مہنگائی ......مچھلیاں شہریوں کے ہاتھوں سے پھسل گئیں

مہنگائی ......مچھلیاں شہریوں کے ہاتھوں سے پھسل گئیں

 لاہور( رپورٹ، افضل افتخار،عکاسی علی رضا) پنجاب حکومت کے مہنگائی کے خاتمہ کے دعوے کھل کر سامنے آگئے شہر میں مچھلی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ دکاندار شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔جبکہ سڑک کنارے کھلے عام مچھلی فروخت کرنے والوں نے بھی عوام کو پریشان کررکھا ہے جو کسی بھی جگہ بیٹھ کر مچھلی بناتے نظر آتے ہیں اور گندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ مچھلی کا وزن بڑھانے کے لئے نالوں اور نہر سے پانی نکال کر ان میں مچھلی رکھ کر دھوتے ہیں اور عوام کو بیماریاں بانٹ رہے ہیں۔کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آتا ہر ایک اپنی من مانی کرکے حکومت کی ناقص پالیسیوں کی قلعی کھول رہا ہے۔سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی شہریوں کی بڑی تعد اد نے مچھلی کی دکانوں کا رخ کرلیا جہاں رات گئے تک رونقیں نظر آتی ہیں اور دوستوں کے ساتھ ساتھ فیملیوں کی بڑی تعداد بھی سردی کے موسم میں مچھلی سے لطف اندوز ہورہی ہے ۔لاہور شہر میں جگہ جگہ مچھلیوں کی دکانیں عام ہیں ۔دکانوں پر صفائی کا بھی ناقص انتظام اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔جس سے مختلف بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بھی یہاں پر صفائی کے ناقص انتظاما ت پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے یہاں پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس حوالے سے روز نامہ پاکستان کے زیر اہتمام کئے گئے سروے میں شہریوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے مبین احمد نے کہا کہ ہم ہر سال سردیوں میں مچھلی ضرور کھاتے ہیں مگر اس مرتبہ ا س کی قیمت میں بہت اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ اس کی کوالٹی کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم جو مچھلی کھارہے ہیں وہ اس قیمت کی ہے بھی کہ نہیں اس حوالے سے پنجاب فوڈاتھارتی کو روز انہ کی بنیاد پر دکانوں کا معائنہ کرنا چاہئیے تاکہ شہری کسی بیماری میں مبتلا نہ ہو عابد اور رخسانہ نے کہا کہ مچھلی سردیوں میں بہت فائدہ ہوتی ہے مگر ان کی بھی کئی اقسام ہیں اور ہر ایک اپنی مرضی سے قیمت وصول کررہا ہے ہر دکان پر اپنے ہی نرخنامے لگائے گئے ہیں ایک ہی قیمت پر چیز فروخت ہونی چاہئیے تاکہ یہ شک ہی نہ رہے کہ ہم بہت معیاری یا ناقص چیز کھارہے ہیں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شگفتہ،فوزیہ ،آمنہ ،بشری اور سدرہ نے کہا کہ ہم لاہور کالج کی طالبات ہیں اور ہم آپس میں مل کر مچھلی کھانے آئے ہیں مگر یہاں پر معیار کا فقدان ہے اور صفائی کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے اور پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اس کے دعوے ہی رہ گئے ہیں حکومت کو کھانے پینے کی چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں ۔شیخوپورہ سے آئے ندیم،شوکت،میاں بابراورساجد نے کہا کہ ہم مچھلی کھانے کے لئے آئے ہیں لیکن اب یہاں پر مچھلی کا وہ مزا نہیں جو پہلے ہوتا تھا اب تو لگتا ہے کہ ملاوٹ کرکے وزن بڑھا دیا جاتا ہے اور باسی مچھلی ہی گرم کرکے دی جاتی ہے جس کے بہت نقصانات ہیں لیکن دکاندار صرف پیسہ کمانے کے لئے لوگوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں ۔مسز خاورنے کہا کہ مچھلی مجھے بہت پسند ہے مگر میں باہر مچھلی کھانے سے یہ گھبراتی رہی رہتی ہوں کس تیل میں اس کو بنایا گیا اور کتنے دن پرانی ہوگی اس حوالے سے حکومت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ روز تازہ چیز ہی عوام کو ملے اور ان کی صحت پر اچھے مرتب ہو۔جاوید،عامر اور عابد نے کہا کہ مہنگائی نے ہمیں اب مچھلی کھانے سے بھی دور کردیا ہے ہم مزدوری کرتے ہیں اور کبھی کبھار پیسے اکھٹے کرکے مچھلی کھانے آتے ہیں لیکن اب یہاں پر انکی قیمتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ ہم آئندہ مچھلی کھانے نہ ہی آئیں اس لئے ان کی قیمتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہر طبقہ کے لوگ اس سے لطف اندوز ہوسکیں ۔مس ہمااورثناء نے کہا کہ اس وقت کئی قسم کی مچھلیاں مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ کون سی اصلی ہے ہر ایک کی اپنی قیمت ہے جو بہت زیادہ وصول کی جارہی ہے ہم تو ویسے کوشش کرتے ہیں کہ بازار سے اچھی قسم کی مچھلی لیکر ہم اسے گھر میں بنائیں اور اس طرح ہمیں یہ شک نہیں ہوتا کہ ہماری صحت کو کوئی نقصان ہوسکتا ہے ۔ریحانہ ،بینش اور صاعقہ نے کہا کہ بازار میں جو مچھلیاں فروخت ہورہی ہیں اس پر پتہ نہیں کیسا بیسن اور مصالحہ لگادئیے جاتے ہیں جس سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور پیسے بھی بہت وصول کئے جارہے ہیں اس حوالے سے حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور مچھلی فروخت کرنے والوں کو باقاعدہ لائنسس دیا جائے تاکہ لوگ بلاخوف و خطر وہاں پر مچھلی کھاسکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1