ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک میں تیزی

ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک میں تیزی
 ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک میں تیزی

  

مودی حکومت کے دور اقتدار میں تعلیمی نظام کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر وزیر تعلیم سمرتی ایرانی کو بے دخل کر دیا گیا اور ان کی جگہ نئے وزیر تعلیم پرکاش جاوڈ یکر نے تعلیمی پالیسی کی تشکیل کے لئے سنگھ پریوار کے نام نہاد علمی مفکرین سے سفارشات تیار کروائی ہیں کہ پرائمری و ہائی سکول کی سطح پر سنگھ پریوار کے نظریات کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے؟

ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کے متعدد رہنماؤں شیاما پرساد مکھرجی، ویر ساورکر، اودھے شنکر کے ساتھ ساتھ گاولکر کے نظریات اور بنچ آف تھاٹ کے اسباق شامل کئے گئے ہیں۔

راجستھان کی بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق اول تا بارہویں جماعت کی تمام نصابی کتابوں کی تشکیل نو کر چکی ہے تاکہ تعلیم کے ذریعے بھارتی وچاردھارا سنسکرتی کی تعلیم دی جائے اور تعلیمی اداروں کا بھی شدھی کرن ہوسکے۔

الغرض ہریانہ، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش کے پورے تعلیمی نصاب کے بھگوا کرن اور ان کے نفاذ کو دیکھیں تو اس کے نکات کچھ اس طرح ہیں۔

1۔تہذیب کو بھارتی وچار دھارا کا رنگ دینا ۔

2۔بدیشی حملہ آوروں اور حکمرانوں کی تہذیب و عقائد کا شدھی کرن ۔

3۔مغل حکمرانوں کے عقائد کے خلاف نفرت پھیلانا ۔

4۔ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب کے باب نمبر 13 میں صاف صاف لکھا ہے کہ اور نگزیب ہندوؤں سے نفرت کرتا تھا۔

5۔مغل حکمرانوں نے مندر توڑ کر مسجدیں بنوائیں۔

6۔ساتویں اور آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کے اسی باب 13 تا 15 میں محمود غزنوی اور علاؤ الدین خلجی کے مندر توڑنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

اس تعلیمی نصاب میں جگہ جگہ مغل حکمرانوں کے لئے ’’ودیشی آکرمن کاری‘‘ یعنی غیرملکی حملہ آور کے جملے استعمال کئے گئے ہیں۔

لہٰذا مذکورہ نکات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ طلبہ میں ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک طلبہ پیدا کی جا رہی ہے۔ ایسا ہندو راشٹر جس میں برہمنوں، اعلیٰ ہندو طبقات کو بالادستی حاصل ہو اور باقی طبقات دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے ان کی بالادستی کو قبول کر لیں۔ تعلیمی اداروں میں یوگا کے ساتھ ساتھ بھگوت گیتا کی تعلیم، سوریہ نمسکار اور ہفتے کے آخری دن، بال سبھا اور بال پرارتھنا کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں مخصوص منتر پڑھائے جاتے ہیں، کھانے کے وقفے میں ’’بھوجن منتراس‘‘ کا جاپ اور ہر ضلع کے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپوں میں بھی یوگا کیمپ منعقد کئے جاتے ہیں۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق ہندوستان بھر کے پسماندہ طبقوں کے بچوں، خصوصی طور پر دور دراز کے غریب مسلم طلبہ کو ان میں شریک کروایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کے مختلف علاقوں میں آر ایس ایس کے نرسری ادارے ششو مندر، سیوا بھارتی کا قیام ۔۔۔ ان اداروں کو ریاستوں و حکومتوں سے باقاعدہ منظوری دلوائی گئی ہے۔ ان نرسری و پرائمری ششو مندروں میں آر ایس ایس کے پرچارکوں کی بطور اساتذہ بھرتی کی جا رہی ہے۔

آر ایس ایس کی تعلیمی تنظیم ’’ودیا بھارتی‘‘ اور ’’بھارتی جن سیوا سنتھان‘‘، بھارتیہ شکشا سنتھان کو یہ پراجیکٹ دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد ایسے تعلیمی ادارے قائم کرے۔

سنگھ پریوار کی تعلیمی تنظیموں کو ہدف دیا گیا ہے کہ پورے بھارت میں اکالی دل اور ودیا دل جیسے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لائیں۔ واضح رہے کہ ودیا بھارتی کے تحت ہندوستان میں 43 ہزار کے لگ بھگ ایسے فرقہ پرست ادارے پہلے ہی ہندوتوا کی تعلیم دینے میں سرگرم ہیں۔

ان تعلیمی اداروں میں طلبہ کو چاہے، وہ مسلم ہوں یا ہندو انہیں کٹر ہندو اور آر ایس ایس کے نظریات پڑھائے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں بھارت کے تمام شہروں، دیہاتوں کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بالاگو کولم کلاسز( بچوں کے مکتب) کے تحت گوگل درشن قائم کئے گئے ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد طلبہ کو آر ایس ایس سے قریب کرنا ہے تاکہ طلبہ پراجین سنسکرتی رسم و رواج، ہندو دھرم کے عقائد کے بارے میں جان لیں۔

ملک گیر سطح پر بالاگو کولم کلاسز این جی اوز کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ منصوبے کے مطابق بی جے پی حکومتوں والی ریاستوں میں محکمہ تعلیم کے تعاون سے پرائمری تا ہائی سکولوں میں اسے شروع کیا گیا اور دیگر ریاستوں میں بھی متعلقہ ریاستی محکمہ تعلیم کے تعاون سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔

مجوزہ گھناؤنے منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے کے طور پر دارالحکومت دہلی کے تعلیمی اداروں میں 900 کے لگ بھگ ’’گوگل درشن‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ان کے تخت سوریہ نمسکار، وندے ماترم اور گیتا کا پاٹ پڑھایا جارہا ہے۔

ہندو ریتی رسم و رواج سے جوڑ کر دیگر طبقوں کا ’’شدھی کرن‘‘ بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندی، مراٹھی و علاقائی زبانوں کے ساتھ انگریزی کے طلبہ کی بھی گوگل درشن پروگرام میں شرکت لازمی قرار دی گئی ہے۔

اس ضمن میں اساتذہ کی ذہنی تربیت کے لئے بھی مختلف پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ دہلی میں جاری گوگل درشن کے اساتذہ سے لے کر انتظام آر ایس ایس پرچارک اور سنگھ کے تربیت یافتہ استاد کر رہے ہیں۔

گوگل درشن میں تحریک طلبہ کے لئے تعلیمی پیکیج اور تعلیمی اسکالر شپ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تعلیم کے بھگواکرن کے تحت طالب علموں کو نامور مندروں کا مطالعاتی دورہ بھی کروایا جاتا ہے۔ ہندو دھرم کی تحقیقات اور روحانی و مذہبی اعلیٰ شخصیات کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔

سنسکرت زبان کے ساتھ مذہبی گرنتھ بھی طلبہ کو یاد کروائے جاتے ہیں۔ یوگا کو جدید ورزش سے جوڑتے ہوئے انہیں مذہبی عبادات کی تعلیم دی جارہی ہے۔ گوگل درشن میں تمام مذاہب کے طلبہ کی شرکت کو لازمی قرار دیا گیا ہے

ان کلاسز میں پورانا، اشلوک، سنسکرت، کہانیاں، ہندو لڑائیاں اور بیرونی اقوام کی ہندوستان پر یلغار اور تسلط جیسے عنوانات بھی پڑھائے جا رہے ہیں۔ سکول کے بچوں میں ہندو اقدار کو پروان چڑھانے اور تاریخ سے واقف کروانے کے لئے آر ایس ایس نے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی ہے۔

آر ایس ایس نے بی جے پی کی سرپرستی میں 18 سال سے کم عمر کے طالب علموں میں ہندو انتہا پسندی، قومیت کے علاوہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ذہن سازی کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ دراصل بالاگو کولم کا آغاز سب سے پہلے 1975ء میں کیرالہ میں ہوا تھا۔

1981ء میں اس کا باضابطہ رجسٹریشن کروایا گیا تھا۔ اس کی تجدید کرتے ہوئے سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لئے پرچارکوں، گروؤں اور پنڈتوں کو احکامات دیئے گئے ہیں۔ یہ کام تاریخ اور لسانیات کے اساتذہ کے سپرد کیا گیا ہے۔

بچوں کو ہندو طریقۂ زندگی اور ہندو نظام حیات سکھانے کے ساتھ ساتھ ہندد توا کی سربلندی اور مسلمانوں کے خلاف من گھڑت تاریخی واقعات پڑھائے جاتے ہیں۔

مودی سرکار کے آتے ہی بھارت کے سکولوں کا بھگوا کرن کا مذموم سلسلہ ہی شروع نہیں ہوا، بلکہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا عمل بھی باقاعدہ پلاننگ کے تحت جاری ہے اور اسی منصوبے کے مطابق دہلی کے تعلیمی اداروں میں ممبر سازی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

طالب علموں سمیت اساتذہ پر بی جے پی کی رکنیت قبول کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، وگرنہ اساتذہ کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ اساتذہ اور طلبہ کو ’’واٹس ایپ‘‘ پر پیغام ارسال کیا گیا تھا اور انہیں ممبر شپ کے لئے ایک ٹول فری نمبر بھی دیا گیا تھا۔

مزید : کالم