بھارتی عوام کی اکثریت مارشل لاء چاہتی ہے؟

بھارتی عوام کی اکثریت مارشل لاء چاہتی ہے؟
 بھارتی عوام کی اکثریت مارشل لاء چاہتی ہے؟

  

مجھے اگلے روز میڈیا میں یہ خبر پڑھ کر حیرت ہوئی کہ بھارتی عوام کی اکثریت اپنے ملک میں جمہوریت کی بجائے آمریت کو ترجیح دیتی ہے۔ پہلے تو مجھے شک گزرا کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں آبادی کی اکثریت کیسے آمریت کی حامی ہو سکتی ہے۔

یہ کسی نے ضرور بے پَر کی اڑائی ہوگی لیکن جب تفصیل پڑھی اور انٹرنیٹ کو کھنگالا تو خبر درست نکلی۔

مغرب اور خاص طور پر امریکہ میں کئی تھنک ٹینک ایسے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں آبادیوں کا سروے کرتے رہتے ہیں۔ یہ سروے (یا سرسری جائزہ)باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اور زیرِ تجزیہ ملک کی آبادی کے مختلف طبقات کے انٹرویو کرکے کسی خاص موضوع یا موضوعات پر ان کی رائے لی جاتی ہے اور پھر اس رائے کو انٹرنیشنل ابلاغی برادری میں نشر اور شائع کر دیا جاتا ہے۔

ان میں ایک تھنک ٹینک کا نام ’’پیو (Pew) ریسرچ سنٹر‘‘ بھی ہے۔ اس سنٹر نے حال ہی میں ایک سروے کروایا ہے جس سے یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ انڈیا کے 55فیصد لوگ جمہوری طرزِ حکومت سے نالاں ہیں اور ایک طاقتور ملٹری حکومت چاہتے ہیں۔۔۔ دوسرے لفظوں میں مارشل لاء کے حامی ہیں۔

سب سے پہلے اس ’’پیو ریسرچ سنٹر‘‘ کا تاریخ و جغرافیہ دیکھتے ہیں۔۔۔ یہ ایک امریکی تھنک ٹینک ہے جس کا ہیڈکوارٹر واشنگٹن میں ہے۔

اس کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کی آبادی کے سماجی مسائل، عوامی رائے اور وہاں کے باسیوں کے رجحانات کا اندازہ لگاتی رہتی ہے۔

ان ممالک میں خود امریکہ بھی شامل ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف اپنے نمائندوں کی رپورٹوں کا جائزہ لیتی ہے بلکہ زیرِ بحث موضوعات پر ٹارگٹ ملک کے میڈیا پر ڈسکس ہونے والے موضوعات کو بھی نگاہ میں رکھتی ہے۔ اس کا قیام آج سے 13برس پہلے 2004ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔

اس کا سٹاف تقریباً 150 ماہرین پر مشتمل ہے۔ امریکہ میں جو درجنوں مخیر ادارے (Charities) قائم ہیں وہ اس طرح کی تنظیموں کو فنڈ فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ تنظیم پہلے پہل امریکہ میں قائم کی گئی تھی تو اس کے ذمے کئی سماجی اور سیاسی موضوعات پر ریسرچ کا کام لگایا گیا جن میں ۔۔۔ (1) امریکی سیاسیات اور خارجہ پالیسی ۔۔۔ (2) صحافت اور ابلاغِ عامہ۔۔۔ (3) انٹرنیٹ، سائنس اور ٹیکنالوجی ۔۔۔(4) مذہب اور عوام الناس کے حقوق ۔۔۔ (5) گلوبل رویئے اور رجحانات۔۔۔ اور (6) شہری اور دیہی آبادی کے خیالات و افکار اور آراء شامل تھیں۔

ان چھ موضوعات میں موخر الذکر دو موضوعات کا دائرہ امریکہ سے نکل کر باہر کے ممالک میں بھی پھیلا دیا گیا۔ آپ نے ماضی میں دیکھا ہو گا کہ پیو ریسرچ سنٹر کی ایسی رپورٹیں پاکستان کے بارے میں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں جو سنجیدہ حلقوں میں مقبول بھی ہوتی رہی ہیں اور نامقبول بھی۔۔۔ میرے خیال میں اس قسم کے غیر ملکی تھنک ٹینکوں کے تجزیئے عوام میں طبقاتی تقسیم پیدا کرنے کے لئے شائع کئے جاتے ہیں۔

