پنجاب، محکمہ داخلہ کی طرف سے پہلی بار سزائے موت کے قیدی کی سزا پر ہمدردانہ غور کیلئے صدر مملکت کو سفارش

پنجاب، محکمہ داخلہ کی طرف سے پہلی بار سزائے موت کے قیدی کی سزا پر ہمدردانہ ...
پنجاب، محکمہ داخلہ کی طرف سے پہلی بار سزائے موت کے قیدی کی سزا پر ہمدردانہ غور کیلئے صدر مملکت کو سفارش

  

لاہور (ویب ڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے تاریخ میں پہلی مرتبہ آر پی سی کے سیکشن A-402 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سزائے موت کے قیدی کی سزا پر ہمدردانہ غور کرنے کیلئے صدر مملکت کو سفارش کردی ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے یہ سفارش گجرات جیل میں سزائے موت کے قیدی اقبال عرف بالی کیلئے کی ہے۔ منڈی بہاﺅالدین سے تعلق رکھنے والا اقبال عرف بالی جو ٹرائل کے وقت نابالغ تھا کو 1999ءمیں پہلی مرتبہ ڈکیتی کے دوران قتل کرنے پر گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد ملزم کی طرف سے ہائیکورٹ میں کی جانے والی اپیل 20 مارچ 2002ءکو یہ کہہ کر مسترد کردی کہ بیشک اقبال عرف بالی قتل کرنے کے وقت نابالغ تھا لیکن اس کا جرم اتنا سنگین ہے کہ اسے سزائے موت ہونی چاہیے۔ اقبال عرف بالی کے لواحقین نے مدعی پارٹی کو 10 لاکھ روپے بطور دیت دئیے لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کے خلاف 396ت پ کے تحت مقدمہ درج ہوا اس میں صلح نہیں ہوسکتی۔ جس کے بعد مدعیوں کو 10 لاکھ روپے بالی کے لواحقین کو دینا پڑے۔ سپریم کورٹ نے اس کی نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کردی۔

انسانی حقوق کے لاہور میں پریکٹس کرنے والے وکیل نے رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد صدر مملکت کو دوبارہ درخواست دی کہ ملزم اقبال عرفبالی ٹرئل کےو قت نابالغ تھا۔ صدر مملکت نے اس خط کے بعد محخمہ داخلہ پنجاب سے سفارشات طلب کرلیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اس خاص کیس میں تریخ میں پہلی مرتبہ سی آر پی سی کے سیکشن A-402 کے اختیارات جس میں صوبائی حکومت صدر مملکت کو کسی بھی مجرم کی طرف سے سزائے موت کو ختم کرنے کے حوالے سے کی گئی۔ اپیل معاف کرنے کا کہہ سکتی ہے، استعمال کرتے ہوئے صدر مملکت کو اقبال عرف بالی کی سزائے موت کیس زا پر کی جانے والی رحم کی اپیل پر ہمدردانہموقف اختیار کرنے کی سفارش کی ہے۔

مزید : لاہور