جدوجہدِ آزادی کے رہنما۔۔۔ مولانا ظفر علی خان

جدوجہدِ آزادی کے رہنما۔۔۔ مولانا ظفر علی خان

آج آپ کا 61واں یومِ وفات منایا جا رہا ہے

شاہد رشید

بیسویں صدی عیسوی میں اس خطہ نے جن بے باک سیاسی رہنماؤں کو جنم دیا ان میں مولانا ظفر علی خان ہر طرح سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بیرونی حکمرانوں کو اس وقت للکارا جب بڑے بڑے لیڈروں کو اس کی جرأت نہ ہوتی تھی اور اس دور میں کلمہ حق کہنے کا مطلب صرف دار و رسن کو دعوت دینا تھا، مولانا ظفر علی خان اس پاداش میں برسوں جیل کی کوٹھڑیوں میں رہے، ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی جاتی رہی،مگر اس مردِ حق آگاہ اور حق گو کے پائے ثبات میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ مولانا ظفر علی خان اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ اُنہوں نے ملی‘ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو زندگی بخشی اور پسماندہ مسلمانوں کو حریت فکر کی بلندیوں پر پہنچایا‘ اہلِ وطن کے خون کو گرمایا اور اپنے قول و عمل سے عوام کو غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف آمادۂ پیکار کیا۔ اس دور میں جنوبی ایشیا میں کوئی ایسی مذہبی یا سیاسی تحریک نہیں تھی، جس میں مولانا ظفر علی خاں کی جرأت مندانہ قیادت کا دخل نہ رہا ہو۔ بالآخر انہوں نے پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی اور مسلمانوں کو آزادی دلانے میں کامیاب ہوئے۔ ہندوؤں نے شدھی کی تحریک شروع کی تو اس کے مقابلہ میں تبلیغ اسلام کے ناقوس بن کر ڈٹ گئے‘ کسی شاتم رسولؐ نے ہرزہ سرائی کی تو اس پر آگ بگولا ہوگئے اور غازی علم الدین شہیدؒ ایسے فدائے رسولؐ کی میت اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کی۔ ملک کے کسی کونے میں مسلمانوں کو اذان سے روکا گیا تو خود اذان دینے اور مسجد آباد کرنے وہاں پہنچ گئے۔ مسجد شہید گنج لاہور شہید کردی گئی تو ایک دن میں ملک گیر تحریک کھڑی کردی۔ غرض ان کی زندگی ایک مسلسل جہاد سے عبارت تھی۔

1936ء میں جب قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کا بیڑہ اُٹھایا تو ان کی دعوت پر مولانا ظفر علی خان نے مسلم لیگ کی حمایت شروع کی وہ مسجد شہید گنج کی تحریک کے سلسلے میں نظر بند تھے‘ قائداعظمؒ کی مداخلت پر رہا ہوئے۔ مسجد کی بازیابی کے لئے مجلس اتحاد ملت ہند کا قیام عمل میں لائے،مگر یہ مجلس سیاسی میدان میں مسلم لیگ کی حمایت میں سرگرم رہی اور بالآخر اپریل 1938ء میں باقاعدہ مسلم لیگ میں مدغم ہوگئی۔ یہ مولانا ظفر علی خان کے اس جذبہ کا عملی اظہار تھا کہ انہیں محض اپنی قیادت عزیر نہ تھی، بلکہ ملت اسلامیہ اتحاد کی جس منزل کی طرف جارہی تھی اس میں آسانی پیدا کرنے کے لئے مولانا ظفر علی خان نے قائداعظمؒ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا ثبوت دیا۔

علم و ادب کے میدان میں مولانا ظفر علی خان نے وہ معرکے سر کیے ہیں جو کسی ادیب کو بیک وقت نصیب نہیں ہوسکے۔ وہ ایک صاحب طرز نثر لگار تھے‘ اعلیٰ درجہ کے مترجم اور ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ فی البدیہہ شعر کہنے میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔ اسلامی علوم میں انہیں زبردست دسترس حاصل تھی۔

مولانا ظفر علی خان 1853ء میں کرم آباد تحصیل وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سراج الدین پڑھے لکھے اور قوم کے لئے میں تڑپ رکھنے والے تھے اور محکمہ ڈاک و تار میں ملازم تھے۔ مولوی سراج الدین اپنے رجحان کے باعث سرسید احمد خان کی تحریک کے حامی تھے۔ مولانا ظفر علی خان کا اصل نام خداداد تھا جسے بعد میں تبدیل کرکے ظفر علی کردیا گیا۔ آپ نے مڈل تک مشن اسکول وزیر آباد میں تعلیم حاصل کی۔ اس دور میں آپ کے والد محترم نے ایک بار تعلیم کے حصول کے لئے علی گڑھ بھی بھیجا،لیکن آپ کچھ عرصہ بعد واپس آگئے۔ مڈل کے بعد آپ نے اپنے پھوپھا مولوی محمد عبداللہ خاں(پروفیسر عربی) مہندر کالج پٹیالہ کے پاس چلے گئے۔ وہاں سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ پھر ایم اے او کالج علی گڑھ میں داخلہ لے لیا اور 1892ء میں ایف اے کا امتحان پاس کرکے سری نگر میں ملازمت اختیار کرلی۔ صرف ایک سال بعد وہاں سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوبارہ علی گڑھ آگئے۔ جہاں علامہ شبلی نعمانی(پروفیسر عربی) اور پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ(پروفیسر فلسفہ) جیسے اساتذہ کے علوم سے استفادہ کیا۔ 1895ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور نواب محسن الملک کے ذاتی سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد حیدر آباد دکن چلے گئے جہاں ہوم آفس میں ملازمت مل گئی۔

