دھرنے کیخلاف آپریشن ، پولیس اہلکار شہید ، درجنوں مظاہرین زخمی ، سینکڑوں گرفتار ، ملک گیر مظاہرے ، اسلام آباد فوج ، لاہور میں رینجرز طلب، چودھری نثار ، زاہد حامد کے گھروں پر حملے ، لیگی ایم این اے جاوید لطیف زخمی

دھرنے کیخلاف آپریشن ، پولیس اہلکار شہید ، درجنوں مظاہرین زخمی ، سینکڑوں ...

اسلام آباد228 کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک 228 ایجنسیاں )فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران مظاہرین سے جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 190 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیاہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد میں قیام امن کیلئے فو ج طلب کرلی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ،نوٹیفکیشن کے مطابق قیام امن یقینی بنانے کیلئے فوجی جوان تعینات کیے جائیں۔ حکومت نے دھرنا مظاہرین کیخلاف مد دکیلئے آرمی کی111بریگیڈ کی خدمات حاصل کی ہیں۔حکومت نے اس سے قبل صبح فیض آباد میں جاری دھرنے کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور ایف سی اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے آپریشن کا آغاز کیا تھا ،جوفیض آباد کے مقام سے بدل کر شہر کے دیگر حصوں میں پھیل گیا ہے ،دوپہر کے بعد سے کر اب تک سکیورٹی فورسز کی جانب سے خاموشی ہے ،تاہم اب حکو مت نے مسئلے سے نمٹنے کیلئے اپنی کمرکستے ہوئے فوج کو طلب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔فوج کی طلبی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے۔وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے شرکا کو دی گئی گذشتہ رات 12 بجے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعدمظاہرین کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔پولیس کے مطابق اسلام آباد کے علاقے آئی ایٹ فور میں آپریشن کے دوران مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار کے سرپر چوٹیں آئیں جس سے وہ شہید ہوگیا۔آپریشن میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری نے حصہ لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ۔ واٹر کینن کا استعمال کیا۔آپریشن کے دوران مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور غلیل کے ذریعے بنٹوں کا بھی استعمال کیا گیا جس سے پولیس اور ایف سی کے اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے پولی کلینک اور بے نظیر ہسپتال منتقل کیا گیا۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں میں 190 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا، جن میں 61 پولیس ، 47 ایف سی اہلکار اور 50 عام شہری شامل تھے۔مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا۔پمز ہسپتال کے مطابق زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر عبدالہادی، ڈی ایس پی عارف شاہ، ایس ایچ او تھانہ آئی نائن اور ایس ایچ او تھانہ بنی گالہ شامل ہیں۔پولی کلینک اور بینظیر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے چھٹی پر موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا۔دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی موجود رہیں ۔ آپریشن کی فضائی نگرانی کی گئی ۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانچ سمت سے کارروائی کی۔آپریشن کے دوران پولیس نے پانچ سمت سے کارروائی کرتے ہوئے مری روڈ، راولپنڈی روڈ، کھنہ پل، اسلام آباد ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ کی جانب سے پیش قدمی کرکے فیض آباد کو مظاہرین سے خالی کرانے کی کوشش کی۔مظاہرین نے 10 کے قریب گاڑیوں کو آگ لگادی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی حویلی پر دھاوا بول دیا۔وفاقی وزیر زاہد حامدکے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ بارہ کہو کے مقام پر مری جانے والے راستے اور کنونشن سینٹر پر مری آنے جانے والے راستے کو بند کردیا۔موٹروے پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مشتعل مظاہرین نے موٹروے اور راولپنڈی ایکسپریس وے کو بھی بلاک کردیا، جس سے ٹریفک کی کار روانی میں خلل پڑا۔مشتعل مظاہرین نے سابق وزیرداخلہ چو دھری نثار علی خان کے گھر کا گیٹ توڑ دیا اور ان کے گھر سے نکلنے والی بکتر بند گاڑی پر پتھراؤ کیا ۔فیض آباد اور ملحقہ علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔پولیس کی شیلنگ سے قریب موجود دفاتر میں کام کرنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مری روڈ پر اسکول بند کرا دیئے گئے۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے میڈیا کو فیض آباد آپریشن کی لائیو کوریج سے روکتے ہوئے تمام نیوز چینلز کو آف ایئر کرنے کا حکم دیا۔پیمرا نے حکم دیا کہ میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کے تحت آپرشن کی لائیو کوریج بند کرے۔ آپریشن کے دوران پی ٹی اے نے ملک بھر میں انٹرنیٹ براؤزر کے ذریعے فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر کو بھی بند کردیا۔سلام آباد ہائیکورٹ کے تین دن میں دھرنا پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کے حکم کیبعد ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکا کو آخری وارننگ جاری کی تھی۔ضلعی انتطامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دھرنے کے شرکا 2 ہفتے سے غیر قانونی طور پر فیض آباد میں بیٹھے ہیں، پہلے بھی شرکا کو تین وارننگ کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں لہٰذا شرکارات 12 بجے تک فیض آباد خالی کردیں۔ 12 بجے کی ڈیڈ لائن ختم نے کے بعد پولیس نے دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا۔کراچی سے ملنے والی رہورٹس کے مطابق آپریشن کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران 2 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوگئے۔ گزشتہ 19 روز سے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے فورسز نے آپریشن کیا جس کے نتیجیمیں پولیس اہلکاروں سمیت 200 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔اسلام آباد آپریشن کے خلاف کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ، اور مذہبی جماعتوں کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے ۔نمائش چورنگی، شارع فیصل، نرسری، اسٹار گیٹ، ملیر، پرانی سبزی منڈی، نیو کراچی، ناگن چورنگی، قیوم ا?باد، حسن اسکوائر، سخی حسن، ناتھا خان پل، ٹاور اور حب ریور روڈ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔شارع فیصل پر نرسری کیقریب پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔کراچی ایئرپورٹ کے قریب سٹار گیٹ پر مذہبی جماعت کے کارکنوں نے احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین نے پتھراؤ کیا جب کہ ناتھا خان پل پر نامعلوم افراد نے دو گاڑیوں کو آگ لگادی۔ایس ایس پی ملیر راؤ انور کے مطابق اسٹارگیٹ پر احتجاج کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی جس سے ایس ایچ او میمن گوٹھ اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لیے لیا۔شہر کے مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک 21 افراد زخمی ہوچکے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے سول اور جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر ہاؤس جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا وزیراعلیٰ ہاؤس کے اطراف بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) نے تمام نیوز چینلز کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا جس پر عملدرآمد کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو ہدایت کی کہ تمام نیوز چینلز کو آف ایئرکردیں، چینلز کی دھرنے کے خلاف آپریشن اور پھر سامنے آنیوالے ردعمل کی کوریج کی وجہ سے امن و امان کی خرابی کاخدشہ ہے لہٰذا چینلز کی نشریات بند کردیں۔پنجاب پولیس کے اہلکار دھرنا مظاہرین کو دیکھ کر بھاگ گئے تھے،وزارت داخلہ کی رپورٹ احسن اقبال کو پیش کر دی گئی۔اسلام آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرانے کے حوالے سے رپورٹ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو پیش کر دی گئی،نجی ٹی وی چینل سمانیوز کے مطابق رپورٹ وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال کو پیش کی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکار مظاہرین کو دیکھ کر بھاگ گئے تھے،اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے سخت پریشانی کا اظہار کیا اورقریبی رفقا سے گفتگو میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے سے نمٹنے کی حکمت عملی ٹھیک نہیں تھی،نجی ٹی وی کے مطابق احسن اقبال نے دھرنے سے نمٹنے کے حوالے سے مشاورت کیلئے سابق وفاقی وزیر چودھری نثار سے بھی رابطے کوشش کی۔اس آدمی سے فوری استعفیٰ لے لیں،دھرنے کیخلاف آپریشن ،افراتفری کے بعد مقتدر حلقوں نے حکومت کو پیغام پہنچادیا۔فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک کے دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد ملک بھر میں افرا تفری پھیل گئی اور مختلف مقامات پر مظاہرے پھوٹ پڑے ، ایسے میں مقتدرحلقوں نے مزید غیریقینی صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت کو پیغام دیا کہ وزیرقانون زاہد حامد سے استعفیٰ لیا جائے۔ذرائع نے بتایاکہ دھرنے کے شرکا کیخلاف آپریشن کے بعد بیشتر بڑے شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور وفاقی دارلحکومت میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ بیشترشہروں میں تحریک لبیک کے کارکن سڑکوں پر آگئے اور ٹائر جلا کر راستے بند کردیئے ، تشدد کے بعد سنی تحریک نے تحریک لبیک کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے بعد مقتدر حلقوں نے حکومت کو پیغام دیا کہ معاملے کو سلجھانے کے لیے زاہد حامد سے استعفیٰ لیا جائے ، امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ ملکی صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے زاہد حامد جلد مستعفی ہوجائیں گے۔تحریک لبیک یارسول اللہ کے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے ہیں ،پنجاب حکومت نے صوبے میں رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے دھرنے کیخلاف آپریشن پر ملک بھر میں کارکنوں نے مظاہرے کئے ۔ آپریشن کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہواکراچی میں اسٹار گیٹ پر احتجاج کے دوران فائرنگ سے 21 افراد زخمی ہوگئے۔کراچی ایئرپورٹ کے قریب اسٹار گیٹ پر مذہبی جماعت کے کارکنوں نے احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے پولیس افسر زخمی ہوگیا، پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لیے لیا۔اسٹار گیٹ پر احتجاج کیدوران نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی جس سے پولیس اہلکار سمیت 21 افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے جناح اور سول اسپتال منتقل کیا گیا۔شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر ہاؤس جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے اطراف بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔لاہور میں بھی اسلام آباد آپریشن پر شدید رد عمل دیکھنے میں آ یا جہاں شاہدرہ کیعلاقیمیں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگادی۔پولیس نے شہر کی صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے داتا دربار کو زائرین کے لیے بند کردیا جب کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کی نفری کو بھی طلب کرلیا گیا ۔لاہور میں ممکنہ احتجاج اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر مارکیٹوں کو بھی بند کرنے کی ہدایات دی گئیں۔سیالکوٹ میں بھی چند مظاہرین نے احتجاج کیا جہاں سمبڑیال میں ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی گئی تاہم پولیس کی نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کردیا۔