ان سے امریکہ کا تو کچھ نہیں بگڑتا کہ وہ ایک ایسا گرانڈیل ہاتھی ہے جس کو تیز ترین آنکس بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جس ملک کی عسکری اور اقتصادی حالت مضبوط ہو، اس قسم کی تنظیموں کی مثبت یا منفی رپورٹیں اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔

لیکن ہم جیسے تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کی اگر اقتصادی حالت صحت مند ہے تو عسکری حالت کافی دبلی پتلی ہے۔ علاوہ ازیں جن ممالک میں ’’پیو‘‘ کی طرح کے تھنک ٹینک مختلف مسائل و افکار کے جائزے مرتب کرتے ہیں ان کی پشت پر بین الاقوامی دباؤ بھی ضرور ہوتا ہے۔

اور پھر جو ادارے ’’پیو‘‘ جیسی تنظیموں کی فنڈنگ کرتے ہیں، ان کے پروگرام، تقاضے اور مقاصد عموماً حکومتِ وقت کے ناقد اور اس تھینک ٹینک کے ’’ان داتا‘‘ کے اشاروں کے تابع ہوتے ہیں۔

اب آپ اسی موضوع کو دیکھ لیجئے کہ اگر انڈیا جیسے ملک کی آبادی کی اکثریت ملک میں فوجی حکومت کے حق میں رائے دے تو اس خبر کا ’’استقبال‘‘ اندرونِ ملک اور بیرونِِ ملک کس درجے کی حساسیت کے ساتھ کیا جائے گا۔

دنیا جانتی ہے کہ جب سے مودی حکومت برسراقتدار آئی ہے، بھارتی مسلمانوں کی زندگی دوبھر بنا دی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور انڈیا کی مشرقی ریاستوں میں علیحدگی اور آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لئے جو تشدد آمیز اقدامات کئے جاتے رہے ہیں (اور کئے جا رہے ہیں) وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

کروڑوں مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ کیا جا رہا ہے، گاؤ کشی کے نام پر مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچا دی گئی ہے۔ بڑی بڑی ریاستوں (Provinces) کے حکام کے ذمے ’’ہندوتا‘‘ کو فروغ دینے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جن سے اقلیتوں کی روزمرہ کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔

سماجی مسائل گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔خواتین کی بے حرمتی کے ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ کہنے کو سالانہ معاشی نمو 6.9% ہے لیکن آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔

ایک مخصوص طبقہ ہے جس کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور تھما دی گئی ہے اور جمہوریت کے نام پر بدترین قسم کی آمریت کا دور دورہ ہے۔ کوئی میڈیا چینل ملکی حالات کے اصل چہرے سے نقاب نہیں اٹھا سکتا۔ ہم پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں میڈیا کو آزادی حاصل ہے، مہنگائی کا نام و نشان نہیں، لوگ خوشحال ہیں، خارجہ پالیسی کامیاب ہے، دفاعی پوزیشن مستحکم ہے اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے۔۔۔۔ لیکن یہی وہ آئیڈیل صورتِ حال ہے جس میں پیو ریسرچ سنٹر کو سامنے آنا پڑا ہے اور دنیا کے سامنے بھارت کے چہرے کا دوسرا اور اصلی رخ دکھانا پڑا ہے۔

اس سنٹر نے گزشتہ ہفتے جو سروے رپورٹ بین الاقوامی میڈیا کو جاری کی ہے اس کے مطابق ویت نام، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور انڈیا میں سے انڈیا وہ واحد ملک ہے جس کی آبادی کی اکثریت ملک میں مارشل لا چاہتی ہے۔

55فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ عنانِ اقتدار ایک ایسے مضبوط حکمران کے ہاتھ میں ہو جو پارلیمینٹ اور عدلیہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت سے بے نیاز ہو کر آزادانہ فیصلے کر سکے۔

