دس ہزار کالم لکھنے والا کالم نگار

دس ہزار کالم لکھنے والا کالم نگار
 دس ہزار کالم لکھنے والا کالم نگار

  

چند ماہ قبل حلقۂ اربابِ ذوق کا دوسرا اجلاس ہوا، جس میں مجھے اپنی نظم پیش کرنا تھی۔ حلقۂ اربابِ ذوق لاہور جو ایک عرصے سے دو حصوں میں تقسیم تھی، الحاقِ حلقہ کے بعد نومنتخب سیکرٹری غلام حسین ساجد نہایت دھیمے مزاج کے نفیس انسان ہیں،جو یقیناًحلقے کی روایات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی قدروں کو ساتھ لے کر چلنے کی مکمل خصوصیات رکھتے ہیں، نشست سے دو روز قبل یاد دہانی کے واسطے اُن کا فون آیا،انہوں نے گفتگو میں دھیمے لہجے میں نسیم شاہد کی ریٹائرمنٹ کے علاوہ اُن کی سالگرہ کا ذکر کچھ یوں کیا کہ مَیں ’’خبر‘‘ سے زیادہ سالگرہ کی طرف متوجہ رہی۔

مَیں نے کہا کہ مجھ سے نسیم شاہد صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ کا ذکر نہیں کیا،لیکن آفرین ہے غلام حسین ساجد پر کہ انہوں نے پھر بھی غالباً کا لفظ لگا کر میرے یقین کو بے یقینی کے میدان میں رہنے کی ایک فیصد کی گنجائش باقی رکھی۔۔۔کسے معلوم تھا کہ صدر بازار ملتان کینٹ میں زمانۂ طالب علمی میں پھٹا لگا کر گرمیوں میں برف اور سردیوں میں مونگ پھلیاں بیچنے والا نہ صرف شاعر،افسانہ نگار، دانشور، بلکہ درس و تدریس میں اعلیٰ مقام پر پہنچے گا۔

اس کا شمار آج ممتاز کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ نسیم شاہد کے نام کے اندر مکمل ایک کہانی ہے۔ وہ ہوا کا ایک ایسا جھونکا ہے ،جو ٹھنڈا بھی ہے اور تیز و تند بھی ہے۔یہ خود بھاگتا دوڑتا تو ہے،لیکن کمال یہ کہ ضمیر کو بھی سونے نہیں دیتا، تو گویا دس ہزار سے زائد کالم لکھنے والا نسیم شاہد آج کے دور میں اپنی مثال آپ ٹھہرا ہے،اس کے لئے کالم نگاری میں ’’سچ کا نعرہ‘‘، جھوٹے کا پول، ایمان کی پوٹلی، بے ایمان کے چھید، آمر کے ظلم اور رحم دِل کے رحم کی کہانیاں تو ملتی ہیں،لیکن ساتھ ساتھ فنِ ظرافت، جو اُن کی طبیعت کا ایک منفرد خاصہ ہے، وہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ اُن کی تحریروں میں ایک مزاحمتی رویے کی جھلک نمایاں ہے۔

ایک مرتبہ خود انہوں نے ذکر کیا کہ 1978ء میں زمانۂ طالب علمی میں میرے والد صاحب ہمیں چھوڑ کر خدا کو پیارے ہو گئے تو مَیں نے سوچا کہ ان نامساعد حالات میں خاندان میں اُن کے علاوہ کوئی کمانے والا نہیں تھا، سوچا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے نظام کو چلانے کے لئے گرمیوں میں پھٹے پر برف اور سردیوں میں مونگ پھلی بیچنا کسی بھی شخص کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔

اِس طرح وہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں یہ ثابت کر چکے تھے کہ اُن کے عزائم نہ صرف بڑے، بلکہ سچے بھی ہیں، اِس لئے انہوں نے وقتی تنگ دستی کو ختم کرنے کے لئے تعلیم کے ساتھ روزگار کے لئے حق حلال کی روزی کو ترجیح دی اور اُس کی برکات آپ کے سامنے ہیں۔۔۔آج کا نسیم شاہد وہ ہے جسے معروف صحافی، دانشور اور روز نامہ ’’پاکستان‘‘ کے ایڈیٹرانچیف مجیب الرحمن شامی صاحب ’’زندہ ‘‘ کہتے ہیں۔

اگر شامی صاحب اُن کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں تو پھر کیا مضائقہ ہے۔ نسیم شاہد نے اپنی تحریروں میں کلمۂ حق کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا ہو گا۔نسیم صاحب سرکاری ملازم تھے، لیکن انہوں نے ہر دور میں سچ کے لئے آواز اُٹھائی اور ہمیشہ غلط فیصلوں پر احتجاج کے لئے قلم اُٹھایا۔ اُن کے دوست احباب اُن کو بار ہا سمجھاتے کہ کیوں اپنی روزی پر لات مارنا چاہتے ہو، تو اُن کا جواب یہ ہی ہوتا:

’’کُبے کو لت لگ جائے گی تے اودا کُب نکل جائے گا‘‘

آزادی بہت بڑی نعمت ہے،لیکن آزادی قربانی مانگتی ہے، وہ جسمانی، روحانی اور معاشی بھی ہو سکتی ہے۔ یکم اپریل2017ء کو نسیم شاہد 34برس درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد گورنمنٹ سائنس کالج ملتان سے بطورِ پرنسپل ریٹائر ہوئے،لیکن یہ کیا وہ اِس ریٹائرمنٹ کے مرحلے کو یوں انجوائے کر رہے ہیں جیسے ایک منزل طے کرنے کے بعد اگلے درجے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے دور میں ہی وہ ایک مقبول طالب علم رہنما تھے،چکی کی مشقت، لکھنے کا عمل اور سٹوڈنٹ لیڈری سب کے ساتھ چل رہے تھے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے ایم اے اُردو کرنے کے بعد 1981ء میں بطورِ لیکچرر صادق پبلک سکول بہاولپور میں باقاعدہ نوکری کا آغاز کیا، لیکن ایک سال بعد 1982ء میں گورنمنٹ کالج شجاع آباد سے انہوں نے سرکار کے کھاتے میں اپنا نام لکھوا لیا۔

