عرب دنیا میں قبریں لوٹنے والی 95 سالہ خاتون

عرب دنیا میں قبریں لوٹنے والی 95 سالہ خاتون
عرب دنیا میں قبریں لوٹنے والی 95 سالہ خاتون

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) تاریخی مقامات سے قیمتی نوادرات چرانے جیسی واردات کوئی شاطر اور خطرناک مجرم ہی کر سکتا ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک 95 سالہ بڑھیا پر بھی یہ الزام لگ گیا ہے اور متعلقہ حکام نے معاملے کی تفتیش بھی شروع کر دی ہے۔ 

سعودی عسکری اتحاد نے یمن کے لیے پروازوں کی اجازت دے دی: اقوام متحدہ

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہوان ہاورڈ نامی یہ خاتون ایک سابق سفارتکار کی اہلیہ ہیں اور 1960ء اور 70ء کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کے قدیم مقبروں میں آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والی ٹیموں کے ساتھ آزادانہ طور پر آتی جاتی رہی تھیں۔ حال ہی میں ایک آسٹریلوی اخبار نے ہوان کے پاس موجود تاریخی نوادرات کے بڑے ذخیرے کے بارے میں خبر شائع کی تو یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوا کہ ان کے پاس یہ قیمتی نوادرات کہاں سے آئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ انکشافات سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا کے شعبہ امور خارجہ نے ہوان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

دوسری جانب مصر کے ادارہ برائے قدیم نوادرات کے ڈائریکٹر جنرل شعبان عبدالغواد کا بھی کہنا تھا کہ آسٹریلوی حکومت سے اس معاملے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں تاکہ پتہ چلایا جاسکے کہ تاریخی نوادرات غیر قانونی طور پر کس طرح مصر سے باہر لے جائے گئے۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ہوان ہاورڈ کے پاس موجود تاریخی نوادرات کی کولیکشن کی مجموعی مالیت 10لاکھ ڈالر (تقریباً 10کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد ہے۔ ان میں سے کچھ نوادرات، جیسا کہ رومی سلطنت کے دور کے ہتھیار اور قدیم مصری سلطنتوں کے سکے و زیورات، 40 ہزار سال سے بھی قدیم ہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ہوان نے یہ نوادرات مصر کے علاوہ شام، اردن،لبنان، فلسطین اور اسرائیل جیسے ممالک میں واقع تاریخی مقبروں سے بھی حاصل کئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس