لاہور کی وہ جگہ جہاں سکھ اور مسلمان ساتھ ساتھ عبادت کرتے ہیں، جانئے وہ بات جو آپ کو معلوم نہیں

لاہور کی وہ جگہ جہاں سکھ اور مسلمان ساتھ ساتھ عبادت کرتے ہیں، جانئے وہ بات جو ...
لاہور کی وہ جگہ جہاں سکھ اور مسلمان ساتھ ساتھ عبادت کرتے ہیں، جانئے وہ بات جو آپ کو معلوم نہیں

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) شہر لاہور کے دل میں واقع تاریخی بادشاہی مسجد کے پاس ہی سکھوں کی قدیم عبادت گاہ گردوارہ ڈیرہ صاحب واقع ہے۔ ایک جانب مسلمان تاریخی مسجد میں سجدہ ریز ہوتے ہیں تو دوسری جانب سکھ اپنے گردوارہ میں عبادت کرتے ہیں۔ یوں ساتھ ساتھ واقع یہ دو مقامات صرف تاریخ کا ہی ایک اہم باب نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کی بھی خوبصورت مثال ہیں۔ 

ڈی این اے نے قتل کے مجرم کی 39 سال قید کے بعد بریت ثابت کردی

لاہور میں سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو کی یاد میں ایک عمارت 1619ء میں ان کے صاحبزادے گرو ہرگووند نے تعمیر کروائی۔ بعدازاں راجہ رنجیت سنگھ نے یہاں پر ایک گردوارے کی تعمیر کروائی جو کہ شاہی قلع کے سامنے اور بادشاہی مسجد کے نزدیک واقع ہے۔

لاہور شہر میں ایک گردوارہ ٹیمپل روڈ پر جبکہ دو ڈیرہ صاحب کمپلیکس میں واقع ہیں۔ ان تین عبادت گاہوں میں مقامی سکھ ہی نہیں بلکہ بھارت اور دنیا بھر سے بھی سکھوں کی بڑی تعداد حاضری کے لئے آتی ہے۔ ہر سال بھارت سے تین ہزار سے زائد سکھ گردوارہ ڈیرہ صاحب کا دورہ کرتے ہیں۔ مقامی سکھ بھی یہاں ہر روز باقاعدگی سے عبادت کرتے ہیں۔ گردوارہ ڈیرہ صاحب کی دیواریں خوبصورت پتھروں اور نقش و نگار سے سجائی گئی ہیں۔ اس کی چھتوں پر شیشے سے انتہائی دلکش نقش کاری کی گئی ہے۔ اس کا طرز تعمیر مغل، ہندو اور سکھ روایات اور انداز تعمیر کا مرکب ہے۔

راجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت بھارتی پنجاب، ہریانہ، کشمیر اور پشاور سے لے کر جنوبی پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی حکمرانی کا دور 39 سال پر محیط تھا۔ رنجیت سنگھ کے بعد اس کے بیٹے کھڑک سنگھ نے گرو ارجن دیو گردوارہ کے قریب ایک نئی عمارت تعمیر کروائی تھی، جسے بعدازاں 1848ء میں اس کے بیٹے دلیپ سنگھ نے مکمل کروایا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس