کوئی تعویز دے ردِ بلا کا!

کوئی تعویز دے ردِ بلا کا!
 کوئی تعویز دے ردِ بلا کا!

  

اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے حکومت، پاکستان کو 90ء کی دہائی میں لے آئی ہے، جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور باقی سچ بیانی کے لئے اخبارات اپنا کردار ادا کرتے تھے، مگر وہ ایک دن بعد آتے تھے اور آج کی آج خبر صرف پی ٹی وی سے ملتی تھی جو مُلک گیر ہڑتال کی خبر بھی دکانیں کھلی ہونے کے مناظر دکھا کر ناکام ہڑتال کی صورت میں دیتا تھا۔

اُس زمانے میں نہ تو سوشل میڈیا تھا اور نہ اتنے زیادہ چینلز، سو دکانداری جھوٹ کی بنیاد پر زیادہ چلتی تھی، مگر آج جنہوں نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک چینلز بند کئے،وہ اِس حقیقت کو بھول گئے کہ ماضی میں کوئی بھی تحریک اِس قسم کے حربوں سے ناکام نہیں بنائی جا سکی۔

بھٹو کے خلاف جب تحریک نظام مصطفےٰ چل رہی تھی تو صرف پی ٹی وی ہوتا تھا، جو ہر شام سب اچھا کی رپورٹ دیتا، مگر اس کے باوجود تحریک تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔بالآخر وہ تحریک بھٹو کے اقتدار کو لے بیٹھی۔

پرویز مشرف نے بھی میڈیا پر بلیک آؤٹ کرانے کی بہت کوشش کی،لیکن کوئی کوشش بار آور ثابت نہ ہوئی اور وہ افتخار چودھری سے ہار گئے۔ جب حکومتوں کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ ایسی حرکتیں کرتی ہیں،مگر ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا،کیونکہ حقائق چھپانے سے افواہیں جنم لیتی ہیں اور افواہیں حقیقتوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔۔۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے اپنے صفحہ اول پر جو مقالمہء خصوصی چھاپا ہے، مَیں سوچ رہا ہوں باقی اخبارات نے ایسا کیوں نہیں کیا؟اس مقا لے میں بڑی وضاحت کے ساتھ حکومت کے اس عمل کو احمقانہ اور بے مقصد قرار دیا گیا۔ حیرت ہے کہ آزادئ اظہار پر اتنا بڑا حملہ ہو گیا اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے سوا کسی نے اِس کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی۔ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ بیک جنبشِ قلم آزادئ اظہار اور عوام کے جاننے کے حق کی اِس طرح نفی کی گئی ہو۔

عوام کو اندھیرے میں رکھ کر جمہوریت کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ فیض آباد میں اگر آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا تو اس کی بہتر انداز سے منصوبہ بندی تو کی جاتی۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے شاید اس دھرنے کو بھی اساتذہ، کلرکوں یا تاجروں کا دھرنا سمجھ لیا تھا جو پانی کی بوچھاڑ اور آنسو گیس کے شیلوں کے سامنے نہیں ٹھہرتے اور منتشر ہو جاتے ہیں۔

یہ دھرنا ایک مذہبی عقیدے کی بنیاد پر دیا گیا اور عقیدہ بھی وہ ہے جس کی سچائی سے کوئی مسلمان بھی انکار نہیں کر سکتا۔جہاں مذہبی جذبات شامل ہوں، وہاں موت بھی کوئی بڑا خوف نہیں رہتی۔

سو انتظامیہ کا آپریشن ناکام ہوا اور بات پورے مُلک میں پھیل گئی، جہاں جہاں خبر پہنچی، وہاں وہاں مظاہرے اور دھرنے شروع ہو گئے۔ پورا مُلک ہنگاموں کی زد میں آ گیا۔

اِس موقع پر حکومت کوئی بہتر فیصلہ کر سکتی تھی، کوئی بہتر حکمتِ عملی اختیار کر کے اس بڑھتی ہوئی آگ پر پانی ڈال سکتی تھی،مگر یہ تو کِیا نہیں گیا،البتہ فوراً چینلز اور سوشل میڈیا بند کرنے کا راستہ اختیار کیا، جس کے انتہائی منفی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے۔

پورے مُلک میں طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔اگر قوم کو اندھیرے میں رکھ کر آپریشن کرنا ہی تھا تو یہ پابندیاں آپریشن سے پہلے لگائی جاتیں، جب سب کچھ عوام نے دیکھ لیا اور اسلام آباد سے نکلنے والی آگ مُلک کے طول و عرض میں پھیل گئی تو پابندی لگا دی۔

اس سے اضطراب مزید بڑھ گیا، ہنگاموں میں شدت آ گئی اور شہر شہر صورتِ حال خراب ہوتی چلی گئی۔ اصل مسئلے کو حل کئے بغیر ایسے اقدامات سے حالات کو کیسے نارمل کیا جا سکتا ہے؟ اسلام آباد میں فوج آ گئی ہے،جس کی وجہ سے وہاں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی،مگر فیض آباد دھرنے کا کیا بنے گا؟ اُس کی وجہ سے کراچی، لاہور، ملتان اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں جو دھرنے ہو رہے ہیں،انہیں کون ختم کرائے گا؟بنیادی سوال تو یہ ہے کہ صرف فیض آباد کا دھرنا ختم کرا کے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔کیا یہ کسی جگہ پر قبضے کا جھگڑا ہے یا عقیدے کا معاملہ ہے۔

