رشوت، بدعنوانی اور اس کا سدِ باب (1)

رشوت، بدعنوانی اور اس کا سدِ باب (1)
 رشوت، بدعنوانی اور اس کا سدِ باب (1)

  

رشوت وہ چیز ہے جو کسی کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے دی جاتی ہے۔ یہ رقوم و تحائف دینے کا عمل ہے جو وصول کنندہ کے طرز عمل کو متاثر کرتا ہے۔

یہ ایک ایسا معاوضہ ہے جو کسی کو خلاف قانون کاروائی کرنے کے صلے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دیانتی سے کسی جائز حقدار کو محروم کرکے میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رشوت دینے والے کو فائدہ پہنچائے اور ہر وہ کام جو بددیانتی ، ضمیر فروشی، فراڈ، بداخلاقی، بدانتظامی، مجرمانہ عمل ، اپنی پوزیشن یا عہدے کا غلط استعمال یا غلط کاری پر مبنی ہو کرپشن یا بدعنوانی کہلاتا ہے۔

بہر حال بد عنوانی اور رشوت رُجحانات کی پیداوار ہیں، منفی رویوں سے بد عنوانی جنم لیتی ہے جس کے بدترین ثمرات میں سے ایک رشوت ہے۔بدعنوان ہونے کے لئے رشوت لینا ہی شرط نہیں ہے بلکہ وہ تمام غلط کام ا ور طریقے جو اس ضمن میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ غلط کام جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکا بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں ۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ162میں رشوت اور بدعنوانی کو الگ الگ معانی میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔’’رشوت دینا تاکہ بدعنوانی اور خلافِ قانون طریقوں سے سرکاری ملازم پر اثر ڈالا جائے‘‘رشوت اور بدعنوانی کے مطالب و معافی کے متعلق اپنے اپنے نقطہ ء نظر کے لحاظ سے سب لوگ جانتے ہیں۔ لہٰذا اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔

رشوت اور بدعنوانی کے موضوع پر اظہار خیال کرنے سے میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ اصلاح احوال ،فلاح دنیوی اور نجات اُخروی ہے۔زیر نظر مضمون میں بدعنوانی کے ضمن میں چند اہم اداروں اور شعبہ جات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے قیام کے مقاصد کے لحاظ سے مفید اور محترم ہیں ان میں نیک دیانتدار اور ٖفرض شناس لوگ بھی کا م کرتے ہیں مگر اداروں میں بدعنوان عناصر کی موجودگی اور بدعنوانی سے انکار نہیں کیا جا سکتا لہٰذا افادہ ء عام کے لئے رشوت ستانی اور بدعنوانی کی جو مثالیں دی جارہی ہیں وہ صرف بدعنوان حرام خور اور بے ضمیر عناصر سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً رشوت لے کر بلا استحقاق ملازمت دینا، خفیہ کمیشن لے کر کثیر المنافع پراجیکٹ کا کنٹریکٹ دینا، یہ کنٹریکٹ بظاہر مجوزہ طریق کار کے مطابق دئیے جاتے ہیں ان کے ساتھ منسلک پری آڈٹ اور پوسٹ آڈٹ رپورٹس میں بھی کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آتی لیکن قومی سرمائے کا ایک بڑا حصہ خوردبُرد ہوجاتا ہے مگر عدالتیں تو ثبوت مانگتی ہیں۔

بعض پولیس والوں کا رشوت لے کر اصل مجرموں کو چھوڑ دینا، جیلوں میں بعض مجرموں کو گھر جیسی سہولیات اور موبائل فون وغیرہ فراہم کرنا، انکم ٹیکس اور ٹیکسیشن کے محکموں کے بعض کرپٹ اہل کاروں کا رشوت لے کر ٹیکسوں میں چھوٹ دینا، عدالتوں میں بعض بدعنوان عناصر کا پسند کی تاریخ پیشی اور مقدمات میں مددکا لالچ دے کر رشوت لینا، بعض عدالتوں کا موکلان کو وکیل کے علاوہ ازخود اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت نہ دینا اور تین تین ، چار چار مرتبہ بغیر شنوائی کے عدالت کے تبدیل ہونے کے رُحجان سے ستم رسیدہ افراد میں عدلیہ سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔

بعض حکومتی اراکین ، عوامی نمائندوں اور دیگر ارباب اختیار کا لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دے کر رشوت لینا اور حکومتوں کا سیاسی مجبوریوں کے باعث اپنے حامی اراکین کے خلاف کاروائی سے گریز کرنا۔

پولیس کی فلاح و بہبود کے لئے دئیے جانے والے فنڈز بددیانت اعلیٰ پولیس افسران کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اور تھانے کی سطح تک پہنچتے ہی نہیں۔

یہ طرز عمل پولیس میں نچلی سطح پر کرپشن کا باعث بتنا ہے حتیٰ کہ ضروری سٹیشنری خریدنے اور پولیس کی گاڑیوں کی مرمت کے لئے رقم فریقین مقدمہ اور عام لوگوں کی جیبوں سے نکلوائی جاتی ہے۔

بعض بدعنوان پولیس اہل کار جھوٹے مقدمہ بازوں سے رشوت لے کر بے قصور شرفاء کو پھنسا لیتے ہیں پھر ان کو رشوت دینے پر مجبور کرتے ہیں اور جو رشوت نہ دیں ان پر تشدد کیا جاتا ہے اگر کوئی بے چارہ اعلیٰ حکام تک شکایت پہنچادے تو اس کے متعلق جھوٹ پر مبنی غلط معلومات دے کر اسے مزید پھنسا دیا جاتا ہے۔

کچھ پولیس تھانوں کی حالت ایسی ہے جہاں ایف آئی آر (ابتدائی رپورٹ) درج کروانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ بعض سیاست دانوں کا بڑے بڑے اداروں سے ان کے مفادات کے لئے پالیسیاں بنانے کے لئے رشوت لینا، ٹریفک پولیس کے بعض اہل کاروں کا چالان نہ کرنے اور بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لئے رشوت لینا، بعض ڈاکٹروں کا معیاری ادویات کی بجائے غیرمعیاری ادویات کا نسخہ تجویز کرنا ، اکثر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی طرف عدم توجہی کے باعث اموات یہاں تک کہ زچہ کو ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار پر روڈ پر ڈلیوری کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

تاکہ لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل ہو کر علاج کروائیں۔ بعض کھلاڑیوں یا ریفریوں کا میچ فکسنگ کے لئے رشوت لینا، محکمہ بجلی کے بعض اہل کاروں کابعض صنعتکاروں، کاروباری طبقے اور بعض گھریلو صارفین سے میٹر سُست کرنے نئے ٹرانسفارمر لگانے اور کاغذی کاروائی کی جلد تکمیل کے عوض رشوت لینا، محکمہ سوئی گیس کے بعض اہل کاروں کا باری سے پہلے کنکشن لگانے کے عوض رشوت لینا، میونسپل کارپوریشن،فنانس کارپوریشن، ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واسا وغیرہ کے بعض اہل کاروں کی بد عنوانیاں سب رجسٹرار آفس، ڈی ڈی او ریونیو آفس کے بعض اہل کاروں اور پٹواریوں کی بدعنوانیاں، بعض مالی اداروں کا قرضہ لینے والوں سے رشوت لینا اور کسٹمرز کو مخصوص انشورنس کمپنیوں سے انشورنس کروانے کی ترغیب دینا اور پھر انشورنس کمپنیوں سے پریمیم Rebate کے نام پر 70 فیصد تک رشوت لینا، بعض سکولوں اور کالجوں میں داخلے کے لئے رشوت ، جدید طریقے سے رشوت لینے کے لئے غیر ملکی کرنسی اصل ریٹ سے کم پر فراہم کرنے کے لئے کہنا، آجر کی کرپشن، اجیر کی کرپشن (فرائض کی انجام دہی میں گڑ بڑ) ، اشیاء میں ملاوٹ، لین دین میں گڑ بڑ، انتخابات میں دھاندلی، انتخابات کے موقع پر لوگوں کو ترغیب دینے کے لئے معاوضہ دینا تاکہ وہ کسی خاص شخص کے حق میں اپنا حق انتخابات عمل میں لائیں یا لوگوں کو ترغیب دینے کے لئے اقدامات کریں، بہر کیف رشوت کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سرفہرست نقد رقم کی ادائیگی ہے جبکہ دیگر اقسام میں قیمتی اشیاء، جائیداد دے دینا، میرٹ کے خلاف ترقی دینا تاکہ ترقی پانے والے شخص کو ترقی دینے والے شخص کے آلہءِ کار کے طور پر استعمال کیا جاسکے، بلاجواز مراعات ، بلا استحقاق تنخواہوں میں اضافہ، فرضی آسامیوں کے مشاہرہ جات، ہوائی جہاز کے ٹکٹ، سیروتفریح، مختلف قیمتی اشیاء، اشیائے خوردونوش اور خدمات وغیرہ کی فراہمی شامل ہیں۔

