نظامِ مصطفےٰ سے ناموسِ مصطفےٰ تک

نظامِ مصطفےٰ سے ناموسِ مصطفےٰ تک
نظامِ مصطفےٰ سے ناموسِ مصطفےٰ تک

  

1977ء کے مارچ اور جون کے چارہ ماہ اسی طرح اہم تھے، جس طرح 2017ء میں نومبر سے فروری کے درمیانی چارماہ اہم ہیں۔ بھٹو کو اپنی حکومت کے خلاف ویسی ہی احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس طرح خود انہوں نے دس برس پیشتر ایوب خان کے خلاف چلائی تھی۔ فرق یہ تھا کہ دونوں تحریکوں میں معاشرے کے دو علیحدہ طبقوں نے حصہ لیا تھا ۔ 1968ء میں ایوب خان کے خلاف دائیں بازو کی مڈل کلاس، نوکری پیشہ افراد، کسان اور دیگر طبقے متحرک ہوئے تھے، جبکہ 1977ء میں خود بھٹو کے خلاف دائیں بازو کی طلباء تنظیمیں ، مڈل کلاس ، تاجر اور شہری آبادیوں سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقات شامل تھے۔ البتہ 2014ء میں مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف دھرنے میں عمران کے چیتوں اور چیتیوں کے علاوہ طاہرالقادری کے حامیوں نے قیامت رچائی تھی، تو 2017ء کے دھرنے میں خادم حسین رضوی کے حامیوں نے احتجاج رچایا ہے۔ ان دو طبقوں میں اپروچ اور نظریات کا فرق ہو تو ہو ، ایجنڈے کا فرق بہت کم ہے !

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1977ء کی تحریک سے قبل 1973ء تک بھٹو حکومت معاشی استحکام حاصل کر چکی تھی، جس طرح 2017ء کے دھرنے سے قبل نواز حکومت حاصل کرچکی ہے ، لیکن تیل کے عالمی بحران کی وجہ سے بھٹو نے روپے کو ڈی ویلیو کیا تھا،جس سے تاجر اور کاروباری برادری نے سرمایہ نکالنا شروع کردیا تھا اور معاشی بحران میں اضافہ ہو گیا تھا تو 2017ء میں تاجر اور صنعتکار نواز حکومت سے اِس لئے ناراض ہیں کہ وہ روپے کی ڈی ویلیو کیوں نہیں کر رہی ہے اِس لئے وہ معیشت سے سرمایہ نکال کر معاشی بحران پیدا کررہے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کو مسدود کرکے بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔

بھٹو نے 1977ء کی تحریک نظام مصطفےٰ سے قبل عرب ممالک سے پیٹروڈالر کی دستیابی یقینی بنائی تھی، تو نواز شریف نے 2017ء کے دھرنے سے قبل چین سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری یقینی بنا کر معیشت کو سنبھالا دیا ہوا ہے۔

1977ء کی احتجاجی تحریک سے قبل بھٹو کو بھی فوج کی حمائت حاصل تھی،جس پر اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جبکہ نواز حکومت بھی جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دے کر اور جنرل قمر باجوہ کا انتخاب کرنے تک بے حد مضبوط نظر آ رہی تھی ۔

