لاہور : 25ماڈل تھانوں سمیت 51تھانوں کی حدود میں سنگین جرائم میں 35میں سے 45فیصد اضافے کا انکشاف

لاہور : 25ماڈل تھانوں سمیت 51تھانوں کی حدود میں سنگین جرائم میں 35میں سے 45فیصد ...

لاہور(خبرنگار) رواں سال کے دوران شہر کے 25 ماڈل تھانوں سمیت 51 تھانوں کی حدود میں سٹریٹ کرائم ، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کنٹرول سے باہر رہے ہیں ، ان تھانوں کی حدود میں گزشتہ سال کی نسبت 35 سے 45 فیصد کرائم کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پولیس افسروں کی جانب سے تگڑے اور کرائم فائٹر ایس ایچ اوز کی تعیناتی اور پولیس مقابلے بھی سنگین جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال کے دوران شہر میں سنگین جرائم کی شرح میں اضافہ اور سدباب کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے خفیہ ادارے نے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ رواں سال کے دوران شہر کے 86 تھانوں میں سے 25 ماڈل تھانوں سمیت 51 تھانوں کی حدود میں کرائم کی شرح میں 35 سے 45 فیصد اضافہ ہواہے اور پولیس کے تمام تر منصوبے اور اقدامات جرائم روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکے ہیں ۔ واضح رہے کہ ان تھانوں میں دو سپر ماڈل پولیس اسٹیشن تھانہ کاہنہ اور تھانہ ڈیفنس بھی شامل ہیں۔ ان تھانوں کی حدود میں ہر ایک گھنٹے کے بعد سٹریٹ کرائم یا ڈکیتی سمیت سنگین جرم کی پولیس کو اطلاع ملی ہے اور پولیس کی جانب سے تھانوں کی سطح پر پٹرولنگ کے لئے دو دو گاڑیوں اور ڈولفن فورس سمیت پیروسکواڈ بھی سنگین جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ کو پیش کردہ ایک خفیہ ادارے کی رپورٹ میں پولیس حکام کے تمام تر دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں اوروزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے پر اعلیٰ پولیس افسروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پولیس افسروں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ماتحت ایس ڈی اوز (ڈی ایس پیز) اور ایس ایچ اوز پر ملبہ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور وزیر اعلیٰ کو مطمئن کرنے کے لئے متعدد ڈی ایس پیز اورایس ایچ اوز کی معطلی کی رپورٹ ڈھال کے طور پراستعمال کرنے کی تیاریاں پکڑ لی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پولیس افسروں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ڈولفن فورس اورپیروسکواڈ کی تعیناتی کے بعد سنگین کرائم کی شرح میں 25 سے 30 فیصد کم ہونے کا دعویٰ بھی کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے ایس ایس پی آپریشن لاہور منتظر مہدی نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال میں سنگین کرائم کی شرح کنٹرول میں رہی ہے اور ڈولفن فورس اور پیروسکواڈ سے سنگین کرائم 25 سے 30 فیصد کم ہوا ہے۔

مزید : علاقائی