مشتعل مظاہرین کے خواجہ آصف ، راناثناء ، بلال یاسین ، اعجاز سول ، رانا ارشد ، منشابٹ کے گھروں پر حملے

مشتعل مظاہرین کے خواجہ آصف ، راناثناء ، بلال یاسین ، اعجاز سول ، رانا ارشد ، ...
  •  مشتعل مظاہرین کے خواجہ آصف ، راناثناء ، بلال یاسین ، اعجاز سول ، رانا ارشد ، منشابٹ کے گھروں پر حملے
  •  مشتعل مظاہرین کے خواجہ آصف ، راناثناء ، بلال یاسین ، اعجاز سول ، رانا ارشد ، منشابٹ کے گھروں پر حملے

فیصل آباد ،لاہور، سیالکوٹ(سپیشل رپورٹر،ایجنسیاں ،جنرل رپورٹر،خبر نگار ،نمائندہ پاکستان) مختلف مذہبی تنظیموں کے کارکنوں نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے ڈیرے اور گھر کو آگ لگانے کی کوشش پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے ناکام بنا دی ،اس دوران مظاہرین پر اندھا دھند آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجہ میں مذہبی تنظیموں کے درجنوں کارکن زخمی ہوئے جبکہ آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے پولیس اہلکار اور میڈیا کے ارکان بھی متاثر ہوئے،واقع آبادی کے رہائشی بھی شدید مشکلات سے دوچار رہے ،رات گئے تک علاقہ میں سخت کشیدگی کا ماحول رہا ۔ تحریک لبیک یار سول اللہ ،سنی اتحاد کونسل ،عوامی تحریک اور سنی تحریک کا چوک گھنٹہ گھر میں شام کے وقت اجتماعی جلسہ منعقد ہوا جس میں رانا ثناء اللہ کے دفتر اور گھر کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا تو کارکنوں نے راستہ میں مظاہرین کو روکنے کی بجائے چوک گھنٹہ گھر سے کئی کلومیٹر دور سمن آباد میں صو بائی وزیر قانون کے ڈیرے اور گھر کی طرف جانے کا راستہ دیدیا گیا وزیر قانون کا ڈیرہ اور گھر قریب قریب واقع ہیں۔پولیس کے باوجود مظاہرین تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے ان کے ڈیرے اور گھر کے بالکل نزدیک پہنچ گئے ،انہوں نے جگہ جگہ لگی فلیکسز،بینرز پھاڑ دئیے پولیس بھی حرکت میں آئی اور اس نے صوبائی وزیر قانون کے ڈیرے اور گھر کی چھتوں سے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جوابی طور پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا ،آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے درجنوں مذہبی کارکن زخمی ہوگئے جن میں سے دس کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث کافی دیر تک علاقہ میدان جنگ بنا رہا ۔جبکہ لاہور میں مذہبی تنظیم کے کارکنوں نے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کے ڈیرے کا گھیراؤ کر لیا ، پتھراؤ سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ،اطلاع ملنے پر پولیس پہنچ گئی جس نے مظاہرین کو منتشر کیا ۔ وہنی روڈ پر واقع بلال یاسین کے ڈیرے پر پتھراؤ سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔اس دوران مشتعل مظاہرین دروازے کو بھی توڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کیا اور اس کے بعد اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مشتعل کارکنوں نے دن بھر دھاوے جاری رکھے ۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف ، رکن پنجاب اسمبلی پیر اعجاز رسول کی رہائش گاہوں پر گزشتہ روز حملے کر کے توڑ پھوڑ کی گئی تاہم رہائشی محفوظ رہے۔حملوں کے پیش نظر ارکان اسمبلی اور وزراء نے حکومت سے سیکیورٹی مانگ لی ہے ۔دوسری طرف ارکان اسمبلی اور وزراء نے اپنی سرکاری رہائش گاہوں سے اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا ہے۔گزشتہ روز

سب سے زیادہ توڑ پھوڑ صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین کی رہائش گاہ موہنی روڈ پر ہوئی ۔مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد کی رہائش گاہ واقع کینال بنک پر بھی تحریک کے درجنوں کارکنوں نے دھاوا بولا اور ان کی رہائش گاہ پر پتھر برسائے پیر اعجاز رسول ایم پی اے کی رہائش گاہ پر بھی مشتعل مظاہرین نے پتھر برسائے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔دریں اثنا اتوار کے روز مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے صوبائی وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ کے گھر اور دفتر واقع امام صاحب روڈ نیکاپورہ پر ڈنڈوں ،سوٹوں سے حملہ کردیا تاہم بیرونی آہنی دروازے بند ہونے کی بناء پر کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ۔جبکہ تھانہ سٹی پسرور پولیس نے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی رہائش گاہ محلہ ککے زئیاں میں ڈنڈوں ،سوٹوں اور پتھروں سے حملہ کرکے عمارت کونقصان پہنچانے اور کھڑکیاں ،دروازے توڑنے کے الزا م میں چار نامزد اور 26نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ایف آئی آر سیل کردی ہے۔

گھروں پر حملے

مزید : صفحہ اول