زندگی کے مختلف شعبہ جات کے مشاہدہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رشوت اور بد عنوانی کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔

رشوت ایک مُہلک معاشرتی ناسور ہے جو تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔ اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرہ میں رہتے ہوئے انسان کو قدم قدم پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے واسطہ پڑتا ہے۔جو لوگ رشوت نہ دیں انہیں اپنے کاموں کے سلسلے میں خواری، پریشانی اور مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔

ایسے دِگر گوں حالات میں کسی کام کے لئے استحقاق صرف اُسی کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں رشوت دے۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی کو ہر معاشرے میں ایک سنگین جُرم قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ حکیم اور حدیث شریف میں بھی اس کی نہی وارد ہے۔ ارشاد ہوا:۔ ’’اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو بطور رشوت حاکموں تک پہنچایا کرو تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ حالانکہ تمہارے علم میں بھی ہو۔ (البقرہ 188:2)

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں ’’جس شخص نے ایسے طریقے سے مال حاصل کیا جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی تو اُس نے باطل ذریعہ سے کھایا۔ اس میں جُوا، دھوکہ دہی ، زبردستی چھین لینا، کسی کے حقوق کا انکار اور وہ مال جو اس کے مالک نے خوشی سے نہیں دیا سب حرام خوری میں شامل ہیں۔

‘‘احادیثِ صحیحہ میں حضرت اُمِ سلمہؓ سے مروی ایک حدیث میں چکنی چُپڑی تقریر سنا کر خلاف واقعہ فیصلہ اپنے حق میں کروانے والے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ آگ کا ٹکڑا ہے خواہ اُٹھالے خواہ نہ اُٹھائے۔‘‘ ’’حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ روزِ قیامت خلافِ واقعہ فیصلہ کروانے والے کی نیکیوں سے بدلہ دلوائے گا۔

‘‘ ایک حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے (جامع ترمذی)۔ رشوت دینے کے سلسلے میں استشنا کے سلسلے میں صرف ایک بات پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ جب کوئی رشوت دئیے بغیر کسی دوسرے طریقے سے اپنے جائز حقوق نہ حاصل کرسکے تو وہ باامر مجبوری رشوت دے کر اپنے جائز حقوق حاصل کرلے تو اُس کا گناہ صرف رشوت لینے والے پر ہوگا۔

بہرحال معاشرہ میں ایسے پرہیز گار بھی موجود ہیں جو اپنی حق تلفی برداشت کرلیتے ہیں مگر رشوت نہیں دیتے ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں بہت اجر ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم