ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے: حافظ سعید

ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت ...

لاہور (آن لائن)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کیخلاف کاروائی نہ کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ حکمرانوں کی انہی غلطیوں کے سبب ملک پہلے ہی آزمائشوں سے دوچار ہے۔بھارتی خوشنودی کیلئے کشمیریوں کے خون سے بے وفائی اور ناموس رسالت پر حملہ مجرمانہ عمل ہے۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے‘تشدد کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ کا فوری حل نکالا جائے۔جن لوگوں نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی انہیں برطرف کر کے فوری سزائیں دی جائیں تاکہ مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے ہوں۔سرحدوں پر بیٹھے دشمن ملک میں کسی انتشار سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اتوارکے دن ھدیۃ الھادی پاکستان کے چیئرمین پیر سید ہارون علی گیلانی نے مرکز القادسیہ چوبرجی میں حافظ محمد سعید سے ملاقات کی اور دس ماہ کی نظربندی کے بعد رہائی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد،نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین محمد یعقوب شیخ ،جماعۃ الدعوۃ لاہور کے مسؤل ابوالہاشم بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاجبکہ پیر سید ہارون علی گیلانی نے حافظ محمد سعید کو 28نومبر کو میاں میر میں ہونے والی مجلس مشاورت میں شرکت کی دعوت بھی دی ۔جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت میں پہلے ہی بہت نقصان ہو چکااب مزید نقصان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ہمارے سول اور دفاع کے تمام اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور فوری فیصلوں کا اعلان کرنا چاہئے۔دینی و سیاسی جماعتیں باہم مل کر حکومت کے سامنے مشترکہ موقف بیان کریں۔ پاکستان کے آئین سے ختم نبوت کی شقوں کو خارج کرنے کے لئے انتخابی اصلاحات کا بہانا بنایا گیا۔یہ گہری سازش ہے‘ اس میں کون کون شامل ہے سب کے نام سامنے آنے چاہئیں اور سزاؤں کا اعلان کر نا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اخبارات میں اشتہارات اور ڈھیلی باتوں سے جذبات بہت مجروح ہو رہے ہیں۔اب مزید کسی غفلت کی گنجائش نہیں۔ حکومتی و عوامی سطح پرجلد اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور دشمنوں کو کوئی موقع نہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بہت نقصان ہو گا۔سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحادویکجہتی کے ساتھ مسائل حل کیے جائیں ۔

مزید : صفحہ آخر