فیصل آباد اور گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا ہے جہاں مظاہرین نے مختلف سڑکیں بلاک کردیں۔گوجرانوالہ میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے پولیس کا انسپکٹر زخمی ہوگیا۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں آپریشن عدالتی احکامات پر شروع کیا گیا۔احسن اقبال نے سرکاری ٹی وی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں آپریشن شروع کیا کیونکہ عدالتی احکامات کی بجا ا?وری سیانکار نہیں کرسکتے، انتظامیہ کا فرض ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرے لہٰذا انتظامیہ نے ہر ممکن کوشش کہ کہ جان و مال کا نقصان نہ ہو۔ دھرنے والے اتنے سادہ نہیں، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں اور وسائل ہیں جو ریاست کیخلاف استعمال ہوتے ہیں اور اس کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بنانا ہے۔ دھرنے والوں ک پاس آنسو گیس کے شیل ہیں جو انہوں نے فورسز پر پھینکے۔ یہ ختم نبوت سے دوستی نہیں بلکہ دشمنی ہے جس سے قوم کی صفوں میں انتشار پیدا ہو رہا ہے، یہ لوگ بین الاقوامی سازش میں استعمال ہورہے ہیں، اس وقت پاکستان کے دشمن حلقے خوش ہورہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے پر امن طریقے سے دھرنے کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے اور اب بھی دھرنے والوں کے ساتھ ہر وقت مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ملک میں انتشار پھیلانے میں ایک جماعت ملوث ہورہی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی قسم کی بدامنی کی سازش سے دور رہیں کیوں کہ ملک میں انتشار و عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ختم نبوت کا قانون پہلے سیزیادہ مضبوط ہوگیا ہے اور ایسے میں لوگوں کو عقائد کی بنیاد پر تشدد پر اکسانا درست نہیںَاحسن اقبال نے سرکاری ٹی وی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں آپریشن شروع کیا کیونکہ عدالتی احکامات کی بجا آوری سیانکار نہیں کرسکتے یہ لوگ بین الاقوامی سازش میں استعمال ہورہے ہیں، اس وقت پاکستان کے دشمن حلقے خوش ہورہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے پر امن طریقے سے دھرنے کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی قسم کی بدامنی کی سازش سے دور رہیں۔

اسلام آباد آپریشن

لاہور (کرائم رپورٹر، ایجو کیشن رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے مظاہرین کے خلاف آپریشن کے بعد پنجاب پولیس کوبھی ہائی الرٹ کردیاگیا، شہر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکن حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے کے نعرے لگاتے ہوئے مال روڈ پر اسمبلی ہال کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ، شاہدرہ چوک سمیت دیگر متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں جس سے علاقہ میدان جنگ بنا رہا، مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، مشتعل مظاہرین نے شاہدرہ میں تھانہ شاہدرہ پر دھاوا بول دیا ،پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، مظاہرین نے دو موٹرسائیکلوں اور دو گاڑیوں کو بھی آ گ لگا کر جلا دیا ، جھڑپوں کے دوران پولیس افس و اہلکاروں اور شہریوں سمیت 13افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے 200سے زائد افراد کو گرفتار کرکے شہر کے مختلف تھانوں میں بند کردیا ، مظاہرین مال روڈ پر حکومت مخالف تقاریر اور نعرے بازی کرتے رہے رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا ، وفاقی دارالحکومت میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے مظاہرین کے خلاف آپریشن کے بعد کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کو الرٹ کر دیا گیا تھا لاہور میں بھی پولیس کی جانب سے شہر کے داخلی وخارجی راستوں پرخاردارتارلگاکرراستے بند کردیے گئے جس کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہو گئے اور تحریک لبیک کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے،شاہدرہ میں مظاہرین نے تھانے پر دھاوا بول دیا اہلکاروں نے تھانے کا مین گیٹ بند کرکے اپنی جانیں بچائیں، مظاہرین نے تھانے کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی ، تھانے کے باہر دو سرکاری موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا، جبکہ ملتان روڈ پرموہلنوال،چوہنگ، لوہاراں والا کھوہ اور شاہدرہ میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کر دیں جس کے بعد شہر بھر میں ٹریفک کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر ہزاروں مظاہرین مال روڈ پر پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اس موقع پر مال روڈ پر پولیس کی بھاری نفری موقع پرپہنچ گئی اور مظاہرین کو روکنے اور مزاکرات کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ڈنڈا برادر کارکنوں نے پولیس کی پیش قدمی کو روک دیا اور وہاں سے جانے کو کہا اور پولیس اہلکاروں کو دھکے دینے شروع کر دیے اور نہ جانے کی صورت مین سنگین اقدام اٹھانے کی دھمکی دی جس پر پولیس افسران کی جانب سے نفری کو موقع سے ہٹ کر پنجاب اسمبلی کے احاطے میں جانے کا حکم دے دیا پولیس کے جانے کے بعد لبیک یا رسول اللہ کے ہزاروں کارکن دھرنا دے کر سڑک پر بیٹھ گئے دوسری جانب سے داتا دربار ، شاہدرہ ، شاہدرہ ٹاون ، فیروز پور روڈ ، ملتان روڈ ، داتا درباد ، امامیہ کالونی پھاٹک ، ایک موریہ پل ، بیگم کوٹ چوک ، بھٹہ چوک رائیونڈ ، غازی روڈ چونگی امرسدھو، مال روڈ ، ٹمبر مارکیٹ ، کاہنہ ، گجومتہ ، جگاور چوک ، شاہکام چوک ، والٹن روڈ ، شادیوال چوک ، ٹھوکر نیازبیگ چوک ، مغلپورہ ، ہربنس پورہ ، اچھرہ، فیصل چوک بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی ، ٹھوکر نیاز بیگ چوک میں پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی اور پتھراو کیا گیا جھڑپوں کے دوران پولیس افسران و اہلکاروں اور شہریوں سمیت 13افراد زخمی ہو ے جبکہ پولیس نے 200سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا اس موقع پر مشتعل مظاہرین میں مختلف اہم شاہراہوں پر ٹائر نذر آتش کیے ، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ہزاروں کارکن اور عہدیداران مال رود پر دھرنا دے کر بیٹھے رہے ۔لاہور سمیت بعض شہروں میں مظاہرین نے بازار اور مارکیٹیں بند کرا دیں ،مظاہروں کے باعث معمولات زندگی معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں کشیدہ صورتحال پر رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور میں میٹرو بس سروس معطل رہی۔