المیہ یہ ہُوا کہ شجاع آباد سے جب پہلی تنخواہ ملی تو بس میں کسی زیادہ مستحق نے اُن کی جیب پر ہاتھ صاف کر دیا۔ اب وہ جن محسوسات کے ساتھ خالی ہاتھ والدہ کے سامنے گئے، اس کا ذکر وہ آج بھی بے حد کرب کے ساتھ کرتے ہیں۔ صاحبِ کتاب ہونے کے شوق میں مبتلا نسیم شاہد نے اپنی چند ماہ کی تنخواہ جمع کر کے 1986ء میں اپنی شاعری کی پہلی کتاب ’’آئینوں کے شہر میں پتھر‘‘ کی اشاعت کر ڈالی۔ ملتان میں اِس کتاب کی رونمائی بڑی دھوم دھام سے ہوئی،جس کی صدارت منو بھائی نے کی اور قافلۂ پذیرائی میں اصغر ندیم سید اور اظہر جاوید جیسے لوگ لاہور سے خصوصی طور پر اس نوجوان شاعر کی حوصلہ افزائی کے لئے پہنچے۔ اسی موقعہ پر منو بھائی نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا: ’’جس کا ملتان مضبوط اُس کا اسلام آباد مضبوط ہوتا ہے‘‘۔

اس کی وجۂ تسمیہ یہ بتائی کہ جس درخت کی جڑیں گہری اور مضبوط ہوں،اس کو پھل اور پھول بھی لگتے ہیں اور وہ توانا بھی ہوتا ہے۔جیسا کہ نسیم شاہد جنوبی پنجاب کا ایک بڑا حوالہ اپنے کالموں کی وجہ سے بنا۔ قومی اور مقامی سطح پر انہوں نے مُلک کے چپے چپے کے مسائل کی نہ صرف بات کی،بلکہ حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کے لئے بھی متعلقہ حکام کو سرگرم کیا۔ان کا حلقۂ احباب وسیع تو ہے، لیکن جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور حامد سعید کاظمی اُن کے جان و جگر ہیں۔

اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ جب پرویز مشرف کے دور میں جاوید ہاشمی کو ایک ’’خط لکھنے‘‘ پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تو ایامِ اسیری میں انہوں نے ’’ہاں مَیں باغی ہوں‘‘ لکھنی شروع کر دی۔ وہ رات کو پہرہ داروں سے آنکھ بچا کر نسیم شاہد کو فون کرتے اور اپنے مسودے کے بارے میں مشاورت بھی کرتے۔

کالم نگاری کو چیلنج سمجھ کر اپنانے والے نسیم شاہد نے ابھی تک دس ہزار(10ہزار) سے زائد کالم لکھے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میاں منظور وٹو پنجاب کے چیف منسٹر تھے، تو نسیم شاہد نے اُن کے بارے میں ایک سخت کالم لکھ ڈالا، جس کی پاداش میں نسیم شاہد کا تبادلہ دور دراز کر دیا گیا، ضیاء الحق کے دور میں اصغر ندیم سید، سید صلاح الدین حیدر اور عابد عمیق جیسے لوگوں کو بطورِ سزا اُس وقت کے کیمبل پور اور موجود اٹک کے ایک کالج میں بھجوا دیا گیا، تعلیمی حلقوں میں اسے ’’کالے پانی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

نسیم شاہد ہمیشہ سے آزاد منش رہے، لیکن اب تو اُن کو رہائی مبارک کے پیغامات بھجوائے جا رہے ہیں۔ مجھے اُن کے عزائم بلند اور توانا لگ رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کے ارادوں میں وہ جھلک نظر آ رہی ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد جارج شلز نے امریکی شہر سیٹل میں اپنے گھر کے باہر اپنی بیوی کے ہمراہ ’’ ڈالر آبک‘‘ کے ساتھ ستارہ لگا کر کافی بیچنا شروع کر دی۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ ’’سٹار بکس‘‘ کے نام سے پوری دنیا میں ’’کافی‘‘ کے اس برانڈ کا راج ہو گیا۔ جان میکڈونلڈ نے بھی ریٹائرمنٹ کے بعد برگر بیچنے بہت چھوٹے پیمانے پر شروع کئے تھے، گویا ہم توقع کرتے ہیں کہ نسیم شاہد بھی کل کلاں کو جلد از جلد اگر خورد و نوش نہیں تو علم و ادب، صحافت یا آرٹ کی کسی بھی فارم کا برانڈ لانچ کرنے والے ہیں۔

اس کی نوید یوں ملتی ہے کہ یہ شخص عام لوگوں اور روایات سے ہٹ کر ریٹائرمنٹ کے بعد یوں خوش نظر آ رہا ہے جیسے اس کو دوبارہ زندگی مل گئی ہو۔ یہاں مجھے ایک فلم "One Golden Year" یاد آ رہی ہے، سو نسیم شاہد اپنی زندگی کو بھرپور اور گزشتہ کمیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرنے کے کے ساتھ خواہشوں کے پنچھیوں کی پرواز ’’ربابِ اول‘‘ پر کرنے والے ہیں:

اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مزید : کالم