مولانا ظفر علی خاں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ 1902ء میں ماہوار رسالہ ’’افسانہ‘‘ جاری کیا۔ 1903ء میں دکن ریویو منظر عام پر آیا۔ اس دوران آپ نے مولانا شبلی نعمانی کی ’’الفاورق‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا۔ دسمبر 1906ء میں ڈھاکہ کے سلیم اﷲ ہال میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا سالانہ اجلا س ہوا۔اس اجلاس میں آپ بھی شریک تھے۔ اسی اجلاس میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ ڈھاکہ سے واپسی پر آپ نے حیدر آباد چھوڑ دیا اور اپنے آبائی گاؤں کرم آبا دآ گئے۔ ان کے والد علیل تھے اور ہفتہ وار ’’زمیندار‘‘ نکالا کرتے تھے۔ 6 دسمبر 1909ء کو مولوی سراج الدین انتقال کر گئے اور آپ نے ’’زمیندار‘‘ جاری رکھنے کا وعدہ نبھانے کا فیصلہ کیا۔ اگست 1910ء میں آپ نے ’’پنجاب ریویو‘‘ بھی شروع کر دیا۔ پھر حلقہ احباب کے اصرار پر لاہور آ گئے۔ اس طرح مئی 1911ء میں ہفتہ وار ’’زمیندار‘‘ اور پنجاب ریویو‘‘ لاہور سے شائع ہونے لگا۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ ، شیخ عبدالقادر اور چودھری شہاب دین سے آپ کے بہت گہرے تعلقات تھے اور اس کا اثر ان کی تحریر اور تقریر میں نمایاں رہا۔

15 اکتوبر 1911ء کو ’’زمیندار‘‘ باقاعدہ روزنامہ ہو گیا۔ تاہم ’’زمیندار‘‘ کو کئی مرتبہ بند کیا گیا اور مولانا کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ 1916ء میں آپ کو کرم آباد سے ہفتہ وار ’’ستارہ صبح‘‘ شائع کرنے کی اجازت ملی، مگر شرط لگا دی گئی کہ ’’ستارہ صبح‘‘ میں سیاسی مسائل پر خیال آرائی نہیں ہو گی۔ مارچ 1920ء میں دوبارہ ’’زمیندار‘‘ شروع ہو گیا۔ 1937ء میں آپ ضمنی انتخابات میں مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1946ء کے عام انتخابات میں آپ نے اسی نشست سے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ 23مارچ 1940ء کے تاریخی اجلاس میں آپ نے نہ صرف شرکت کی،بلکہ قرارداد لاہور کا اردو ترجمہ کر کے حاضرین کو سنایا۔

آپ کی نیک نیتی‘ خلوص‘ لگن اور جرأت کا اعتراف صرف اپنوں نے نہیں دوسروں نے بھی کیا ہے۔ سرسید احمد خان نے کہا ’’ظفر علی خاں علی گڑھ کے ان ہونہار طلبا میں سے ہیں جنہیں آئندہ چل کر اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک و قوم کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں۔مَیں ان میں روشن مستقبل کے آثار دیکھ رہا ہوں۔‘‘ حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے فرمایا ’’ظفر علی خان کے قلم میں مصطفی کمال کی تلوار کا بانکپن ہے۔ انہوں نے مسلمانان پنجاب کو نیند سے جھنجھوڑنے میں بڑے بڑے معرکے سر کیے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے کہا ’’ظفر علی خان کے کلام میں جو تلخی ہے وہ سیاست کی ہے اور چاشنی ہے وہ ادب کی ہے‘‘۔مولانا شوکت علی نے بیان کیا ’’ظفر علی خان نے جو قومی اور ادبی معرکے سر کئے ہیں‘ اس کا اعتراف تو ان کے دشمنون کو بھی ہے‘‘۔ اکبر الہٰ آبادی نے فرمایا ’’ظفر علی خان کے خلوص‘ نیک نیتی‘ اسلام اور حب الوطنی سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا۔‘‘ نواب محسن الملک نے کہا ’’اس نوجوان میں بلا کی تیزی ہے اس بدلتے ہوئے دور میں ایسے ذہین نوجوانوں کا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ مسلمانوں میں جوہر کی کمی نہیں۔‘‘ فصیح الملک نواب مرزا داغ دہلوی نے کہا ’’پنجاب نے ظفر علی خان اور اقبالؒ پیدا کر کے اپنے ماضی کی تلافی کر دی ہے۔‘‘ علامہ محمد شبلی نعمانی نے کہا ’’ظفر علی خان کا نام اور کام محو ہونے کی چیز نہیں‘‘۔

جب ہندو کی ذہنیت کھل کر سامنے آ گئی تو مولانا ظفر علی خان نے کانگرس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے باوجود مخالفین نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا۔ مسٹر گاندھی نے کہا ’’میں مولانا ظفر علی خان کی عزت کرتا ہوں۔ وہ اپنی دُھن کے پکے ہیں‘‘۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا ’’اس میں شک نہیں کہ مولانا ظفر علی خان غیر ملکی حکومت کے خلاف بڑی جوانمردی سے لڑتے رہے ہیں‘‘۔

27 نومبر 1956ء کو دیانت‘ وفا‘ لگن‘ جرأت اور استقامت کا پیکر ابدی نیند سو گیا۔اس کی لازوال عظمت آج اہل ایمان کے دل پر نقش ہے۔

مزید : ایڈیشن 1