لاہور۔ مظاہرے

شیخو پورہ228 گوجرانوالہ228 سیالکوٹ 228فیصل آباد ( بیو رو رپورٹ228 نمائندگان سے) پورے ملک کی طرح پنجاب کے متعدد شہروں میں میں بھی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔کالا شاہ کاکو سے نامہ نگار کے مطابق جی ٹی روڈ مریدکے، منوں آباد اور کالا شاہ کاکو کے علاقوں میں بھی ٹائروں کو آگ لگا کر ہر قسم کی ٹریفک روک دی گئی۔ مظاہرین نے بچوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھما دیئے جنہوں نے چھوٹی موٹی توڑ پھوڑ کے علاوہ سائیکلوں ، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر سفر کرنے والے افراد، طلبہ و طالبات اور بزرگوں پر بھی ڈنڈے برسا دیئے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ ختم نبوت ﷺ کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو ہر صورت سزا دلوا کر رہیں گے۔ جگہ جگہ رکاوٹوں کے باعث لاہور اور دیگر علاقوں میں تعلیمی اداروں میں جانے والے طلبہ و طالبات اور ملازمین کو گھروں میں واپس آنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈنڈا بردار افراد نے کاروباری باری مراکز میں پہنچ کر ہر قسم کا کاروبار بند کرا دیا۔پولیس دونوں تھانوں کو تالے لگا کر بیٹھ گئی جبکہ بعض افسران اور اہلکاروں نے اہم جگہوں پر پہنچ کر مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پر امن رہنے کی تلقین کی۔شیخوپورہ سے بیوروپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے وکلاء نے بھی تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے شرکاء دھرنا کے خلاف ہونے والے آپریشن اور انکی گرفتاریوں کے خلاف ڈسٹرکٹ بار سے احتجاجی جلوس نکالا جو ضلع کچہری شیخوپورہ سے شروع ہو کر بتی چوک جا کر مرکزی دھرنا میں شریک ہوا ، وکلاء نے حکومت کے خلاف اور تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے حق میں نعرے بازی کی اس دوران اندرون شہر چلنے والی ٹریفک بھی جام ہو کر رہ گئی ۔علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالسعید اور جنرل سیکرٹری میاں لیاقت علی نے اسلام آباد میں دھرنا کے مظاہرین پر پولیس تشدد کے خلاف عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی کسی بھی عدالت میں کوئی بھی وکیل کسی بھی کیس میں پیش نہ ہوسکا تو دوسری طرف مختلف تحصیلوں سے آنے والے قیدیوں کو بھی پیشی پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے آپریشن بند کرکے مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو وکلاء برادری بھی اس دھرنا میں شریک ہوگی۔ فاروق آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کا احتجاجی جلوس اور دھرنا،مین لاہور سرگودھا روڈ بند،شرکاء کا فیض آباددھرنا شرکاء سے اظہار یک جہتی اور حکومت سے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ،تمام شہری،سیاسی ،سماجی تنظیموں کی بھرپور شرکت،تمام کاروباری مراکز بند۔تفصیلات کے مطابق فیض آباد دھرنے پر پولیس آپریشن کی خبر ملتے ہی فاروق آباد میں تحریک لبیک اوردیگر مذہبی تنظیموں نے ایک احتجاجی جلوس نکالااورکیو بی لنک کینال کے پل پر مین لاہور سرگودھا روڈ ڈمپر کھڑی کرکے بند کردی اور دھرنا دیا۔ دھرنے کی قیادت پیر سید مقدس شاہ ،سید تجمل شاہ اور دیگر علماء نے کی، دھرنے کے شرکاء نے حضور ﷺ کی آمد کے جھنڈے اورپلے کارڈاٹھا رکھے تھے جن پرحکومت سے فیض آباد آپریشن میں دھرنے شرکاء پر ظلم وستم بند کرنے ،آپریشن میں شہیدشرکاء کی FIRوزیر داخلہ ،وزیر ریلوے اوروزیر قانون کے خلاف درج کرنے اور وفاقی وزیر زاہد حامدکے استعفیٰ کے مطالبات درج تھے،انہوں نے فیض آبادکے مقام پر تحریک لبیک کے قائدین سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کیااور جلوس کے قائدین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگرفیض آباد دھرنے کے شرکاء پر مظالم بند نہ کیے گئے تو ملک بھر میں تحریک لبیک کے کارکن اور مسلمانان پاکستان تحریک لبیک کے قائدین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پورے ملک کو جام کردیں گے،فاروق آبادمرکزی انجمن تاجران کے صدر محمد اعظم شیخ ،کنفیکشنری انجمن کے حاجی نواز سیٹھی،انجمن تاجران اپروچ روڈ کے صدر محمد احمد مقبول اور تمام شہری، سیاسی ،سماجی تنظیموں کے ارکان نے بھی احتجاجی دھرنے میں بھرپورشرکت کی۔دھرنے کے شرکاء نے نماز ظہر اور نماز عصرکیوبی لنک کینال کے پل پر ہی اداکی۔مین لاہور سرگودھا روڈ بند ہونے کی وجہ سے نہروں کے دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں تک لمبی لائنیں لگ گئیں۔فیض آباد دھرنا شرکاء کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے فاروق آباد کے تمام تاجروں نے آج اپنے کاروباری مراکز بند رکھیے ۔دھرنا قائدین کا کہنا تھاکہ وفاقی وزیر زاہد حامد کے استعفیٰ تک دھرنا جاری رہے گا۔یاد رہے کہ PSO،شیل ،پارکو اور دیگر تمام آئل کمپنیوں کے مین ڈپو فاروق آباد کے علاقے ماچھیکے میں واقع ہیں تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے آج کسی بھی آئل ڈپو سے نہ کوئی گاڑی روانہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی گاڑی آسکی جس کی وجہ سے سارا دن تیل کی سپلائی بند رہی،اگر دھرنے کی یہی صورتحال رہی تو پورے ملک میں تیل کی قلت پیدا ہونے کابھی خطرہ ہے۔مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق ا دھرناپر پولیس کالاٹھی چارج کی خبر ملک بھر میں پھیلتے ہی مریدکے جی ٹی روڈ پر عاشقان مصطفی کے پروانوں نے سڑک پر ڈیرے ڈال لئے۔گردونواح میں مضافاتی علاقوں سے سنی تحریک کے پروانے بھی مرید کے پہنچ گئے۔