سبسڈی سے زرعی پیداوار میں 8فیصد تک اضافہ ہوا

سبسڈی سے زرعی پیداوار میں 8فیصد تک اضافہ ہوا

لاہور( این این آئی )محکمہ زراعت کی مختلف منصوبوں پر سبسڈی سے زرعی شعبہ میں 3.5 فیصد ترقی جبکہ فصلوں کی پیداوار میں 8فیصد تک اضافہ ہوا ہے،سبسڈی کی فراہمی سے کپاس ،چاول ، گندم اور دیگر اجناس کی ریکارڈ پیداوار ہوئی جس سے زرعی شعبہ میں انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے 100 ارب روپے کی خطیر رقم سے ساڑھے 12 ایکڑ تک زرعی اراضی کے 6لاکھ مالکان و مزارعین کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کا منصوبے کے تحت صرف 10 ماہ میں 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد چھوٹے کاشتکاروں اور مزارعین کو بلاسود قرضہ جات فراہم کیے جاچکے ہیں۔ بے زمین کاشتکاروں کیلئے اخوت سینٹر اور نیشنل رول سپورٹ پروگرام کے ذریعے قرضوں کی فراہمی جاری ہے۔ جدیدنظام آبپاشی اور موسمیاتی مطابقت کی ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکومت پنجاب کی جانب سے انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں۔2.25ارب روپے کی خطیر رقم سے ڈرپ/سپرنکلر نظام آبپاشی پر60فیصد سبسڈی ،ٹنل کی تنصیب پر 50فیصد سبسڈی،سولر سسٹم کی تنصیب پر 80 فیصد سبسڈی دی جارہی ہے۔ 20 ہزار ایکڑ رقبے پر ڈرپ نظام آبپاشی چلانے کیلئے سولر سسٹم جبکہ 3ہزارایکڑ رقبے پر غیر موسمی سبزیاں اگانے کیلئے ٹنل ٹیکنالوجی کی تنصیب پر عملدرآمد جاری ہے۔ 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی ٹنل سبسڈی کی رقم حکومت پنجاب دے رہی ہے۔ جدید مشینی زراعت کے فروغ کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ حکومت پنجاب کاشتکاروں کی معاشی بہتری اور ان کی زرعی پیداوار میں مجموعی اضافے کیلئے صوبے کے تمام اضلاع میں نجی شعبے کے اشتراک سے 72اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل زرعی مشینری سروس سنٹر قائم کر رہی ہے۔

یہ مراکز جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے فارم کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہونگے۔نیز بہتر ٹیکنالوجی اور مؤثر خدمات کے نتیجے میں کسانوں کی معاشی ترقی کویقینی بنائیں گے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 2.50(اڑھائی )کروڑ روپے فی سنٹر اور کم سے کم 1کروڑ روپے فی سنٹر سبسڈی دی جارہی ہے۔ مشینی کاشت کے فروغ کیلئے صوبہ کی 2472 دیہی یونین کونسلز میں کپاس، گندم، دھان، مکئی اور مونگ پھلی میں استعمال ہونے والے جدید زرعی آلات پر 2لاکھ 11ہزار روپے فی سیٹ سبسڈی فراہم کی جاچکی ہے۔ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے کاشتکاروں کو ہر گاؤں میں کروڑوں روپے مالیت کا ترقی دادہ اور کنگی سے محفوظ بیج شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے مفت فراہم کیا جارہا ہے۔ 50 کروڑ روپے کی لاگت سے پوٹاش والی کھادوں ایم او پی پر 500 روپے فی بیگ اور ایس او پی پر 800 روپے فی بیگ سبسڈی، یوریا کھاد پر 400 روپے فی بیگ سبسڈی، ڈی اے پی پر 300 روپے فی بیگ اور اب 150 روپے مزید فی بیگ سبسڈی، کینولہ اور سورج مکھی کی کاشت پر 5ہزار روپے فی ایکڑ، لیزر لینڈ لیولر پر 2 لاکھ 25ہزار روپے فی یونٹ، پکے کھال کی تعمیر پر 80 فیصد سبسڈی، 10 ہزار ایکڑ کیلئے کپاس کے بیج کی مفت فراہمی، بلڈوزرز کے استعمال پر چھوٹے کاشتکاروں کیلئے 560 روپے فی گھنٹہ کرایہ پر فراہمی، کچن گارڈننگ پروگرام کے تحت 2011-12 سے اب تک 11 ملین روپے سالانہ کی سبسڈی، بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کیلئے سنکن فیلڈ اور تالابوں اور پورٹ ایبل پمپس پر 50 فیصد سبسڈی، مفت سائل سیمپلنگ کے نتیجہ میں زمینی صحت کارڈز کا اجراء، مفت رجسٹریشن کے نتیجہ میں کسان کارڈز کا اجراء، پوٹھوار کو زیتون کی وادی بنانے کیلئے 20 لاکھ پودوں کی مفت تقسیم، 780ملین روپے کی لاگت سے 36ہزار 700 کھجور کے نئی اقسام کے پوووں کی مفت تقسیم جس میں 50 پودے فی کسان دئیے جائیں گے۔

مزید : کامرس