دن کے طور پر منایا جانے لگا تو اس روز بے تحاشا ٹریفک جام رہنے لگا۔

اس پر پولیس آفیسرز نے اس دن کو بلیک فرائیڈے کہنا شروع کر دیا کیونکہ اس روز ہر شخص خریداری کے لیے باہر نکل پڑتا تھا اور شہروں میں لوگوں کا ایک طوفان آ نے پر ہر طرف ٹریفک پھنسی ہوئی ہوتی تھی۔اس روز فلاڈلفیا میں ٹریفک پولیس کے کسی اہلکار کو چھٹی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس