جنرل پرویز مشرف پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دبارہ جیت کا خوف کیوں سوار ہے ؟

جنرل پرویز مشرف پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دبارہ جیت کا خوف کیوں سوار ...
جنرل پرویز مشرف پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دبارہ جیت کا خوف کیوں سوار ہے ؟

  

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ مداخلت کرے ورنہ پی پی اور ن لیگ پھر جیت جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو عبوری حکومت کے لئے مدد کرنی چاہئے، انہوں نے یہ بات لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہی، جنرل (ر) پرویز مشرف نے یہ بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہی متعدد بار وہ ایسے ہی خیالات کا اظہار مختلف چینلوں پر کرچکے ہیں اور ان کے بعض حاشیہ بردار ان کے ان نادر خیالات کو ہوا کے دوش پر آگے بھی بڑھاتے رہتے ہیں، وہ غالباً یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے 99ء میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور پھر 2007ء میں ایمرجنسی لگا دی تھی اسی طرح کا کوئی اقدام سپریم کورٹ بھی کرسکتی ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ ایسا ادارہ ہے جو آئین و قانون کا پابند ہے اور ان حدود سے باہر نکل کر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتا۔ پھر سپریم کورٹ ان درخواستوں پر حکم جاری کرتی ہے جو اس کے روبرو دائر کی جاتی ہیں۔ کسی تقریب میں خطاب پر جس کی رپورٹ اخبارات میں چھپ جائے اور ٹی وی چینلوں پر نشر ہوجائے سپریم کورٹ کوئی حکم جاری نہیں کرتی۔ جو کچھ جنرل پرویز مشرف چاہتے ہیں اس کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ وہ آئین و قانون کے ماہرین سے مشورہ کرکے اس مفہوم کی کوئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں، وکلاء کی ایک ٹیم بنائیں جو سپریم کورٹ کو دلائل کے ذریعے قائل کرسکے کہ آئین کی فلاں دفعہ کے تحت وہ ملک میں عبوری حکومت بنانے کا حکم دے سکتی ہے، اور اس کی مدت بھی مقرر کرسکتی ہے، ہوسکتا ہے ان کے ماہرین، آئین ہی سے کوئی ایسی شق ڈھونڈ نکالیں جو سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیتی ہو کہ وہ کسی دن اچانک یہ حکم جاری کرے کہ جو حکومت برسر اقتدار ہے وہ ختم، اور اس کی جگہ ایک عبوری حکومت بنے گی جس کے سربراہ مثال کے طور پر جنرل پرویز مشرف ہوں گے، وہ آئندہ دس سال تک برسر اقتدار رہیں گے اور انہیں اختیار ہوگا کہ وہ آئین میں جیسی چاہیں ترامیم کرتے رہیں اور جس طرح کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام چاہتے ہیں وہ نافذ کریں غالباً جنرل پرویز مشرف کا یہ خیال ہے کہ ان کے اس طرح کے بیانات سے ان کا وہ دور واس آجائیگا جب ان کے حکم پر وزیراعظم آتے اور جاتے تھے، وہ جب چاہتے ایک وزیراعظم سے استعفا لے کر اس کی جگہ دوسرا لے آتے، میر ظفر اللہ جمالی تو ان کے اتنے تابعدار تھے کہ انہیں بڑے فخر کے ساتھ ’’باس‘‘ کہا کرتے تھے، حالانکہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے، پھر یوں ہوا کہ ایک خوبصورت سہ پہر کو انہوں نے جمالی صاحب کو طلب کیا اور کہا کہ وہ استعفا دیدیں، جنہوں نے ’’فیس سیونگ‘‘ کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ اپنے استعفے کا اعلان مسلم لیگ ق کی مجلس عاملہ میں کریں جس نے انہیں وزیراعظم بنایا حالانکہ وہ اندر سے اچھی طرح جانتے تھے کہ جس شخص کو ’’باس‘‘ کہتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی وہ انہیں طلب کرکے استعفا بھی لے سکتا ہے۔ یہ فرض جنرل پرویز مشرف نے چودھری شجاعت حسین کو سونپا کہ وہ اپنی جماعت کے وزیراعظم کے استعفے کا اعلان کرکے بتائیں کہ انہیں چالیس روز کے لئے وزیراعظم بنایا گیا ہے یہ مدت ختم ہونے کے بعد ان کی جگہ شوکت عزیز لیں گے، جنہیں اس دوران قومی اسمبلی کا رکن منتخب کرایا جائیگا، چودھری شجاعت حسین نے میر ظفر اللہ جمالی کے استعفے اور اپنی وزارتِ عظمیٰ کا اعلان تو کردیا البتہ شوکت عزیز کے متعلق خاموشی اختیار کی تو اسی وقت ایوانِ صدر سے حکم آیا کہ خصوصی پریس کانفرنس بلا کر اس میں شوکت عزیز والے حصے کا اعلان کیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جنرل پرویز مشرف اس نظام کو ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا نظام کہتے تھے حالانکہ اس میں چیک ہی چیک تھا، بیلنس سرے سے ہی نہیں تھا، اب اگر وہ ایسا ہی نظام چاہتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہے اس کے امکان کی ایک صورت ہے کہ 1999ء واپس آجائے وہ کسی طرح دوبارہ آرمی چیف بن جائیں اور وزیراعظم کو رخصت کرکے اپنا چیک اینڈ بیلنس کا نظام واپس لے آئیں۔ جنرل پرویز مشرف نے جس طرح میر ظفر اللہ جمالی سے استعفا طلب کیا تھا اور انہیں ’’یس سر باس‘‘ کی صورت میں جواب ملا تھا غالباً اسی منظر کو سامنے رکھ کر انہوں نے افتخار چودھری کو گھر بلاکر ان سے استعفا مانگ لیا تھا، اور احتیاطاً چند باوردی افسروں کو آرمی ہاؤس میں بلالیا تھا، کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے جسٹس افتخار چودھری سے استعفا مانگا تو انہوں نے انکار کردیا جس پر وہ غصے میں آگئے اور وہاں موجود افسروں سے کہا کہ اس ۔۔۔ سے استعفا لیں، یہ لفظ افتخار چودھری نے بھی سن لیا اور واپس لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس لفظ کا حقیقی مصداق کون ہے، بہرحال استعفا نہ ملنا تھا نہ ملا، لیکن ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کے متمنی صدر نے اس سپریم کورٹ کے چیف کو، جس سے آج وہ التجائیں کررہے ہیں، انتہائی ذلت آمیز طریقے سے ان کے عہدے سے ہٹا دیا، پھر گھر میں نظر بند بھی رکھا، ان سے بدسلوکی بھی کرائی گئی لیکن یہ ایک شخص ان کے زوال کی پہلی اینٹ رکھ گیا، اور بالآخر اسی کے پیدا کئے ہوئے حالات کی وجہ سے انہیں اس منصفِ صدارت سے استعفا دینا پڑا جس پر وہ بزعمِ خویش 2013ء تک فائز ہوگئے تھے۔انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او بھی اپنی صدارت کو محفوظ بنانے کیلئے ہی کیا تھا جس کے بارے میں سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے کہ یہ اسی طرح کالعدم ہے جیسے کہ یہ کبھی تھا ہی نہیں۔

جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کی کئی عدالتیں مفرور قرار دے چکی ہیں اس لئے بظاہر یہ تو ممکن نہیں کہ وہ خود سپریم کورٹ میں بطور پٹیشنر پیش ہوکر عبوری حکومت کے حق میں دلائل دیں کیونکہ اس سے پہلے وہ گرفتار ہوجائیں گے ان کی واپسی کی یہی ایک صورت ہے کہ انہیں یقین ہو کہ اگر وہ واپس آئیں گے تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائیگا، لیکن غالباً انہیں کہیں سے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں ملی، اس لئے وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوکر اپنی فلاسفی کے حق میں دلائل دینے کی بجائے اپنے خیالات بذریعہ میڈیا سپریم کورٹ تک پہنچا رہے ہیں اور غالباً کچھ امیدیں بھی لگائے بیٹھے ہیں۔

خوف سوار

مزید : تجزیہ