ہمیں بھی CPECاستعمال کرنے کی اجازت دیجئے!

ہمیں بھی CPECاستعمال کرنے کی اجازت دیجئے!

وزیراعظم نواز شریف ترکمانستان کے دو روزہ دورے کے بعد واپس آ گئے ہیں وہ اپنے دو مشیرانِ کرام کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ایک تو طارق فاطمی تھے جو معاونِ خصوصی امور خارجہ ہیں اور دوسرے عرفان صدیقی صاحب تھے جو ثقافت اور ادبی سرگرمیوں کے انچارج مشیر ہیں۔

ترکمانستان آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا سا ملک ہے جس میں کل 50لاکھ نفوس آباد ہیں۔ لیکن رقبہ 5لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ اگرچہ اس کی مغربی سرحد بحیرۂ کپسین سے ملتی ہے لیکن اس کی سرزمین کا زیادہ حصہ غیر آباد اور سیاہ ریت پر مشتمل ہے۔ گردوغبار کے طوفان آتے رہتے ہیں۔ شائد یہ سیاہ ریت ہی کے طفیل ہے کہ ترکمانستان دنیا میں قدرتی گیس کے زیرزمین ذخائر کا حامل چوتھا بڑا ملک ہے۔ اور سچ پوچھئے تو وزیراعظم اسی گیس کی فراہمی کے سلسلے میں وہاں تشریف لے گئے تھے۔ تاہم معلوم نہیں ہو سکا کہ عرفان صدیقی اور طارق فاطمی صاحبان کو ہمراہ لے جانے کی تُک کیا تھی کہ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے وزیرپٹرولیم اور قدرتی گیس کو ساتھ لے جاتے!۔۔۔شائد سیاسیات کے کواکب دراصل ہوتے کچھ ہیں اور دکھائے کچھ اور جاتے ہیں!

ایک عرصے تک ہم پڑھتے رہتے تھے کہ ترکمانستان پر صدر نیازوف کی حکمرانی ہے جو 2006ء میں انتقال کر گئے اور موجودہ صدر جن کا اسم گرامی بردی محمدوف ہے وہ 2007ء میں سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ یہ سلطنت میں نے اس لئے لکھا ہے کہ اگرچہ طرزِ حکومت وحدانی اور صدارتی ہے لیکن محمدوف اور ان کا پورا خاندان پوری طرح ریاست کے سیاہ و سفید پر قابض ہے۔ اشک آباد دارالحکومت ہے۔۔۔ تاپی (Tapi) گیس پائپ لائن منصوبے سے کون ناوقف ہے؟۔۔۔ ایک طویل عرصے سے یہ منصوبہ زیرغور چلا آ رہا ہے۔ اس میں ترکمانستان ،افغانستان، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں اور ان ممالک کے اولین حروف کو ملا کر TAPI کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ترکمانستان کی قدرتی گیس افغانستان کی راہ سے پاکستان آئے گی اور پھر وہاں سے انڈیا جائے گی۔ تاہم یہ گیس پائپ لائن اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک افغانستان کا معمہ (یا مسئلہ) حل نہیں ہو جاتا۔ اگر صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی افغان حکومت چاہے بھی تو یہ گیس پائپ ، صحیح سالم پاکستان نہیں پہنچ سکتی۔ اس کی راہ میں مشرقی افغانستان کے وہ صوبے حائل ہیں جن پر پشتونوں کا کنٹرول ہے۔ ان کو طالبان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طالبان کابل حکومت سے برسرِ جنگ ہیں۔ جب تک کابل کی حکمرانی کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا، ’’تاپی‘‘منصوبہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اس لئے چند دنوں بعد دسمبر2016ء کے اولین ایام میں روس، چین اور پاکستان کی جو سہ ملکی کانفرنس ماسکو میں ہونے جا رہی ہے اس میں افغانستان کے اسی دیرینہ مسئلے کا حل دریافت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان تین ملکوں میں پاکستان کا سٹیک اہم ترین ہے۔ یہ سٹیک براہ راست ہے۔ روس اور چین کے سٹیک براہ راست نہیں، بالواسطہ ہیں۔ روس CPEC کو استعمال میں لانا چاہتا ہے اور وہ اس کے لئے باقاعدہ درخواست بھی دے چکا ہے۔ اگر قارئین روس کی یہ درخواست، ماسکو کی یہ سہ ملکی کانفرنس اور اشک آباد میں ہونے والی اس دو روزہ ملاقات (جو وزیراعظم پاکستان اور ترکمان صدر کے درمیان ہوئی)کو ملاکر دیکھیں گے تو آپ پر یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ مستقبل قریب میں اس خطے میں کیا کیا تبدیلیاں آنے والی ہیں!

نقشے پر دیکھیں تو ترکمانستان سے کسی بھی قسم کی پائپ لائن گزارنے کا سیدھا اور مختصر ترین راستہ ایران کی راہ سے ہے۔ ترکمانستان کے جنوب میں ایران واقع ہے اور اشک آباد سے ایران کی شمال سرحد صرف چند کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سے یہ پائپ سیدھی چاہ بہار تک لائی جا سکتی ہے اور چاہ بہار سے پاکستان (گوادر) صرف 90کلومیٹر دور ہے۔ البتہ انڈیا تک پہنچنا (براستہ چاہ بہار یا براستہ گوادر) آسان نہیں ہوگا!لہٰذا تاپی (TAPI) کا بہترین روٹ افغانستان اور پاکستان کی راہ بھارت تک ہی کا روٹ ہے جس میں (جیسا کہ پہلے کہا گیا) افغانستان کی موجودہ سیاسی کشیدگی سدِّ راہ ہے۔ ماسکو میں ہونے والی کانفرنس میں شائد یہ طے کیا جائے کہ کابل حکومت، طالبان کو کیاکیا رعایات دینے کو تیار ہے اور طالبان کن کن رعایات کو قبول کرنے پر رضامند ہوں گے۔ درحقیقت طالبان کی رضامندی شرط اول ہے اور ماسکو میں صدر پوٹن کی سربراہی میں اس کانفرنس میں یہ فیصلہ ہونے والا ہے کہ افغانستان کا حل کیسے نکالا جائے۔۔۔ امریکہ کے دس ہزار ٹروپس وہاں موجود ہیں، بگرام کا وسیع و عریض فضائی مستقر موجود ہے، بھارت کے قونصل خانے موجود ہیں اور ان سب کے لئے اشرف غنی اور سابق شمالی اتحاد کے کرتا دھرتاؤں کی تائید موجود ہے!

پاکستان چاہے گا کہ بھارت کابل میں اپنی موجودگی کو صرف اپنے سفارت خانے تک محدود کردے۔ اس کے بعد امریکہ کا نمبر آئے گا۔ صدر ٹرمپ اگر 2017ء میں عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد افغانستان سے امریکی ٹروپس واپس بلا لیتے ہیں تو بھارت کا افغانستان میں ٹھہرنا ممکن نہیں رہے گا۔ طالبان کا دباؤ اتنا بڑھ جائے گا کہ بھارت کو ، امریکیوں کے ساتھ ہی بیک وقت چاردانگ افغانستان سے نکلنا پڑے گا۔ ہاں اگر روس،بھارت کو TAPIپر راضی کر لیتا ہے تو شائد یہ کام آسان ہو جائے۔ لیکن معلوم ہو رہا ہے تو جب تک صدر امریکہ، امریکی ٹروپس کوواپس نہیں بلاتے، افغانستان کا مسئلہ طول کھینچے گااور تاپی کا گیس پائپ لائن منصوبہ نہ ختم ہونے والی تاخیر کا شکار ہوتا رہے گا!

میرے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ CPECکی جلد از جلد تعمیر ہے۔ اس میں خشکی کے تین مزید روٹ، ایک ریل روٹ اور ایک گیس پائپ لائن ہے جو پاکستان کو چین سے ملائیں گے۔ ان روٹوں کو نہ صرف روس بلکہ وسط ایشیا کی تمام ریاستیں استعمال کرسکتی ہیں جن میں ترکمانستان بھی شامل ہے۔ ہمارے وزیر اعظم، صدر محمدوف سے مل کر اسی گتھی کو سلجھانے کے لئے اشک آباد گئے تھے۔ اور یہ ان کا اشک آباد کا کوئی پہلا دورہ بھی نہ تھا۔ وہ قبل ازیں بھی اسی مقصد کے پیش نظر وہاں کے دورے کر چکے ہیں۔ اور یہ جو مستقبل قریب میں اشک آباد میں ’’قابلِ عمل ٹرانسپورٹ (Sustainable Transport) کا ذکر کیا جارہا ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا نام بھی لیا جارہا ہے تو قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ مستقبل میں اس خطے کا علاقائی قدوقامت کس اہمیت کا حامل ہوگا۔

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت سے پاکستان کا اصل تنازعہ ’’ پانی‘‘ نہیں ہے۔ ہمارے میڈیا پر مودی کے اس بیان پر لے دے ہو رہی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ بھارت دریائے ستلج، بیاس اور راوی کا پانی بالکل بند کردے گا۔۔۔۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ ان تینوں دریاؤں کا پانی تو پہلے ہی بند ہے۔ صرف وہ پانی کبھی کبھی ستلج اور راوی میں آجاتا ہے جس کو بھارت روک نہیں سکتا۔ (اور دریائے بیاس تو ایک طویل عرصے سے بنداور خشک پڑا ہے اور پاکستان کی سرحد سے پہلے ہی دریائے ستلج میں شامل ہو جاتا ہے) مودی صاحب کا بندشِ آب والا یہ بیان ایک بڑھک کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ ایک عوامی سیاسی وزیر اعظم ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ ان کے عوام کا IQاور ویژن کیا ہے، ان کو کیا کہنا ہے، کس زبان میں کہنا ہے اور اس کا اصل مفہوم کیا ہے۔۔۔۔ یہ سیاسی بڑھکیں اور بیانات نہ صرف اس خطے کا وطیرہ ہیں بلکہ امریکہ تک کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیں کہ ٹرمپ اور ہیلری نے بھی ماضی قریب میں کیا کیا اوٹ پٹانگ بیانات نہیں دئے تھے اور اب ان کی سوچ کیا ہے ۔۔۔ یہی حال بھارت کے مودی جی کا بھی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے اس پانی کو روکنے کی بڑھک ہے جو سالہاسال سے بھارت نے روک رکھا ہے اور دوسری طرف TAPIگیس پائپ لائن کا منصوبہ ہے جو اگر تکمیل پاتا ہے تو بھارت کی بہت سی توانائی کی ضرورتوں کا کفیل بن جاتا ہے۔۔۔ اس لئے کچھ عجب نہیں کل کلاں خود مودی صاحب بھی پاکستان کو درخواست کریں کہ ’’ہمیں بھی CPECکا روٹ استعمال کرنے کی اجازت مرحمت فرمایئے!‘‘

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...