دھرنے کے دوران جنرل راحیل نے مجھے کہا کہ ان کا جمہوریت پر شب خون مارنے کا ارادہ نہیں : جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ

دھرنے کے دوران جنرل راحیل نے مجھے کہا کہ ان کا جمہوریت پر شب خون مارنے کا ...
دھرنے کے دوران جنرل راحیل نے مجھے کہا کہ ان کا جمہوریت پر شب خون مارنے کا ارادہ نہیں : جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر سیفران جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے دھرنے کے دنوں میں مجھے بلا کر کہا تھا کہ ان کا جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ سول اور فوجی قیادت میں بہت سے معاملات پر اختلافات رہے ہیں جنہیں میڈیا پر آنے کی بجائے اندر ہی ڈسکس ہونا چاہیے تھا۔اشارے موجود ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو جنرل راحیل شریف نے ہی بچایا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں انٹرویو دیتے ہوئے عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ صرف جنرل راحیل شریف کی گواہی دیتا ہوں کہ سیاسی نظام سے متعلق ان کے ارادے کبھی غلط نہیں رہے ، دوسروں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جنرل راحیل شریف نے دھرنے کے دنوں میں مجھے بلا کر کہا ”میاں صاحب کی مہربانی ہے کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور عزت دی ۔ میں پروفیشنل اور خاندانی آدمی ہوں میاں صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا اور جمہوری حکومت پر شب خون نہیں ماروں گا“۔ جنرل پرویز مشرف کے حامیوں نے عمران خان اور قادری کو غلط تاثر دیا کہ وہ پریشر بڑھائیں گے تو جنرل راحیل شریف مارشل لا لگادیں گے۔

2014ءکا تحریک انصاف کا دھرنا اور نئے آرمی چیف، ایسا تعلق سامنے آگیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف جتنا عرصہ ہسپتال میں رہے اور عدالت میں پیش ہوئے بغیر ان کے ساتھ کراچی میں جو کچھ کیا گیا اس پر جنرل راحیل شریف اور ادارے کو تشویش تھی۔ ذمہ داری سے بتانا چاہتا ہوں کہ میں میاں صاحب کی کابینہ کا کوئی اندرونی شخص نہیں ہوں لیکن اشارے موجود ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو جنرل راحیل شریف نے بچایا۔

’اگر امریکہ بھاگ گیا تو پھر ہم۔۔۔‘قطر نے روس کو زوردار جھٹکا دے دیا، ایسا اعلان کردیا کہ جان کر سعودی عرب کی خوشی کی انتہا نہ رہے

سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ راحیل شریف حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے تھے تاہم گورننس پر ان کے اختلافات تھے لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جو میڈیا پر نہیں آنی چاہئیں تھیں۔ بلوچستان اور فاٹا کے معاملات پر اتنے اختلافات نہیں تھے، تاہم مذہبی حلقوں اور کراچی میں دہشتگردوں کی سہولت کاری پر اختلاف رائے رہا ہے، جہادی تربیت دینے والے مدارس کا معاملہ بھی حکومت اور فوج کے درمیان اختلافی نکتہ رہا ہے۔ دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے پر حکومت اور فوجی قیادت میں کوئی اختلافات نہیں تھے تاہم بعض مقامات پر صوبائی حکومتوں کی وجہ سے موثر کارروائی نہیں ہو پارہی تھی جس کی وجہ سے تناو¿ موجود تھا۔

مزید : قومی /اہم خبریں