فیڈریشن الیکشن مہم‘ یوبی جی تیسرے مرحلے کا آغاز اگلے ماہ کریگا

فیڈریشن الیکشن مہم‘ یوبی جی تیسرے مرحلے کا آغاز اگلے ماہ کریگا

اسلام آباد (اے پی پی) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے آئندہ سالانہ انتخابات کے لئے ملک بھر میں انتخابی مہم کے تیسرے مرحلے کا آغاز دسمبر کے پہلے ہفتے میں کرے گا۔ یو بی جی کے چیئرمین اور سارک چیمبر کے نائب صدر افتخار علی ملک نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں میاں محمد ادریس، خیبر پختونخوا میں سینیٹر الیاس بلور، اسلام آباد اور فاٹا میں عبدالرؤف عالم، سندھ میں خالد تواب اور بلوچستان میں فاروق خان اس مہم کے انچارج ہونگے جبکہ گروپ کے تمام رہنما اور ورکرز پورے زور شور کے ساتھ تیسرے مرحلے میں شریک ہوں گے یو بی جی کو ملک بھر میں تمام چیمبرز سے بہت زیادہ حمایت اور پذیرائی ملی ہے اور تمام علاقائی چیمبرز میں ہماری پوزیشن انتہائی مضبوط ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم انتخابی مہم کے بغیر بھی بڑے فرق سے انتخابات جیتیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے اس کے تیسرے مرحلے کے لئے ایک بہترین منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو بی جی قیادت نے سخت محنت سے حکومت کے ساتھ کاروباری برادری کے احترام کو بحال کر دیا ہے اور اس کے زیادہ سے زیادہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیلز اور ٹیکس ریبیٹ کی واپسی کی شروعات یو بی جی اور ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل کی بڑی کامیابی ہے جنہوں نے اس معاملے میں بہت زیادہ اور انتھک کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن مہم کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں یو بی جی کے وفد نے سیالکوٹ، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، وہاڑی، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد سمیت تمام علاقائی چیمبرز کا دورہ کیا اور وہاں کی قیادت اور تاجروں سے ایف پی سی سی آئی کے الیکشن کے حوالے سے مشاورت کی۔انہوں نے کہا کہ کامیابی کے بعد ہمارا گروپ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور مطلوبہ معاشی نتائج کے حصول کے لئے قانون سازی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ پاکستان کو بھی خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح، توانائی کی طلب میں اضافہ کا سامنا ہے اور نجی شعبے کو یہ طلب پوری کرنے کے لئے تمام وسائل کا استعمال اور سخت محنت کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے نئے آبی ذخائر پرکام کو تیز کیا جائے۔

اور ایک ساتھ دو سے تین ذخائر پر کام شروع کیا جائے، نئے آبی ذخائر سے نہ صرف سستی بجلی پیدا ہوگی بلکہ ان سے ہماری آبپاشی کی ضروریات بھی پوری ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کو پیداوار میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس