سوشل میڈیا پر پابندی : نوجوان افسردہ،عام شہری پریشان

سوشل میڈیا پر پابندی : نوجوان افسردہ،عام شہری پریشان

لاہور(اپنے نمائندے سے)یوٹیوب،فیس بک، گوگل، ڈیلی موشن کی عدم دستیابی،صوبائی دارلحکومت کے لڑکے اور لڑکیاں اور سوشل میڈیا میں اپ ڈیٹ کرنے کے ماہر اور عادی شہری بھی افسردہ نظر آئے،اپنی لوکیشن ظاہر کرنے اور اپنی خوبصورت اداؤں،شاعری ،انفارمیشن اور تجزیوں کی بابت مصروف رہنے والے شہری بیزاری میں مبتلاء ہو گئے،حکومت سے سوشل میڈیا کی تمام ویب سائٹس آن لائن کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا ،روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانیو الے ایک سروے کیا گیا جس میں سوشل میڈیا سے وابستہ اور دلچسپی رکھنے والے شہریوں ،بزرگوں ،خواتین ،بچوں ،نوجوانوں اور لڑکیوں سے بھی بات چیت کی گئی ان تمام لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر پاپندی لگا کر ایک طرف سے لوگوں کے اصل حقائق سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ایک مسئلے کو ختم کرنے کے لئے کروڑوں لوگوں کوایک نئے مسئلے میں مبتلاء کر دیا گیا ہے گزشتہ روز جو کچھ اسلام آباد میں ہوا ہے یا ابھی بھی دوسرے شہروں میں ہو رہا ہے وہ کسی طور پر قابل قبول نہ ہے لیکن حکومت نے سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ساتھ چینلوں کی بندش کرکے لوگوں کو بھی اذیت میں مبتلاء کر دیا ہے ،کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم جو کی اپنی تعلیمی سرگرمیوں اور تحقیق میں سوشل میڈیا ویب سائٹس یا یو ٹیوب کا سہارا لیتے ہیں وہ سب بھی مایوس نظر آتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا سے بہت سے لوگ اپنے علم کی آبیاری بھی کرتے ہیں ،ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس کو کھولا جائے تاکہ یہ جو ہیجان کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کو ختم کیا جاسکے۔

سوشل میڈیا

مزید : صفحہ آخر