بھٹو نے اپنی حکومت کے پانچ برس مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ہی عام انتخابات کا اعلان کیا تھا، کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ الیکشن جیت جائے گا، جبکہ نواز زحکومت پاپولر ہونے کے باوجود پانچ برس مکمل ہونے سے پیشتر انتخابات کروانے کے لئے تیارنظر نہیں آرہی ہے۔ بھٹو کے خلاف اپوزیشن کی ساری جماعتیں مل کر انتخاب لڑنے کے لئے میدان میں اُتری تھیں، جبکہ نواز حکومت کے خلاف اپوزیشن تاحال متحد نظر نہیں آتی ہے۔ پاکستان نیشنل الائنس، یعنی پی این اے میں تین بڑی مذہبی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ کھڑی تھیں جبکہ آج ماسوائے ایک دو کے باقی کی مذہبی جماعتیں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں ۔پی این اے بھٹو کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کی علامت سمجھی جاتی تھی، جبکہ نواز حکومت کی پالیسیوں کی اپوزیشن میں عمران خان اور مذہبی جماعتیں پیش پیش نظر آ رہی ہیں۔ صنعتکار، کاروباری افراد، تاجر اور دکاندار جس طرح بھٹو کے خلاف تھے اس طرح آج نواز حکومت کے خلاف نہیں ہیں ، مگر ہیں۔ پی این اے نے تحریک نظام مصطفےٰ کو انٹی بھٹو تحریک کی اساس بنایا تھا تو آج کی مذہبی جماعتیں تحریک ناموسِ مصطفےٰ کو اینٹی نون حکومت احتجاجی تحریک کی اساس بنائے ہوئے ہیں۔ وہ بھٹو کو سویلین ڈکٹیٹر، قابض اور شرابی کہتی تھیں ،یہ نواز حکومت کو ہٹ دھرم، مودی کا یار اور سیکیورٹی رسک کہتے ہیں۔ بھٹو کے سوشلزم سے اسلام پسند حلقے نالاں تھے تو حکومت کی جانب سے ممتاز قادری کی پھانسی اس کے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے۔ بھٹو بھی سمجھتا تھا کہ وہ حکومت مخالف تحریک پر قابو پالے گا اور حکومت بھی تادم تحریر یہی سمجھتی ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق 1977ء کے انتخابات میں جن سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ان کی تعداد ایک درجن سے زیادہ نہیں تھی، لیکن بھٹو کے خلاف سرگرم عمل خفیہ طاقتیں اس محدود مسئلے کو لامحدود بنانے پر تلی ہوئی تھیں تو آج بھی، جبکہ حلف نامے میں اٹھائے جانے والے اعتراض کو دور کردیا گیا ہے ،حکومت کے خلاف سرگرم خفیہ طاقتیں اس مسئلے کو لامحدود بناتی نظر آ رہی ہیں۔ تاریخ دان احمد بی سید کے مطابق بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک میں اربن مڈل اور لوئر مڈل طبقات کے نوجوان، تاجر، دکاندار اور دفاتر کے ملازمین پیش پیش تھے، جبکہ مزدور وں اور کسانوں کی اکثریت اس تحریک سے لاتعلق رہی تھی اور پولیس کی جانب سے زیادہ کارروائیاں کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں ہوئی تھیں، آج بھی کم و بیش ایسی ہی صورتِ حال ہے۔

بھٹو نے فوج طلب کی تھی اور طویل المدتی کرفیو نافذ کیا تھا، جس کے باوجود احتجاج میں کمی نہ آئی تھی ۔ بھٹو سے ناراض صنعتکار احتجاجی تحریک کو سرمایہ فراہم کر رہے تھے ، غیر ملکی فنڈنگ کی داستانیں علیحدہ سے تھیں ۔ ایک ماہ کی افراتفری کے بعد بھٹو نے پی این اے کو بات چیت کے لئے بلایا، جس میں اس نے نئے انتخابات اور شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ آج عمران خان فوری انتخابات اور مذہبی جماعتیں مبنی بر شریعت مطالبے کر رہی ہیں۔ بھٹو نے اپریل 1977ء میں نائٹ کلبوں اور شراب خانوں کی بندش کی اور مسلمانوں کو شراب کی فروخت پر پابندی کے علاوہ اتوار کی جگہ جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل کا اعلان کیا۔جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور ریکارڈ پر ہیں کہ بھٹو نئے انتخابات پر راضی ہو گئے تھے،جب جنرل ضیاء الحق نے جولائی 1977ء میں تیسرا مارشل لاء لگا دیا اور 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کر لیا،جو و فا نہ ہوا۔

آئندہ مارچ تک ملک میں جو ہو سو ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ مذہبی جماعتوں کی سیاسی ناپختگی کے سبب معاملہ نظام مصطفےٰ سے ناموسِ مصطفےٰ تک پہنچ گیا ہے ۔ اگر بات یونہی بڑھتی رہی تو بات کے ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا ، مذہبی جماعتیں اپنے آپ کو استعمال کے لئے پیش کرنے کی روش ترک کردیں، پاکستانی عوام مذہبی مزاج اور جمہوری رجحان رکھتے ہیں !

مزید : کالم