کمسن طلبا ، باراتیں ، مسافر ، ہزارو ں لو گ موٹر وے اورجی ٹی روڈ پر پھنس گئے ،کھانہ نہ پانی ، کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور

کمسن طلبا ، باراتیں ، مسافر ، ہزارو ں لو گ موٹر وے اورجی ٹی روڈ پر پھنس گئے ...

لاہور(نعیم مصطفیٰ سے ) وفاقی دارالحکومت میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنا کیخلاف آپریشن کے ردعمل میں ہو نیو ا لے احتجاج اور مظاہروں نے زندگی مفلوج کر کے رکھ دی، کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ۔پنجاب کے مختلف علاقوں میں جمود کی کیفیت ہے ۔ موٹر وے اور جی ٹی روڈ سمیت بڑی چھوٹی شاہراہوں پر آمد و رفت نہ ہونے کے برابر ہے ،جو جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر وہیں اٹک کر رہ گیا ۔ ہفتے کی صبح ، دوپہر اور شام کو لاہور سمیت دیگر علاقوں سے اسلام آباد ، راولپنڈی ،پشاور جانیوالے لاکھوں افراد موٹر وے اور جی ٹی روڈ پر پھنسے ہوئے ہیں ۔ درجنوں باراتیں ، مختلف تعلیمی ادا ر و ں کے طلباء و طالبات کے ٹوئرز ، غمی خوشی کی تقریبات میں شرکت کیلئے جانیوالی فیملیز اور اہم دفتری امور کے سلسلے میں عازم سفر ہونیوالے ہزاروں افراد بھی منزل مقصود پر پہنچنے کو ترس گئے ہیں جو ہفتے کی رات موٹر وے کے مختلف مقامات پر رات گزارنے پر مجبور ہوئے،سردی کی شدت میں بے سروسامانی کے عالم میں رات گزارنا پڑی ۔ سڑکوں پر پڑے یہ ہز اروں افراد جن میں معصوم بچوں ، خواتین اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد بھی شامل ہے اپنی جگہ پریشانی کی عالم میں ہیں تو ان کے اہل خانہ میلوں دور بیٹھے ان کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں ۔ایک طرف کئی باراتیں راستے مسدود ہونے کی بنا پر دلہن والوں کے گھروں تک نہ پہنچ سکیں تو دوسری جانب دلہن والے اتوار کی شام تک ان کی آمد کے منتظر رہے، اس دوران بھاری اخراجات سے تیار کردہ پکوان ضائع کرنا پڑے ۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع بڑی بڑی ہول سیل مارکیٹوں میں ہو کا عالم رہا ، بیرون شہر سے آنیوالے لاکھوں بیوپاری راستہ نہ ملنے کے باعث لاہور نہ پہنچ سکے ۔ بالخصوص 12ربیع الاول کو جشن عید میلاد النبی ؐکی تیاریوں کیلئے تیار کردہ کروڑوں کا آرائشی و نمائشی سامان بھی دھر ے کا دھرا رہ گیا ۔ شاہ عالم مارکیٹ اور رنگ محل کے تاجر وں کا کہنا ہے ہم پورا سال ربیع الاوّل کے ابتدائی ایام کا انتظار کرتے ہیں، سال بھر کی کمائی کے یہی مخصوص دن ہیں جو احتجاج اور مظاہروں کی نذرہو گئے ۔ موٹر وے پر کلر کہار کے مقام پر50 سے زائد خاندانوں سمیت پھنسے ہوئے ہزاروں افراد نے کھلے آسمان تلے رات گزاری ۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسی ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد جارہی ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جن گاڑیوں پر یہ شہری سفر کر رہے ہیں ان میں سے کسی بھی کمپنی نے مسافروں کے قیام و طعام کی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ ایک اور زیادتی جن کا بے سروسامانی کے عالم میں مسافروں کو سامنا کرنا پڑا وہ موٹر وے کے گرد و نواح میں موجود ہوٹلز ،ریسٹو رنٹس، ٹی سٹالز اور ڈھابوں کی ہے جنہوں نے نازک حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کی جیبوں پر خوب ہاتھ صاف کیا اور منہ مانگے دام وصول کرتے رہے ۔بعض مقامات پر عارضی دکانیں اور ٹھیلے بھی سج گئے جہاں قیام کرنے والے اجنبیوں کی خوب شامت آئی ۔ لاہور سے روانہ ہونے والی بسوں اور گاڑیوں کو سکھیکی ، ،کوٹ مومن ، پنڈی بھٹیاں، سالم، کوٹ سرور، پنڈ دادنخان، لِلا ، کلر کہار ، چوا سیدن شاہ ، بلکسر اور چکری کے انٹر چینجز کے راستے نیچے اتارا گیا ۔ مسافروں کو موٹر وے پولیس کی طرف سے یہ بالکل نہیں بتایا گیا کہ آپ لوگوں کو کہاں بھیجا جا رہا ہے ، آپ کہاں اور کب تک رہیں گے ۔ ان مسافروں میں سے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے سینکڑوں لوگ ایسے بھی ہیں جن کی جیب میں کرائے کے سوا ایک روپیہ بھی نہیں ۔ سینکڑوں افراد ایسے بھی دیکھے گئے جن کے موبائل کی بیٹریاں آف ہو گئیں اور ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ کٹ گیا ۔ مقامی دکانداروں نے اس مجبوری کا بھی خوب فائدہ اٹھایا اور موبائل چارجنگ کے پچاس روپے فی کس لیتے رہے ۔ کچھ لوگ گھروں سے بستر لے آئے اور مجبور مسافروں سے سڑک یا فٹ پاتھ اور پارک پر بستر بچھا کر 200سے 500روپے تک وصول کرتے رہے ۔موٹر وے پر زیادہ نرخ وصول کئے جاتے رہے جبکہ جی ٹی روڈ پر ریٹ ذرا کم تھے ۔ دونوں شاہراہوں پر کئی اہم فیملیز بھی ٹریفک میں پھنسی رہیں انہیں ریسکیو کرنے کوئی نہیں آیا ۔ لاہور سے ہفتے کے روز شام تک گاڑیاں اسلام آباد کی طرف بھجوائی جاتی رہیں جو راستے میں مختلف مقامات پر پھنس جاتیں ۔ تاہم اتوار کو اکا دکا ٹرانسپورٹ وفاقی دارالحکومت کی طرف روانہ ہوئی لیکن ایک بھی گاڑی منزل مقصود تک نہ پہنچ پائی ۔ موٹر وے اور جی ٹی روڈ پر پھنسے مسافروں کا کہنا تھا اگر اسلام آباد تک رسائی نا ممکن تھی تو ہمیں لاہور سے ہی کیوں نہ بتایا گیا ،حالات ہنگامی صورتحال اختیار کر گئے تھے تو مسافروں کے قیام و طعام کی طرف انتظامیہ کا دھیان کیوں نہ آیا ، ہمارے ساتھ یہ ناروا سلوک کیوں روا رکھا گیا ؟۔

مظاہرے، زندگی مفلوج

مزید : صفحہ اول