وہ عورت جو اپنی بیٹی کی عزت بچانے کے لئے 9 سال تک پاگل بن کر دہشتگردوں کے سامنے خود کو سڑکوں پر گھسیٹتی رہی اور اپنے اوپر پیشاب کرتی رہی

وہ عورت جو اپنی بیٹی کی عزت بچانے کے لئے 9 سال تک پاگل بن کر دہشتگردوں کے سامنے ...
وہ عورت جو اپنی بیٹی کی عزت بچانے کے لئے 9 سال تک پاگل بن کر دہشتگردوں کے سامنے خود کو سڑکوں پر گھسیٹتی رہی اور اپنے اوپر پیشاب کرتی رہی

  

ابوجہ(مانیٹرنگ ڈیسک)نائیجیریا میں جب شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے کئی دیہات پر قبضہ کیا ، مردوں کو قتل کر دیا اور خواتین کو جنسی غلام بنا لیا، تب ایک عورت نے اپنی کم سن بچی کی عزت بچانے کے لیے 9ماہ تک ایسا ڈرامہ رچائے رکھا کہ سن آپ اس کی ہمت کی داد دیں گے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اگست 2014ءمیں جب شدت پسند زینب ہمایاجی نامی اس خاتون کے گاﺅں پر حملہ آور ہوئے تو دیگر مردوں کے ساتھ اس کے شوہر کو بھی قتل کر دیا۔ زینب کے4بچے تھے، جن میں بڑی بیٹی حسنہ کی عمر 12سال تھی اور اسے خطرہ تھا کہ شدت پسند اسے جنسی غلام بنا کر ساتھ لے جائیں گے۔

بریانی کی ایک پلیٹ نے شادی شدہ جوڑے کی زندگی اُجاڑ دی، بات علیحدگی تک جا پہنچی

اس نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے فوری ایک منصوبہ بنایا۔ وہ اس وقت گھر کے پاس ایک کھائی کے قریب موجود تھیں، چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کو کھائی میں دھکا دے دیا اور خود اپنے بال کھول کر اور کپڑے پھاڑ کر پاگل بن گئی۔شدت پسند اس کے پاس آئے تو اس نے پاگل ہونے کا ڈرامہ رچانا شروع کر دیا۔ شروع میں شدت پسندوں کو اس کے پاگل ہونے پر شک گزرا، انہوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایالیکن وہ ثابت قدم رہی۔ وہ اگلے مسلسل 9ماہ تک گاﺅں کی گلیوں میں برہنہ اور نیم برہنہ گھومتی رہی۔ اس دوران وہ اپنے اوپر پیشاب کرتی اور اپنا پاخانہ اپنے کپڑوں اور جسم پر مل لیتی۔ وہ کہیں نہ کہیں سے کھانے پینے کی اشیائ، سبزیاں، ماچس اور دیگر اشیاءاس کھائی میں پھینکتی رہتی جس میں اس کی بیٹی تھی۔حسنہ خود ہی وہاں کھانا پکا کر کھاتی رہی اور 9ماہ تک اسی کھائی میں رہی۔پھر ایک دن فوج نے ان کے گاﺅں کو بوکوحرام کے قبضے سے چھڑوا لیا اور زینب کو اس اذیت ناک زندگی سے نجات مل گئی۔ اب وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہے جہاں اس نے اپنی یہ کہانی میڈیا کو سنائی اور دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس