پاکستان سوسائٹی آف نیورو سرجنز کی کانفرنس ،200 سے زائد مندوبین کی شرکت

پاکستان سوسائٹی آف نیورو سرجنز کی کانفرنس ،200 سے زائد مندوبین کی شرکت

لاہور (صباح نیوز)پاکستان سوسائٹی آف نیورو سرجنز کی30 ویں سالانہ سہ روزہ کانفرنس میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور جنرل ہسپتال کے ایک ہی یونٹ کے چار ڈاکٹروں نے تحقیقی مقالے پیش کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے جس پرغیرملکی مندو بین کی طرف سے تحسین کا اظہار کیا گیا اور اسے نیورو سرجری کیلئے معلومات اور عملی تجربے سے بھرپور قرار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اتوار کو اختتام پذیر ہونے والی نیورو سرجنز کانفرنس میں دو سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی ۔جن کا تعلق پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے تھا ۔مذکورہ کانفرنس میں ایل جی ایچ نیورولاہور (صباح نیوز)پاکستان سوسائٹی آف نیورو سرجنز کی30 ویں سالانہ سہ روزہ کانفرنس میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور جنرل ہسپتال کے ایک ہی یونٹ کے چار ڈاکٹروں نے تحقیقی مقالے پیش کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے جس پرغیرملکی مندو بین کی طرف سے تحسین کا اظہار کیا گیا اور اسے نیورو سرجری کیلئے معلومات اور عملی تجربے سے بھرپور قرار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اتوار کو اختتام پذیر ہونے والی نیورو سرجنز کانفرنس میں دو سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی ۔جن کا تعلق پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے تھا ۔مذکورہ کانفرنس میں ایل جی ایچ نیورو سرجری یونٹ II کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر سندس علی نے ڈی بی ایس کے جدید طریقہ علاج ( پارکسنز رعشہ )، ڈاکٹر اجمل خان نے کمر کی ڈسک کا آپریشن بذریعہ انڈوسکوپ، ڈاکٹر حسن رضا نے گردن کے مہروں کو اپنی جگہ واپس لانے اور ڈاکٹر نبیل چوہدری نے آئی برو پر معمولی سا کٹ لگا کر انڈوسکوپی کے ذریعے دماغ کی رسولیاں نکالنے کے حوالے سے نہ صرف اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے بلکہ شرکاء کی جانب سے کئے گئے پیچیدہ سوالات کا بھی سیر حاصل جواب دے کر شرکاء سے خوب داد سمیٹی ۔ دوران کانفرنس ان چاروں ڈاکٹرز کے سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی پیشہ وارانہ خدمات اور تحقیقی مکالے کو سراہا گیا ۔ کانفرنس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیو رو سرجن ڈاکٹر خالد محمود نے قرار دیا کہ ان کی زندگی کا واحد مشن نیورو سرجری کے شعبے میں جدید تحقیق کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا اور اس تحقیق سے اپنے جونیئر ساتھیوں کو بھی متعارف کرانا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں مستقبل کے طبی معمار نوجوان احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا دو مختلف کام ہیں ، جونیئر زکی رہنمائی کرنے میں جو خوشی محسوس ہوتی ہے اس کا بیان کرنا بھی بہت مشکل ہے ،ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور وہ وقت دور نہیں جب نوجوان آگے بڑھ کر اپنا اور ملک کا نام روشن کریں گے ۔ اس موقع پر بیرون ممالک سے آئے ہوئے نیورو سرجنز نے واضح کیا کہ پاکستانی سرجن کا شمار اقوام عالم کے بہترین اور منجھے ہوئے معا لجین میں ہوتا ہے ۔بلاشبہ پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہے جہاں پر نیورو سرجری کے شعبہ میں بے انتہا ترقی ہوئی اور لاہور جنرل ہسپتال کا شعبہ نیورو سرجری عالمی سطح پر کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1