وزیراعظم بننے کے خواب

وزیراعظم بننے کے خواب
 وزیراعظم بننے کے خواب

  

کہتے ہیں کہ آنکھ اگر خواب نہ دیکھے تو قیامت آ جائے۔تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان اکتوبر1999ء کے بعدسے اب تک وزیراعظم پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں،سب سے پہلے ان کو وزیراعظم بنانے کا پہ خواب اس وقت اقتدارپر قابض باوردی جنرل پرویز مشرف نے دکھایا تھا،جس پرعمران خان نے اپریل2002ء میں جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی صدارتی ریفرنڈم میں ان کی بھرپور حمایت کی۔

لیکن خان صاحب کو اس سُہانے خواب کی بھیانک تعبیراس وقت ملی، جب اکتوبر2002ء کے عام انتخابات میں ان کو میانوالی سے قومی اسمبلی کی صرف ایک سیٹ پر ٹرخا دیا گیا۔اس دوران جنرل پرویزمشرف نے تین وزیر اعظم تبدیل کئے، لیکن جناب عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا خواب،خواب ہی رہا۔

اس کے بعد 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی خان صاحب کے خواب کو عملی تعبیر نہ مل سکی کیونکہ اُنہوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

پھر جناب عمران خان نے پانچ سال تک طویل انتظار کیا اور مئی2013ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کے خواب کو عملی تعبیر دینے کی کوشش کی، لیکن قسمت کی دیوی ان پر مہربان نہ ہوئی تو انھوں نے دھاندلی کا رونادھوناشروع کردیا۔

سول نافرمانی تحریک چلائی، لیکن عوام نے ان کی کال پر کان نہ دھرے،اسلام آباد میں دئیے گئے دھرنوں میں وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بار بار استعفے کالا یعنی مطالبہ کرتے رہے،ان کی باتوں اور دعوؤں سے لگتا تھا وہ امپائر کواپنے ساتھ ملا کر کھیل رہے تھے اسی لئے امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے رہے، لیکن امپائر کی انگلی تھی کہ اٹھ نہ سکی۔

عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کے بھاشن کو میاں نواز شریف نے بھی ردکر دیا،جب پاناما کیس میں عدالت کی طرف سے میاں نواز شریف کو محض اقامہ کی بنیاد پر نا اہل کر دیا گیا تو ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنادیا گیا، لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ خان صاحب کا رونا دھونا آج بھی جاری و ساری ہے۔

وزیراعظم بننے کے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن اب عوام و زیر اعظم صر ف اسی لیڈر کو ہی بنائیں گے، جس نے ملک و قوم کے لئے کچھ کیا ہوگا۔

2013 ء سے لے کر اب تک ملک کے حالات پاکستان کے عوام کے سامنے ہیں کہ کس سیاسی جماعت اوراس کے قائدین نے ترقی کے ایجنڈے اور وژن پر عمل کیا اور کس سیاسی جماعت اور اس کے رہنماؤں نے پاکستان کو سیاسی و معاشی لحاظ سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔

مجھے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اس منطق پر حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے بری ہو جائیں گے اور نااہلی سے بچ جائیں گے۔ میاں نواز شریف کو محض اقامہ کی بنیاد پر نا اہل کر دیا گیا، جبکہ عمران خان پر الزامات اس سے کئی گنا زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں، جن سے بچنا بادی النظر میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

لیکن فیصلہ چونکہ عدالت نے کرنا ہے ، اس لئے اُمیدیہی کی جا سکتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ عمران خان کے معاملے پر ایسا فیصلہ کرے گی جو عدل وانصاف کے تقاضوں پر پورا اترے گا اور جس پر پاکستان کے عوام بھرپور اعتماد کریں گے۔

بات یہ ہے کہ پاکستان اب1999 اور2002سے بہت آگے نکل گیاہے، ملک میں جمہوریت اور آئین و قانون کی حکمرانی پرنا صرف فوج بلکہ پوری قوم کابھی اتفاق ہے، پاکستان میں جمہوریت کے ا ستحکام اور تسلسل کے لئے اداروں کا غیر جانبدار ہونااس لئے انتہائی ضروری ہے کہ اس کی بدولت ہی ملک میں سیاسی و معاشی ترقی کی مضبوط اور دیرپا بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

جو فارمولے 80 اور90 میں چلے آج نہیں چلیں گے، اب ایک ہی فارمولا ہے وہ حکومتی کارکردگی اور عوامی تائید ہے۔2013ء میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو قومی خزانہ خالی تھا،ملک کو دہشت گردی، بدامنی، کرپشن، مہنگائی ،بیروز گاری،بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا۔

مسلم لیگ کی حکومت نے ملک کو درپیش مسائل سے نکلنے کے لئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی، حکومتی پالیسیوں کی بدولت ملک میں مہنگائی ،بدامنی، کرپشن،بیروز گاری،بجلی کی لوڈشیڈنگ اوردہشت گردی کی شرح میں گذشتہ ساڑھے4سالوں میں مسلسل اور نمایاں کمی آئی ہے۔

اب ملک عام انتخابات کی طرف جارہا ہے اور ہر شہری چاہتا ہے کہ انتخابات کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں، قوم انتخایات کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔

مزید : کالم