لیکن اس طرح کی آمرانہ طرزِ حکومت کو جو سپورٹ انڈیا میں حاصل ہو رہی ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں۔1952 ء میں انڈیا میں پہلی بار الیکشن ہوئے تھے اور پھر آج تک باقاعدگی سے ان کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن ہوتے ہیں،لیکن چونکہ کوئی ایک پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی، اس لئے مخلوط حکومت کی طرف جانا پڑتا ہے اور پانچ برس کے بعد اگلے انتخابات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق دُنیا بھر کی دوسری جمہوریتوں کی طرح بھارت کے شہری بھی ایک ایسے قائد کو حکومت میں دیکھنا چاہتے ہیں جو آمرانہ طرز حکمرانی کی طرح فیصلے کرنے میں آزاد ہو۔۔۔۔ حیرانی کی ایک اور بات اس پیو ریسرچ سنٹر کی سروے رپورٹ میں یہ بھی ہے کہ حکمران بی جے پی پارٹی کے سپورٹر اور شہروں میں بسنے والے بھارتیوں کی اکثریت بھی فوجی حکمرانی چاہتی ہے جبکہ کانگریس کی حزب اختلاف اور دیہی علاقوں کے لوگ آمریت کے حق میں ویسی حمایت کے لئے کم پُرجوش ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں طبقاتِ آبادی(شہری اور دیہی) کو ملا کر اوسط رائے نکالی جائے تو پھر بھی پلڑا فوجی حکمرانی کی طرف جھکے گا، سویلین جمہوری نظامِ کی طرف نہیں۔

لوگوں کی عام رائے یہ ہے کہ اس بات کے باوجود کہ کچھ عرصہ پیشتر مودی کو کرپشن روکنے کے لئے بھارتی کرنسی کو Demonetizeکرنا پڑا تھا، کرپشن کم نہیں کی جا سکی۔بھارت کے غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے پارلیمان، عدالت ہائے عالیہ اور عظمیٰ کی مداخلت بہت وقت طب (Time Consuming) ہے۔ اور جمہوریت اس طرزِ عمل کی زیادہ دیر تک متحمل نہیں ہو سکتی۔

سروے میں یہ تفصیل بھی بتائی گئی ہے کہ مودی حکومت کس طرح میڈیا پر وہ قد غنیں لگا رہی ہے جو عوامی آرزوؤں اور امنگوں کے خلاف ہیں۔ ملک کے سنجیدہ طبقے اب بڑی شدت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گو مگو کی کیفیت کو ختم ہونا چاہئے کہ یہ تاخیر ملک کی اساس کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

اندریں حالات ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قومی سطح پر آ کر اس تعطل کو دور کرے۔ مودی حکومت نے ماضئ قریب میں اُن ابلاغی ذرائع کے خلاف کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جو حکومتی پالیسیوں کے ناقد ہیں۔

مَیں سوچ رہا ہوں کہ آج اگر پیو ریسرچ سنٹر نے اپنی اس سروے رپورٹ میں انڈیا کی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے جن نکات کی نشاندہی کی ہے، کیا وہی امور و نکات آج پاکستان کو بھی درپیش نہیں؟ملک کے کلیدی مسائل کی جڑ کرپشن ہے جو انڈیا میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی ہے۔۔۔ ہماری پارلیمینٹ بھی وہی تاخیری حربے استعمال کررہی ہے جس کا ذکر اس سروے میں کیا گیا ہے۔۔۔ اور ہماری عدالتیں بھی فیصلے صادر کرنے میں اُس عجلت کا مظاہرہ نہیں کر رہیں، جس کا تقاضا عوامی امنگوں کا نقیب ہوتا ہے۔۔۔۔ہمارے اپنے ہاں بھی 55فیصد سے زیادہ شہری اور دیہاتی آبادی اس بات کی خواہش مند ہے کہ کوئی ایسا ’’مضبوط‘‘(Strong) سویلین قائد آئے جو پارلیمان اور عدالتوں کی مداخلت سے بے نیاز ہو کر ملک کے استحکام اور خوشحالی کے لئے فوری اقدام کر سکے۔

مجھے یہ شک بھی گزرتا ہے کہ پیو ریسرچ سنٹر کی اس سروے رپورٹ میں پاکستان کے لئے بھی وہی اہتمام کیا جا رہا ہے جس کا ذکر ہماری پنجابی زبان کی ایک ضرب المثل میں کیا گیا ہے کہ:’’بیٹی کو اس لئے ڈانٹا جا رہا ہے کہ بہو ہوش کے ناخن لے۔۔۔‘‘ عین ممکن ہے یہ ریسرچ سنٹر آنے والے کل میں پاکستان کے بارے میں بھی انہی خیالات کا اظہار کرنے کے لئے ایک ’’نیا سروے‘‘ جاری کر دے۔

لیکن اس سروے رپورٹ کی ضرورت جس قدر آج پاکستان کو ہے، انڈیا کو نہیں۔ البتہ جس فوجی آمریت کا شوشہ انڈیا کے بارے میں چھوڑا گیا ہے وہ مجھے اتنا ہی قرینِ قیاس لگتا ہے جتنا پاکستان کے لئے بعیداز قیاس ہے!

مزید : کالم