مظاہرین نے نماز ظہر ۔عصر اور مغرب بھی جی ٹی وڈ پر ادا کی۔احتجاجی مظاہرین نے روڈ پر لائٹس کا اہتمام کر کے سڑک پر پنڈال سجا لئے۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز مریدکے میں بھی ملک بھر کی طرح شمع رسالت کے پروانوں نے اسلام آباد میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے پر پولیس کے لاٹھی چارج پراحتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔سڑک کے دونوں اطراف کی ٹریفک بلاک کر دی گئی اور مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہہم دھرنا کے شرکا ء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کرنے والوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔مقررین نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بعض امریکہ کے پٹھووں نے ملک میں فاشلزم پھیلانا چاہتے ہیں لیکن جب تک شمع رسالت کے پروانوں کی جان میں جان ہے ان کے یہ خواب پورے نہیں ہونے دیں گے۔دھرنا کے سیکڑوں شرکا ء نے نماز ظہر ۔عصر اور نماز مغرب بھی جی ٹی روڈ پر ادا کی۔بعد نماز مغرب قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسلام آباد سے کوئی حکم نہیں ملتا یہ دھرنا جاری رہے گا۔اس موقع پر عاشقان مصطفی کے دیوانے دھرنے کے شرکاء میں مشروبات اور کھانا بھی تقسیم کرتے رہے۔اس دوران مقررین نے کہا کہ اگر مقامی وزیر رانا تنویر حسین مستعفی ہو جائیں تو ان کا مریدکے کی عوام بھر پور ساتھ دیں گے بصورت دیگر مسلم لیگ کی حکومت کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے رئیس بلدیہ مریدکے شیخ شبیر احمد کے بھائی شیخ کبیر احمد ایڈووکیٹ کونسلر نے کہا کہ اگر حکومت وزیر قانون زاہد حامد اور ذمہ داران کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی تو وہ مسلم لیگ سے آج ہی مستعفی ہیں۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ خصوصی کے مطابق لبیک یارسول اللہ، سنی یوتھ فورس سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام اسلام آباد دھرنے پر جاری آپریشن کے دوران طاہر شہید چوک (مانانوالہ پھاٹک) اور ننکانہ شاہکوٹ روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا گیا اور مذکورہ روڈز کو ٹریفک کے لئے مکمل جام کردیا گیا اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر نعرہ بازی درج تھی جبکہ متعدد مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی اٹھا رکھے تھے ،مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم اسلام آباد جاری آپریشن دھرنے کے لوگوں اور اپنے اکابرین پر آنچ نہیں آنے دینگے ،جب تک اسلام آباد میں آپریشن نہیں رکے گا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے وکلاء کی بھی کثیر تعداد موقعہ پر پہنچی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت(ﷺ) اگر ہماری جان بھی چلی جائے تو ہم پرواہ نہیں کریں گے۔ننکانہ صاحب سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شہر بھر میں انٹرنیٹ کی سروس بند کردی گئی جس کے باعث دفتری معاملات اور کاروباری حضرات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کیبل آپریٹرز کی طرف سے نیوز چینلز بھی بند کر رکھے تھے ملک بھر میں جگہ جگہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث شہر سے باہر جانے والے افراد ٹریفک کی لمبی لائنوں میں پھنس کر رہ گئے جس پر ان کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے کے لئے سارا دن ایک دوسرے سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے رہے، شہریوں کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث آج عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اگر دھرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کر لئے جاتے تو آج عوام کو اس طرح ذلیل و خوار نہ ہونا پڑتا دوسری طرف ٹریفک جام ہونے سے مریضوں کو ہسپتال پہچانے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجبکہ اکثر باراتیں بھی روڈ بلاک ہونے کے باعث اپنی منزل کو نہ پہنچ سکیں۔نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق سلام آباد میں دھرنادینے والی دینی جماعتوں کے خلاف حکومتی آپریشن پرنارنگ منڈی وگردونواح میں مذہبی تنظیموں،انجمن تاجران ا ورسماجی تنظیموں کے ہزاروں افرادنے حکومت کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور پورے شہر میں جگہ جگہ ریلیاں نکالی گئیں تمام کاروباری ادارے احتجاجاً دن بھربندرہے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے گجرچوک پر دھرنا دیا کالاخطائی روڈ پر ٹائر جلاکر ٹریفک بند کردی گئی جس سے میلوں لمبی لائنیں لگ گئیں دھرناسے قاری محمدخالدچشتی،مولوی محمدعارف، نعیم الحسن سعیدی،اعظم علی باجوہ،ارشدمحمودباجوہ ، ظہیرارشدمغل،حاجی عبدالوحیدمغل اور اعظم علی باجوہ نے کہاکہ اسلام آبادمیں دھرنادینے والے عاشقان رسولﷺ پر کسی قسم کاریاستی جبر برداشت نہیں کیاجائے گا ناموس رسالتﷺ کے قانون میں خیانت کرنے والے شخص کو کسی اعلی عہدے پرفائزرہنے کا کوئی حق نہیں پاکستان کاکوئی بھی قانون قرآن وحدیث کے مخالف نہیں بن سکتا انہوں نے کہاکہ وزیرقانون زاہد حامدکو فی الفوربرطرف کیاجائے انہوں نے کہاکہ حکومت ختم نبوت میں ترمیم کرنے والی دیگرقوتوں کوبھی بے نقاب کرے ہم عدالت عظمی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے ترمیم کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لے انہوں نے کہاکہ حکومت نے دھرنے والوں پر زور آزمائی کرکے اچھاقدم نہیں اٹھایا حکومتی طاقت کے استعمال سے عوام میں نفرت پیدا ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور معاملے کو طول نہیں دیناچاہیے تھا تمام مذہبی جماعتوں نے حکومتی طاقت کے استعمال پر شدیداحتجاج کیا اور شدیدالفاظ میں حکومت کی مذمت کی ۔