نشریات پر پابندی فورا ختم کی جائے

نشریات پر پابندی فورا ختم کی جائے

اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان دھرنا دے کر ان دونوں کا رابطہ منقطع کرنے والے ایک مذہبی گروہ کے خلاف اقدام کے بعدکئی شہروں میں احتجاج شروع ہوا تو حکومت پاکستان نے الیکٹرانک میڈیا کی نشریات پر پابندی عائد کردی۔ اس کے ساتھ ہی فیس بک، ٹویٹر اور یو ٹیوب کو بھی بند کردیا گیا۔ یوں اہل پاکستان غیر ملکی نشریاتی اداروں اور افواہ سازوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے۔ اس عاجلانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کا مشورہ جس نے بھی دیا وہ ہرگز حکومت کا بہی خواہ نہیں ہوسکتا جو حکومت آنکھیں بند کرکے اس طرح کے مشورے کو تسلیم کرلے اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی کوئی مثبت رائے ظاہرکرنا آسان نہیں رہتا۔

یہ درست ہے کہ مظاہروں اور ہنگاموں کی غیر ذمہ دارانہ لائیو کوریج سے جذبات مشتعل ہو سکتے اور آگ زیادہ بھڑک سکتی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری تھا کہ میڈیا تنظیموں (خصوصاً پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن) کے ساتھ بیٹھ کر کوریج کی حدود و قیود طے کر لی جاتیں۔ یہ فیصلہ کیا جا سکتا تھا کہ کون سے مناظر لائیو دکھانے سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔ مگر اس آسان اور سیدھے راستے کے بجائے معاملات کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا۔ آزادی اظہار کا بنیادی حق شدت سے مجروح ہوا اور مطلوبہ مقاصد بھی برآمد نہیں ہوئے۔دھرنے کے خلاف ابتدائی کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس احتیاط کا مظاہرہ کیا، اس نے ایک اچھا تاثر چھوڑا تھا۔ دھرنے کے شرکاء اور مختلف شہروں میں سرگرم مظاہرین نے املاک پر جو حملے کئے اور افراد کو جو نشانہ بنایا، اگر اس کے مناظر لوگ براہ راست دیکھ سکتے تو اس سے احتجاج کرنے والوں ہی کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوتی۔

ہم نشریاتی اداروں پر پابندی کے اس اقدام پر شدید احتجاج کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ پابندی فی الفور ختم کی جائے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوریج پر زور دیا جا سکتا ہے، اس کے لئے اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں لیکن لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہمیں امید ہے کہ اس غلطی کا فوری ازالہ کیا جائے گا اور یہ پابندی فی الفور اٹھالی جائے گی۔

(ایڈیٹر)

مزید : کراچی صفحہ اول