ہوش کو جوش پر غالب رکھیں

ہوش کو جوش پر غالب رکھیں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اسلام آباد دھرنے کے معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد ملکی ہم آہنگی اور قومی مفاد کے لئے ٹھیک نہیں ہے، فریقین صبر و تحمل سے کام لیں اور معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔آرمی چیف نے وزیراعظم کو فون کر کے کہا دونوں جانب سے تشدد نہ کیا جائے، ہفتے کی صبح پولیس،ایف سی اور رینجرز کی جانب سے کئے گئے آپریشن کے بعد دھرنے کا علاقہ میدانِ جنگ بنا رہا، سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا، مظاہرین نے پولیس چوکی،20 سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جلا دیں، جبکہ دکانوں اور میٹرو سٹیشن میں توڑ پھوڑ کی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، دوپہر کے وقت ڈنڈا برداروں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی،وزارتِ داخلہ کی درخواست پر اسلام آباد میں فوج طلب کر لی گئی ہے،جسے وفاقی دارالحکومت کی اہم عمارتوں کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔راولپنڈی میں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے گھر اور پسرور میں وزیر قانون زاہد حامد کے آبائی گھر پر حملے گئے گئے،شیخوپورہ میں قومی اسمبلی کے رکن جاوید لطیف حملے میں زخمی ہو گئے اور اُنہیں ہسپتال لے جانا پڑا، دھرنا ختم کرانے کے لئے پولیس کا آپریشن کامیاب نہیں ہو سکا،ہنگامہ آرائی میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ایک پولیس اہلکار کو مظاہرین نے تشدد کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا، پولیس کا موقف ہے کہ اِس کی جانب سے مظاہرین پر کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔

فیض آباد چوک پر دھرنے کا آغاز ہوا تو شروع شروع میں تعداد زیادہ نہیں تھی، تاہم اِن سینکڑوں افراد نے بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمدو رفت کو ناممکن بنا دیا، حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جو مذاکرات کئے گئے اُن کا کوئی نتیجہ نہ نکلا،حکومت نے معاملہ حل کرنے کے لئے علما و مشائخ کی خدمات بھی حاصل کیں، تاہم یہ بھی کوئی رنگ نہ لا سکیں،دھرنے والے اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے اور حکومت بھی اپنے موقف پر قائم رہی، یوں اس کے خاتمے کی جانب کوئی پیش رفت نہ ہو سکی،دھرنا جب طویل ہونے لگا اور لاکھوں شہریوں کو پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا ہوا تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ دھرنا اُٹھا کر راستے آمدورفت کے لئے کھولے جائیں،سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لے کر حکم جاری کیا،تاہم اِن عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے کئے گئے اقدامات کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا، عدالتی احکامات ملنے کے باوجود حکومت کی کوششیں یہی رہیں کہ معاملہ مذاکرات سے حل کیا جائے، اس کوشش میں عدالتی احکامات پر بھی اُن کی روح کے مطابق عمل نہ کرایا جا سکا،جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے۔

تمام تر کوششوں کے باوجود جب یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو انتظامیہ نے مظاہرین کو الٹی میٹم دے دیا کہ اگر انہوں نے علاقہ خالی نہ کیا تو کارروائی کی جائے گی، یہ کارروائی بھی ہوئی،لیکن اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی،دھرنا بدستور موجود ہے اور اس کے ردعمل میں کئی شہروں میں پُرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا تو بالکل درست ہے کہ تشدد قومی مفاد میں نہیں اور فریقین کو پُرامن طریقے سے مسئلے کے حل کرنا چاہئے،لیکن زمینی حقائق تو یہی ہیں کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے بار بار مذاکرات کئے گئے،جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے،احتجاج بے شک مظاہرین کا حق ہے،لیکن اِس حق کی حدود وہاں ختم ہو جاتی ہیں جہاں سے دوسرے لوگوں کے حقوق شروع ہوتے ہیں، جو لوگ اِس حق کی وکالت میں بہت دور تک چلے جاتے ہیں کیا اُن کے پاس اِس سوال کا جواب ہے کہ چند سو لوگوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ دھونس اور دھاندلی سے وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کا باہمی تعلق ہی ختم کر دیں۔

ایک اندازے کے مطابق روزانہ دونوں شہروں سے دو لاکھ سے زائد افراد ایک سے دوسرے شہر میں آتے جاتے ہیں، ان میں وہ سرکاری ملازمین بھی ہیں جو بکار سرکار سفر کرتے ہیں کیا کسی کے پاس اِس بات کا جواب ہے کہ اُن لاکھوں لوگوں کا 19 دن تک راستہ روکے رکھنا کس قانون و ضابطے کے تحت روا ہے؟اِس بحث میں پڑے بغیر کہ مظاہرین اگر وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اِس میں وہ کس حد تک حق بجانب ہیں اِس بات کا جواب تو تلاش کرنا ہو گا کہ کیا اُن لاکھوں لوگوں کے کوئی حقوق نہیں، جنہیں اِس دوران انتہائی اذیت ناک صورتِ حال کا سامنا رہا اور اب تک ہے، اور کیا کوئی حکومت ان کے حقوق کے سلسلے میں جواب دہ ہے؟ فرض کریں مظاہرین اپنے اِس مطالبے میں حق بجانب بھی ہوں تو بھی اسے منوانے کے لئے اُنہیں اِس حد تک جانے کی اجازت کوئی قانون اور ضابطہ نہیں دیتا،جو علماء اور مشائخ دھرنا ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف رہے، اب تو وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ تصادم کی صورتِ حال ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیدا ہوئی، پھر سپریم کورٹ نے جو حکم دیا تھا وہ بھی یہی تھا کہ اُنہیں شاہراہِ عام سے اُٹھا کر دوسری جگہ پر منتقل کر دیا جائے جہاں وہ بے شک دھرنا دے کر بیٹھے رہیں،لیکن مظاہرین اِس پر بھی تیار نہیں ہوئے۔

ایسے میں جو صورتِ حال پیدا ہوئی اس میں انتظامیہ کتنی قصور وار ہے اور خود مظاہرین کا اس میں کتنا کردار ہے اِس کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہئے۔بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ختم نبوت کے معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے، حالانکہ حلف نامے میں جو ترمیم ہوئی تھی وہ واپس ہو چکی، اور اب اِس سلسلے میں کوئی مسئلہ نہیں رہا، اصولاً تو اِس کے بعد دھرنے کا جواز ہی نہیں تھا، اب کہا گیا ہے کہ وزیر قانون ہی نہیں، پوری حکومت ہی مستعفی ہو، اِس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ دھرنے کا بنیادی ٹارگٹ شروع سے حکومت ہی ہے اور بظاہر وزیر قانون کا نام اصل مقصد کو پوشیدہ رکھنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے،حکومت کی جانب سے اب بھی مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے اور مسئلے کو پُرامن طور پر حل کرنے کے لئے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں ہے،تشدد کو خیرباد کہہ کر اور ہوش کو جوش پر غالب کر کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے سلجھایا جا سکتا ہے اگر ایک فریق ضد پر اڑا رہے تو دوسرے فریق کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو سکتیں۔

مزید : اداریہ