شیخوپورہ سے بیوروپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا فیروز والہ میں ریلوے پھاٹک کو بند کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے لاہور سے،گوجرانوالہ جانے والا ٹریک ٹریفک کے لیے معطل کردیا گیا جبکہ لاہور فیصل آباد ،کراچی اور دیگر شہروں میں جانے والی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیاگیا ہے ،شہر شیخوپورہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ کی وجہ سے بتی چوک میں ٹریفک جام ہوگئی جس سے فیصل آباد ،سرگودھا،گوجرانوالہ اورلاہور سمیت دیگر مختلف اضلاع کو جانیوالی ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی ، ڈنڈہ برداروں کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی جاری رہی اورسینکڑوں مشتعل ہونے والے مظاہرین کی جانب سے شہر بھر کی دکانوں اورمارکیٹوں کو بند کروادیا گیا ہے جبکہ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی پر تشدد اقدام نہ اٹھایا گیا جس کے باعث پولیس اور مظاہرین کے مابین کشیدگی مزید بڑھ نہ سکی، علاوہ زیں احتجاجی مظاہرین میں شامل علماء کرام اور مختلف مذہبی جماعتوں کے ارکنان کی طرف سے خطابات کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہا اور شرکاء دھرنا کی تعداد بھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑھتی رہی، دوسری طرف ڈی پی اوشیخوپورہ سرفراز احمد خان کے حکم پر 600سے زائد پولیس اہلکاروں کو لاٹھیوں اورسیفٹی آلات سے لیس رکھا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے، 6پریزنل وینز بھی لائی گئیں جن کا مقصد پر تشدد کاروائیوں کی صورت میں دھرنا مظاہرین کی گرفتاریاں عمل میں لانا تھا جبکہ تحریک لبیک یارسول ﷺ کے درجنوں لاٹھی بردار نوجوان گوجرانوالہ روڈ کوٹ رنجیت موٹروئے پر پہنچ گئے جنہوں نے موٹروئے کی ٹریفک کو معطل کردیا،مشتعل مظاہرین کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی مسلسل جاری رہی ۔دریں اثناء بتی چوک شیخوپورہ میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے دھرنا کے باعث مسافر رل کر رہ گئے ، کئی مسافروں کو خواتین اور بچوں کے ہمراہ میلوں سفرپیدل طے کرنا پڑا، بعض مسافر سارادن ٹرانسپورٹ اڈوں میں ہی دھرنہ ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے مگر رات گئے تک یہ دھرنا ختم نہ ہوسکا تلونڈی سے نامہ مہ نگار ک۶ے مطابق فیض آباد آپریشن کے بعد تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنان نے تلونڈی میں احتجاج کیاقصور دیپالپور روڑ ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند انتظامیہ کے آنے پر مظاہرین سے مذکرات کامیاب طے کچھ ہی دیر بعد احتجاج ختم کردیا گیا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا تلونڈی میں بھی مظاہرین نے ٹائر جلا کر قصور دیپالپور روڑ ٹریفک کے لئے بند کردیا احتجاج میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف بینر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں پکڑ کر نعرے بازی کی متعدد مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی نظر آئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مقامی پولیس تھانہ الہ آباد کے ایس ایچ او ملک کفائیت اور اے سی چونیاں احمد رضا بٹ کے آنے پر دھرنے میں شریک مظاہرین سے مذکرات طے پانے کے بعد روڑ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔سانگلاہل سے تحصیل رپورٹر کے مطابق سانگلاہل میں تحریک لبیک یا رسول اللہ اور دیگر مذیبی تنظیموں نے فیض آباد دھرنے پر شرکاء میں تشدد اور آنسو گیس کی شیلنگ کرنے پر احتجاجی ریلی نکالی اور رضا چوک میں احتجاجی دھرنا دیا جو رات گئے تک جاری رہا، احتجاجی دھرنا میں علماء کرام، سول سوسائٹی اور طلباء سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، احتجاجی دھرنے میں تحریک کے تحصیل امیر پیر محمد عاصم ندیم چشتی،پیر محمد ضیاء المصطفیٰ رضوی،مولانا محمد شفیق مجددی و دیگرنے خطاب کیا اور کہا کہ حکومت پاکستان نے فیض آباد میں عاشقان رسول پر تشدد کر کے مسلمانوں کے جذبے کو للکار ہے، جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان نبی کریم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر دھرنوں میں شامل افراد عشق رسول کے جذبے سے سر شار ہیں،انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا جاری رہیگا،انہوں نے کہا کہ حکومت ختم نبوت حلف حزف کرنے مجرموں کیخلاف کارروائی کرنے بجائے شمع رسالتؐ کے پروانو پر وحشیانہ تشدد کرکے ملکی حالات کو بگاڑ رہی ہے عقیدہ ختم نبوت ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، اسلامیان پاکستان ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کرنیوالے قادیانی ایجنٹوں کو انکے عہدوں سے برطرفی تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے، غیور مسلمان سب کچھ قربان کرسکتے ہیں لیکن وہ آقا کریمؐ کی ختم نبوت و ناموسِ رسالتؐ کیخلاف کسی بھی ناپاک سازش کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتے ۔جڑانوالہ سے سٹی رپورٹر کے مطابقلبیک یا ر سول اللہ ﷺ اسلام آ باد دھرنا پر پولیس اور حکو مت کی طرف سے کا رکنو ں پر تشدد اور انتقا می کا رروائیوں کے خلا ف مختلف دینی جما عتو ں کا پر یس کلب کے با ہر احتجاج ۔ کا رکنو ں کی پکڑ دکڑ اور علما ئے اکرام کے خلا ف کا رروائیو ں کی شد ید مذمت ۔ تفصیلا ت کے مطا بق اسلام آ باد دھر نا پر پولیس کی طرف سے تشدد کر نے پر دینی جما عتو ں کے راہنما ؤ ں مفتی محمد یو نس، مہر محمد افضل و دیگر سا جد محمود قا دری را ئے صلا ح الدین ایڈووکیٹ، احسان الحق عا جز قا دری ، غلام صا بر ہیرا و دیگر ا ن نے پر یس کلب کے با ہر ایک احتجا جی مظا ہر ہ سے خطا ب کر تے ہو ئے کہا تحفظ نا مو س رسا لت ﷺ پر اپنی جا نیں قربا ن کر نے کیلئے تیا ر ہیں حکو مت فو ری طو ر پر وفا قی وزیر زا ہد حا مد کو فا ر غ کریں اور شر کا ء دھرنا پر تشدد کو روکیں ور نا ہما رے کا رکن سڑکو ں پر آ کر احتجا ج کر نے پر مجبو ر ہو جا ئیں گے۔ چونیاں سے نامہ نگار کے مطابق )تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ چونیاں کی طرف سے اسلام آباد دھرنے کی حمایت میں چونیاں روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء آنسو گیس ، ربڑ کی گولیاں ، فائرنگ ، تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی اور مطالبہ کیاگیا کہ وزیر قانون کو زاہد حامد کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور اس کے پیچھے محرکات کا بھی سراغ لگایا جائے ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کے اقدامات بھی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف بھی نعرہ بازی کی گئی اور شرکا ء کئی گھنٹے چونیاں روڈ بند رکھا لمبی لمبی ٹریفک کی لائنیں لگی رہی ، شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منکرین ختم نبوت کے لئے موت ثابت ہوگی ۔ اور اب حکومت ٹھہرنا مشکل ہو چکا ہے ۔ صفدرآباد سے تحصیل رپورٹر کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ٹی وی چینلز کے ذریعے فیض آباد دھرنے کے شرکاء پر پولیس تشدد کی اطلاع ملتے ہی تحریک لبیک یا رسول اللہﷺصفدرآباد کے کارکن باہر نکل آئے۔اور میلاد چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مولاناحافظ عبدالرؤف سالک اور مولاناعابد سلطانی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔مذہبی تنظیموں کی طرف سے متفقہ طور پر مورخہ 26نومبر بروز اتوار کوشٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے ۔میلاد چوک میں دھرنابھی ہو گا۔کمالیہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق اسلام آباد دھرنے شرکاء پر پولیس تشدد کیخلاف سنی تحریک کمالیہ اور جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام احتجاجی جلوس، تھانہ چوک کمالیہ میں احتجاجی دھرنا۔ شہر کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کو چھٹی کروادی گئی۔ مرکزی انجمن تاجران کمالیہ کی اپیل پر کمالیہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ عوام لیگ پاکستان نے بھی اسلام آباد دھرنا کی حمایت کا اعلان کردیا ۔ زیر قیادت مولانا محمد صادق سیالوی ، کرم علی سیدی، مولانا منظور اللطیف قمر قادری ، جنرل سیکرٹری انجمن تاجران کلیم اللہ طور، صدر بار ایسوسی ایشن کمالیہ مہر یٰسین درسانہ ایڈووکیٹ تھانہ چوک کمالیہ میں ہزاروں افراد نے اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء پر تشدد کیخلاف احتجاجی دھرنا دیا۔ جس سے کمالیہ چیچہ وطنی اور فیصل آباد روڈ ٹریفک معطل رہی۔ دھرنے کے شرکاء سے سربراہ عوام لیگ ریاض فیتانہ ، ممبر ضلعی امن کمیٹی مولانا صادق سیالوی، جماعت اہلسنت کمالیہ کے چیف آرگنائز مولانا منظور اللطیف قمر قادری ، عالم دین کرم علی سیدی ، جنرل سیکرٹری انجمن تاجران کلیم اللہ طور وہ دیگر افراد نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ نااہل نواز شریف کی خاطر قانون بدلا جا سکتا ہے تو ختم نبوت کے لئے وزیر کی قربانی کیوں نہیں دی جا سکتی۔ دھرنے کے حساس معاملے میں فوج کو ملوث نہ کیا جائے۔ حکمران '' حکومت گراؤ تحریک '' چلانے پر مجبور نہ کریں۔ جائز مطالبہ نہ ماننے والی حکومت خود دھرنے کی طوالت کی ذمہ دار ہے۔ دھرنے کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے کا واویلا کرنے والے حکمرانوں کے گھروں کے سامنے بند ہونے والے راستوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے۔ حکمرانوں کی آمد و رفت پر سڑکیں بند کرنے کا کیا جواز ہے۔ حکومت کو بتانا پڑے گا کہ ختم نبوت حلف نامہ کس کے کہنے پر تبدیل کیا گیا۔ ترمیم کرنے والوں کا جرم ناقابل معافی ہے۔ نواز شریف سے ہاتھ ملانے والا سیاستدان زیرو ہو جائے گا۔ ملک کو کرپٹ مافیا سے نجات دلانے کے لئے قوم اٹھ کھڑی ہو۔ سرد موسم میں گرم سیاست ہو گی۔ نواز شریف اور اس کے حواریوں کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔ گوجرہ سے نما ئندہ خصوصی کے مطابق ختم نبوت ؐ پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں ۔شمع رسالت کے پروانے اپنے آقاء ؐ کی ناموس پر ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔لبیک یارسول اللہ ؐ کے اسلام آباد دھرنے پر پولیس کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کر تے ہیں۔وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی تک دھر نے ختم نہیں ہو نگے۔ہم مقدمات سے ڈرنے والے نہیں حکومتی اوچھے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ان خیالات کااظہار چوک ملکانوالہ میں تحریک لیبک یارسول اللہ ؐ کے زیر اہتمام دئیے گئے احتجاجی دھر نے سے خطاب کر تے ہو ئے مقررین سید عبدالصمد شاہ،شیخ محمد خالد رضوی،ملک محمد اشفاق،قاری مفتی محمد ےٰسین،کونسلرشیخ محمد تنویر،رانا محمد طارق،چےئرمین پاکستان نیشنل مسلم لیگ چوہدری امجد علی وڑائچ،توقیراحمد خان ایڈووکیٹ سمیت دیگر نے کیا۔دھرنے میں دیگرتنظیمات اہلسنت تنظیموں کے قائدین نے بھی شرکت کی۔مقررین نے کہاکہ حکومت نے اپنے آقاؤں یہودیٰ ونصاری کو خوش کر نے کیلئے فیض آباد دھرنے کے شرکاء پر اندھا دھند آنسو گیس شیلنگ کر کے ظلم کی انتہا کی ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس کی طرف سے تاجدارختم نبوت کے عاشقان اپنے سینے تان کر کھڑے رہیں گے۔اور دھرناجاری رہے گا اس موقع پر ڈی ایس پی گوجرہ چوہدری اظہر یعقوب پولیس کی بھاری نفری سمیت موجود رہے۔شورکوٹ(نمائندہ خصوص )لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کا تحصیل چوک میں جھنگ ملتان روڈ بلاک کر احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت مہتمم مدرسہ جامعہ سلطانیہ شورکوٹ مفتی نصیر الدین نصیر ‘ علامہ ارشد قادری ‘ پیر ذیشان شاہ ہاشمی ‘ پیر طاہر شاہ بخاری ‘ ڈاکٹر ریاض سیفی ‘ علامہ دلاور حسین وادری ‘ چوہدری محمد اشرف نے کی اس احتجاجی مظاہرہ میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور جھنگ ملتان روڈ بلاک کر کے شدید نعرہ بازی کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے ختم نبوت کے معاملہ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔حافظ آباد سے نمائندہ پاکستان کے مطابق حافظ آباد کے نواحی گاؤں ٹھٹھی بہلول پور کے قریب مظاہرین پر پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، چار شدید زخمی ۔ فائرنگ کے بعد پولیس جائے وقوعہ سے غائب ہوگئی۔ مظاہرین کئی گھنٹے تک جاں بحق ہونے والی نعش رکھ کر پولیس اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے رہے۔ ٹھٹھی بہلول پور کے قریب سینکڑوں افراد نے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء پر تشدد کے خلاف لاہور سرگودھا روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک کو بلاک کردیا۔ اس دوان وہاں پر پنڈی بھٹیاں پولیس نے پہنچ کر ٹریفک کو بحال کروانے کی کوشش کی تو مظاہرین اور پولیس میں آنکھ مچولی ہوگئی جس پر مبینہ طور پرپنڈی بھٹیاں پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی ۔اس کے نتیجہ میں ایک شخص ابوسفیان ولد سیف اﷲ موقع پر جاں بحق جبکہ چار افراد جہانگیر، ظہور احمد، سرفرازاور منظور احمد شدید ذخمی ہوگئے جن میں سے دو کو تشویشناک حالت میں الائیڈ ہستپال فیصل آباد ریفر کردیا گیا۔ فائرنگ کے بعد پولیس ملازمین موقع سے فرار ہوگئے۔ مظاہرین نے ہلاک ہونے والے کی نعش کو سڑک پر رکھ کر کئی گھنٹے تک پولیس اور ڈی۔ایس۔پی پنڈی بھٹیاں کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ان پر پولیس نے جان بوجھ کر فائرنگ کی ۔ حالانکہ انکا احتجاج پرامن تھا۔دوسری جانب پولیس موقف دینے سے کتراتی رہی ہیں۔وزیرآباد سے نا مہ نگار کے مطابق تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ ،جماعت اہلسنت کی جملہ تنظیمات اورانجمن طلباء اسلا م کے زیراہتمام فیض آباددھرنے کے شرکاء پر پولیس تشدد کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت پروفیسرڈاکٹر محمدآصف ہزاروی، حافظ محمدکاشف چشتی،قاری سعید احمدارشد،علامہ حمادالدین صدیقی، علامہ محمدعمران کیلانی،ملک محمدیوسف چاند، محمدرفیق جھگی،ڈاکٹر شہزادقادری، محمداعظم کلیر،شبیر اکرم چیمہ، وقار اشرف کلیر،شہزاداحمدمجددی،باوا محمدنسیم، علامہ رضا شیرازی، زبیر حنیف، حامد سعید،عمررضا،عرفان رفیع،محمدعرفان ودیگر نے کی۔پروفیسرڈاکٹر محمدآصف ہزاروی، حافظ محمدکاشف چشتی،قاری سعید احمدارشد،علامہ حمادالدین صدیقی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اقتدار میں بیٹھے قادیانیوں کے حمایتیوں کو نکال باہر کیا جائے ۔مرکزی امیر تحریک لبیک یا رسول اللہ خادم حسین رضوی کا اسلام آباد دھرنا اور مطالبات ہر کلمہ گو مسلمان کے دل کی آواز ہیں اوردھرنے والوں پرپولیس گردی کے خلاف شدیدمذمت کی۔حافظ آباد سے نمائندہ پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں تحریک لبیک یارسول اﷲﷺکے شرکاء پر تشدد کے خلاف یہاں شہربھی کی سنی تنظیموں جماعت اہلسنت ، سنی تحریک، جے۔یو۔پی۔ بزم کیلانی، جماعت الصفہ، سنی فیڈریشن کے کارکنوں اور شہریوں نے مختلف مقامات سے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور بعدازاں انہوں نے فوارہ چوک میں احتجاجی دھرنا دیا۔جس سے سید عثمان شاہ نقوی، علامہ رانا محمد اصغر چشتی، علامہ فیصل ندیم کیلانی، مولانا غلام مصطفے سلطانی و دیگر نے خطاب کیا۔ جبکہ شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں میں احتجاجا مکمل ھڑتال بھی کی گئی۔ سنی علماء اور مختلف کاروباری اور سماجی تنظیموں کے راہنماؤں نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے لئے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کرکے حکمرانوں نے پورے ملک کو انارکی میں مبتلا کردیا ہیگوجرنوالہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق جماعت اہلسنت، انجمن طلباء اسلام اور مصطفائی تحریک کے زیر اہتمام سیالکوٹ روڈ فتومنڈ سے میلاد ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پیر سید احمد رضا جماعتی،چوہدری اقبال ہنجرا،شاذب چٹھہ،منیر قادری،ڈاکٹر احمد نورانی ودیگرنے کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے عشق کا اظہار کرنے کے یہ بہترین لمحات ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد ہر مسلمان کیلئے مسرت وشادمانی کا عظیم تحفہ لے کر آتا ہے، ربیع الاول رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ہر مسلمان کو محافل میلاد میں شرکت کر کے اپنے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا والہانہ اظہار کرنا چاہیے۔ ریلی میں سینکڑوں موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور پیدل شرکا شریک تھے۔ ریلی کے شرکا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والے کتبے وبینرز اٹھا رکھے تھے۔ شرکائے ریلی کی مثالی عقیدت، عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جوش دیدنی تھا۔ وہ سیدی مرشدی یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور غلام ہیں غلام ہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہیں کے نعرے لگا رہے تھے۔ میلاد ریلی جہاں سے بھی گزری فضا درود وسلام سے معطر ہوتی گئی۔مقررین نے کہا کہ کائنات کا وجود آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کا مرہون منت ہے۔ آج امت مسلمہ اپنی زندگی میں شامل ہر خرابی کو ختم کرنا چاہتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لے۔ فکر اسلامی کی بیداری کیلئے گھر گھر جشن عید میلاد النبی کی محافل کا انعقاد ضروری ہے۔ ا نہوں نے کہا آج ہمیشہ کی طرح علما مشائخ طلبا کا میلاد ریلی میں جوش و خروش دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل بھی ماضی کی طرح روشن ہے ۔اس موقع پر اے ٹی آئی کے ضلعی ناظم چوہدری شازب علی چٹھہ ،مصطفائی تحریک کے ڈویژنل صدر چوہدری محمد اقبال ہنجرا،ملک نصیر نقشبندی ،محمد سلیم قادری،چوہدری امجد انصاری،باؤ نوید انجم ، محمداصضرباجوہ،ارسلان خالد بٹ،محمد عمر رضا ،محمد داؤد مصطفی قادری،ڈاکٹر احمد نورانی نے بھی خطاب کیا ۔ سمبڑیال سے نمائندہ پاکستان کے مطابق فیض آباد اسلام آباد دھرنا مظاہرین پر اپریشن کرنے کے خلاف مذہبی جماعتوں سمیت وکلاء نے چوک موڑ سمبڑیال پر سیالکوٹ وزیرآباد روڈ ،ڈسکہ روڈ ،ایئرپورٹ بند کر کے اجتماعی مظاہرہ ،معززین کا حکومت پر تنقید پی?

مزید : کراچی صفحہ اول