ایک جگہ کے بعد دوسری جگہ اور ایک دھرنے کے بعد دوسرا دھرنا جاری رہا تو مسئلہ کیسے حل ہو گا؟حکومت کی ہٹ دھرمی نے سارا کھیل بگاڑا ہے ،وزیر داخلہ احسن اقبال میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اس اہم وزارت کو سنبھال سکیں۔

وہ موقف پر موقف تبدیل کر رہے ہیں۔اُن کے بلاوجہ دیئے گئے سخت بیانات نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے تیل ڈالنے کا کام کیا۔کوئی عقل کا اندھا ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ جب دھرنا19ویں روز میں داخل ہو چکا ہو تو کوئی دھمکی با بڑھک کام آ سکتی ہے، آپریشن کے بعد جو کام خراب ہوا ہے اور شہر کے شہر بند ہیں،اُس کے مقابلے میں فیض آباد کا دھرنا تو بہت معمولی بات نظر آتی ہے،لیکن اس کا پہلے ادراک نہیں کیا گیا۔

ایک قابلِ قبول حل کے بغیر کسی ایسے مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے، جو ختمِ نبوتؐ جیسے حساس معاملے کی بنیاد پر کھڑا ہو۔سیاسی حکمتِ عملی کا صریحاً فقدان نظر آتا ہے۔

حیرت ہے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر سیاسی جماعتوں کی مدد طلب کرنے والی حکومت نے اس معاملے میں کسی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ نہیں ملایا۔ دھرنے والوں سے مذاکرات کے لئے دیگر جماعتوں کی قیادت کو اعتماد میں لیا نہ ساتھ رکھا، پوری حکومت بھی نہیں، صرف وزیر داخلہ سارے معاملے کو حل کرنے کی بے تدبیرانہ کوششیں کرتے رہے۔ تین گھنٹے میں دھرنا ختم کرانے کی بات کر کے انہوں نے واضح کر دیا کہ اُن میں سیاسی بلوغت کی کمی ہے۔

ایسے معاملات میں تو ایسی بڑھک بنے بنائے کام بگاڑ دیتی ہے۔پھر وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی قائل نہیں کر سکے کہ طاقت کے زور پر دھرنا ختم کرانے میں کس قدر قباحتیں ہیں۔اب سارا نزلہ اسلام آباد ہائی کورٹ پر ڈالا جا رہا ہے کہ اُس کے حکم پر آپریشن کیا گیا۔ کیا عدالت نے ایسے لولے لنگڑے اور اندھا دھند آپریشن کا حکم دیا تھا؟

یہ اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا،مگر اِس حوالے سے حکومت نے جو تاریخ رقم کی ہے اُسے شاید اب جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ کہا جائے۔ایسا تو آمریت میں بھی نہیں ہوتا کہ آپ سب کچھ اندھیرے میں رکھ کے کریں، ایک طرف ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو عوام کی اطلاعات تک رسائی کے حق کو یقینی بناتے ہیں اور دوسری طرف چینلز اور سوشل میڈیا کی زباں بندی کی گئی۔

ٹی وی چینلز ایک کتھارسس کا کام دیتے ہیں وہ اگر سب کچھ دکھا رہے تھے تو اُن میں زیادہ تر ایسی باتیں تھیں جو حکومت کے حق میں جاتی تھیں، پھرا گر براہِ راست کوریج کا کوئی مسئلہ تھا تو اسے براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حل کیا جا سکتا تھا، کوئی ضابطہ اخلاق بنانے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا تھا۔

ایک دو گھنٹے کے لئے اس مقصد کی خاطر براہِ راست کوریج کو معطل بھی کیا جا سکتا تھا،مگر بغیر کسی وارننگ اور بغیر کسی اطلاع کے اس طرح تمام چینلز کو بند کر دینا جہاں حکومت کے چہرے کو گدلا گیا ہے، وہاں مُلک میں طرح طرح کی افواہیں پھیلانے کا باعث بھی بنا ہے۔

اِس صورتِ حال کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ لال مسجد آپریشن کی طرح اب اس آپریشن کے حوالے سے بھی لاتعداد کہانیاں گردش کریں گی۔دھرنے والے ابھی سے شہدا کی تعداد کو اتنا زیادہ بتا رہے ہیں،جس کی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو رہی، کیونکہ آزاد ذریعہ کوئی موجود ہی نہیں، شکر ہے ابھی پرنٹ میڈیا پوری طرح کام کر رہا ہے اور کل تک سارے اخبارات نے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سات بتائی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا پر پابندی کے بعد پرنٹ میڈیا کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، پرنٹ میڈیا نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے،لیکن پرنٹ میڈیا عوام کی خواہشات اور عقائد کے خلاف نہیں چل سکتا،اِس لئے حکومت پرنٹ میڈیا پر کوئی دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کرے، بہتر یہی ہو گا کہ حکومت، اگر اس کا کوئی وجود ہے تو اب تک کی صورتِ حال کا عقل و شعور کے ساتھ جائزہ لے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے حالات کی نزاکت کے مطابق فیصلے کرے۔

ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر سے پابندی فوری ختم کرے، عوام کو بے خبر اور اندھیرے میں رکھنے کی کوشش مسائل پیدا تو کر سکتی ہے،انہیں ختم ہر گز نہیں کر سکتی۔(وفاقی حکومت کی ہدایت پر اب پیمرا نے چینلوں پر پابندی اٹھا دی ہے اور نشریات جاری ہیں)

مزید : کالم