فاضل خوراک اور زرعی پالیسی!

فاضل خوراک اور زرعی پالیسی!

پاکستان اللہ تعالیٰ کی عنایت اور نعمت ہے، اِس پر آفات و بلیات کے باوجود رحمت رہتی ہے، موسمی تغیرات کا مزہ حال ہی میں چکھا گیا، جب سموگ نے ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ ہم انسان ہر سُو ایسے کام کرتے ہیں کہ نقصان کا سامنا ہوتا رہے،لیکن رحمتِ باری کو پھربھی رحم آتا ہے۔یہ خیال ایک خبر سے آیا، جس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی طرف سے وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنے پاس گندم کے ذخیرے سے 15 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا، بلکہ پہلے بھی فاضل گندم برآمد کی گئی اور اب پھر پنجاب کے پاس اتنی فاضل گندم ہے کہ15 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے سے ذخیرے پر فرق نہیں پڑے گا اور ضرورت سے زائد گندم پھر بھی ہو گی۔اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ پنجاب ہی نہیں، سندھ میں بھی گندم ضرورت کے مطابق یا زیادہ ہو جاتی ہے۔اگرچہ موسمی تغیرات اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔بہرحال ضرورت اِس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شکر ادا کر کے محکمہ خوراک و زراعت کو نہ صرف گندم، بلکہ دوسری ضروری فصلوں پر بھی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ اِن میں دالیں اور سبزیاں بھی شامل ہیں۔ محنت اور لگن سے درست اور صحیح طریقے اختیار کر کے مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ادھر وفاقی کابینہ نے بھی زراعت کے حوالے سے اہم ترین فیصلہ کیا کہ مستقبل کی زرعی پالیسی کی تشکیل مشترکہ مفادات کونسل کرے گی۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ اس کونسل کو آئین کے مطابق جتنا فعال ہونا چاہئے تھا، اتنی نہیں ہوئی،اِس لئے باقاعدہ طور پر کونسل کا سیکریٹریٹ بنایا جائے۔ کابینہ کے اگلے اجلاس میں اِس بارے میں رپورٹ اور تکمیل کی حکمتِ عملی پر غور ہو گا۔ یہ اچھا اور مثبت فیصلہ ہے ۔ جدید صنعتی دور کے باوجود پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور چاروں صوبوں میں زراعت ہوتی ہے، مشترکہ مفادات کونسل میں سب کی نمائندگی ہے۔ اِس لئے فیصلے بھی مشترکہ مفادات کے تحت ہی ہوں گے اور زراعت مزید ترقی کرے گی۔

مزید : اداریہ